طالبان سے مذاکرات امریکا نے پاکستان کے مطالبے پر ڈرون حملے محدود کردیے مکمل بندش چاہتے ہیں دفتر خارجہ

امریکا ڈرون حملے بند کرے اس میں نہ صرف معصوم لوگ مارے جاتے ہیں بلکہ یہ ہماری خود مختاری کے بھی خلاف ہے،تسنیم اسلم

’پہلے امریکا یہ تو ثابت کرے کہ القاعدہ کا کوئی سینئر رہنما پاکستان میں موجود ہے۔ اے ایف پی/ فائل

پاکستان نے تحریک طالبان پاکستان کیساتھ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے اور ممکنہ طور پر ''سبوتاژ'' ہونے سے بچانے کیلیے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ مذاکراتی عمل کے دوران ڈرون حملوں سے اجتناب کیاجائے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق امریکا سے یہ مطالبہ ایک بار پھر ''سفارتی چینلز'' کے ذریعے کیاگیا ہے۔ واشنگٹن میں تعینات ایک پاکستانی سفارت کار نے بتایا کہ ڈرون حملے روکنے کا مطالبہ اسلام آباد میں امریکی سفارت کاروں تک پہنچایا گیا ہے اور واشنگٹن میں بھی اعلیٰ امریکی حکام سے اس حوالے سے بات چیت کی گئی ہے۔ مشیر برائے امور خارجہ وقومی سلامتی سرتاج عزیز جو حال ہی میں ''اسٹرٹیجک ڈائیلاگ'' کے سلسلے میں امریکی دورے پر تھے۔ وہاں انھوں نے اپنے امریکی ہم منصب جان کیری اور دیگر اعلیٰ حکام کیساتھ ڈرون حملوں کا معاملہ اٹھایا ۔ امریکی حکام کو بتایاگیا ہے کہ پچھلی بار جب تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات شروع ہونے کا عمل ابتدائی مراحل میں تھا تو طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی وجہ سے سارا سلسلہ رک گیا ۔ اگر اب مذاکراتی عمل کے دوران کوئی حملہ ہوا تو خدشہ ہے کہ دوبارہ سارا عمل سبوتاژہوسکتا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق امریکی ردعمل کے بارے میں کچھ وثوق سے نہیں کہاجاسکتا مگر ڈرون حملوں میں واضح طور پر کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکا ''سفارتی چینلز'' کے ذریعے ڈرون حملوں کے مسئلے کو ہمیشہ کیلیے حل کرنے کیلیے بھی کوشاں ہیں اور ان کاوشوں کے نتیجے میں دونوں ممالک ''مفاہمت'' کی جانب بڑھ رہے ہیں ۔ اسی مفاہمت کا نتیجہ ہے کہ ڈرون حملے بہت حد تک کم ہوگئے ہیں۔ ایک سفارتی ذریعے نے بتایا کہ امریکا اب شاید صرف وہ ڈرون حملے کرے گا جو القاعدہ اور طالبان کے سرکردہ لیڈروں کے خاتمے کیلئے ہو ۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ2014ء کے بعد جب امریکا اپنی زیادہ تر افواج افغانستان سے نکال دے گا ،ڈرون حملے مکمل طور پر بند ہوجائیں ۔ اس کا تمام تر دارومدار تاہم امریکا کے افغانستان کیساتھ ممکنہ طور پر ہونیوالے ''سلامتی کے باہمی سمجھوتے''پر بھی ہیں ۔

یہ سمجھوتہ امریکا کو اس بات کی اجازت دے گا کہ وہ اپنی نیٹو فوج 2014ء کے بعد بھی افغانستان میں رکھے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اگر امریکا اور افغانستان کا یہ معاہدہ نہیں ہوتا تو امریکی حکام کے پاس افغان سرزمین پر اپنے اڈے قائم رکھنا مشکل ہوجائیگا اور ساتھ ہی ڈرون حملے جاری رکھنا بھی ایک مشکل ترین ہدف بن جائیگا۔ پاکستان کے اس مطالبے سے قطع نظر کہ ڈرون حملوں کو بند کیاجائے ،کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ ڈرون حملے اگر پاکستان کے مطالبے پررک بھی جائیں تو ان کا طالبان کیساتھ مذاکراتی عمل پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا ۔ سلامتی سے متعلق امور کے ماہر محمد عامر راناکا کہنا ہے کہ پچھلے کافی عرصے سے ڈرون حملے نہیں ہوئے لیکن اس کے باوجود پاکستان اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مذاکرات شروع نہیں ہوسکے۔ میرے خیال میں ڈرون حملوں کو ایک سیاسی مسئلہ بنادیاگیا ہے،جتنا طالبان کے مطالبات کچھ اور ہوں گے جیسا کہ قبائلی علاقوں سے پاک فوج کی واپسی اور اگر ایسے مشکل مطالبات تسلیم کیے جاسکتے ہوں تو طالبان قائدین کو زیادہ تشفی ہوگی ۔




