بابرالیون نے ماضی کی ٹیموں کوپیچھے چھوڑ دیا
پاکستانی اسکواڈ تاریخ میں پہلی بار گروپ مرحلے میں ناقابل شکست رہا۔
ناک آؤٹ میچز میں آسٹریلیاسے ہارنے کی روایت ختم کرنے کا موقع ۔ فوٹو : فائل
کارکردگی میں تسلسل کے معاملے میں بابر اعظم الیون نے ماضی کی ٹیموں کو پیچھے چھوڑ دیا۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے گروپ ٹو میں شامل گرین شرٹس اپنے تمام 5 میچز جیت کر سر فہرست رہے،پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ قومی ٹیم گروپ میچز میں ناقابل شکست رہتے ہوئے کسی میگا ایونٹ کے سیمی فائنل میں پہنچی ہے،گرین شرٹس نے11ویں بار آئی سی سی ایونٹس کے فائنل فور میں جگہ بنائی،ان میں 50 اوورز کے 6اور ٹی ٹوئنٹی کے 4ورلڈکپ شامل ہیں۔
دریں اثناء کسی بھی فارمیٹ میں بھارت کو شکست دینے والے پہلے پاکستانی کپتان بابر اعظم جمعرات کو سیمی فائنل میں ایک اور اعزاز حاصل کرسکتے ہیں،اس سے قبل پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹیمیں 3بار 50 اوورز، ایک بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے ناک آؤٹ میچز میں مقابل ہوئی ہیں،چاروں بار گرین شرٹس کو کینگروز کی دیوار گرانے میں ناکامی ہوئی۔
ورلڈ کپ1996 کے سیمی فائنل میں 18 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا،ورلڈکپ 1999 کے فائنل میچ میں 8وکٹ سے ناکامی ہوئی، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ2010 کے سیمی فائنل میں سنسنی خیز مقابلے بعد 3وکٹ سے مات ہوئی، ورلڈکپ 2015 کے کوارٹر فائنل میں 6وکٹ سے شکست کا منہ دیکھنا پڑا، ان تمام میچز میں کینگروز نے ہدف کا تعاقب کیا۔
دبئی کی کنڈیشنز میں ہدف کا تعاقب آسان سمجھا جا رہا ہے،اس لیے سیمی فائنل میں ٹاس اہمیت کا حامل ہوگا۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے گروپ ٹو میں شامل گرین شرٹس اپنے تمام 5 میچز جیت کر سر فہرست رہے،پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ قومی ٹیم گروپ میچز میں ناقابل شکست رہتے ہوئے کسی میگا ایونٹ کے سیمی فائنل میں پہنچی ہے،گرین شرٹس نے11ویں بار آئی سی سی ایونٹس کے فائنل فور میں جگہ بنائی،ان میں 50 اوورز کے 6اور ٹی ٹوئنٹی کے 4ورلڈکپ شامل ہیں۔
دریں اثناء کسی بھی فارمیٹ میں بھارت کو شکست دینے والے پہلے پاکستانی کپتان بابر اعظم جمعرات کو سیمی فائنل میں ایک اور اعزاز حاصل کرسکتے ہیں،اس سے قبل پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹیمیں 3بار 50 اوورز، ایک بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے ناک آؤٹ میچز میں مقابل ہوئی ہیں،چاروں بار گرین شرٹس کو کینگروز کی دیوار گرانے میں ناکامی ہوئی۔
ورلڈ کپ1996 کے سیمی فائنل میں 18 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا،ورلڈکپ 1999 کے فائنل میچ میں 8وکٹ سے ناکامی ہوئی، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ2010 کے سیمی فائنل میں سنسنی خیز مقابلے بعد 3وکٹ سے مات ہوئی، ورلڈکپ 2015 کے کوارٹر فائنل میں 6وکٹ سے شکست کا منہ دیکھنا پڑا، ان تمام میچز میں کینگروز نے ہدف کا تعاقب کیا۔
دبئی کی کنڈیشنز میں ہدف کا تعاقب آسان سمجھا جا رہا ہے،اس لیے سیمی فائنل میں ٹاس اہمیت کا حامل ہوگا۔