دوسری جانب امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی حکام کاکہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ نے پاکستان کی طرف سے طالبان کیساتھ مذاکرات کے دوران ڈرون حملے روکنے کی درخواست کے بعد پاکستان کی سرزمین پر ڈرون حملوں کو بہت حد تک محدود کر دیا ہے ۔ اخبار نے پاکستان کی درخواست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ 'انھوں نے یہی مانگا اور اس کا ہم نے نفی میں جواب نہیں دیا' تاہم اخبار کے مطابق امریکی انتظامیہ نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ وہ سامنے آنے والے القاعدہ کے سینئر رہنمائوں کیخلاف کارروائی کرے گی اور امریکا کو لاحق کسی بھی براہ راست خطرے کو ٹالنے کیلیے اقدام کرے گی ۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکہ کی طرف سے گزشتہ سال دسمبرسے ڈرون حملوں میں وقفے کی وجہ پاکستان کی سیاسی خدشات ہیں ۔ 2011 میں سلالہ چیک پوسٹ پر فضائی حملے کے بعد ڈرون حملوں میں6 ہفتے کے وقفے کے بعد یہ سب سے لمبا وقفہ ہے۔

ڈرون حملوں میں موجودہ کمی نومبر میں تحریکِ طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد کی گئی جب پاکستانی حکومت اور طالبان کے درمیان کے مذاکرات کی کوششیں ابتدائی مرحلے میں تھیں۔ اس حملے کے بعد طالبان نے مذاکرات سے انکار کر دیا تھا اور پاکستان کی حکومت نے امریکا پر ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ اخبار کے مطابق ایک سینئر امریکی اہلکار نے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا ' امریکی ڈرون حملوں کو محدود کرنے کے سلسلے میں پاکستان کیساتھ کوئی غیر رسمی معاہدہ نہیں کیا گیا' ۔ انھوں نے مزید کہا 'طالبان کیساتھ مذاکرات کا معاملہ مکمل طور پر پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے'۔سینئر امریکی اہلکار نے موضوع کی نزاکت کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا 'امریکی انتظامیہ افغانستان کے میدانِ جنگ اور اس سے باہر کے اطراف میں متحرک دشمن کی طرف سے خطرات کی انسدادِ دہشت گردی کے مقاصد اور قانون اور پالیسی کے معیار کے مطابق نشاندہی کر کے اسے ختم کرنے کے عمل کو جاری رکھے گی اور یہ اطلاعات غلط ہیں کہ ہم پاکستان میں امن مذاکرات کی حمایت میں اپنی پالیسی بدلنے پر متفق ہو گئے ہیں۔

ادھر پاکستان نے اس خبر پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ڈرون حملوں کی جزوی نہیں بلکہ مکمل بندش چاہتا ہے۔ بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا 'حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بڑے عرصے سے مطالبہ کر رہا ہے کہ امریکا ڈرون حملے بند کرے کیونکہ اس میں نہ صرف معصوم لوگ مارے جاتے ہیں بلکہ یہ ہماری خود مختاری کے بھی خلاف ہے'۔ انھوں نے مزید کہا 'گوکہ تحریک طالبان کے دنیا میں رابطے ہیں مگر وہ پاکستانی شہری ہیں اس لئے ان سے مذاکرات کا معاملہ پاکستان کا اندورنی معاملہ ہے'۔ کسی خطرے کو ٹالنے سے متعلق امریکی انتظامیہ کے موقف کے ردعمل میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا 'پہلے امریکا یہ تو ثابت کرے کہ القاعدہ کا کوئی سینئر رہنما پاکستان میں موجود ہے'۔ انھوں نے کہا 'بین الاقوامی سطح پر یہ بات تسلیم کی جا رہی ہے کہ ڈرون حملے نقصان دہ ہیں' ۔ اس بارے میں انہوں نے اقوام متحدہ میں ڈرون حملوں کی قانونی حیثیتپرکیے گئے سوالات پر مبنی قرادار کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا 'امریکی صدر اوباما نے اپنے اسٹیٹ آف دا یونین خطاب میں تسلیم کیا ہے کہ ڈرون حملوں کا الٹا اثر ہو رہا ہے جس کا پاکستان خیر مقدم کرتا ہے۔
Load Next Story