حکومت کی آئی ایم ایف کو 6 اداروں کی نجکاری اور بجلی پر سبسڈی میں کمی کی یقین دہانی
انرجی اینڈ کنزرویشن ایکٹ کا مسودہ جلد مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں پیش کردیا جائیگا.
اوگرا نے گیس کمپنیوں کی درخواستوں پر سماعت مکمل کرلی، جلد نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری ہوگا، پاکستانی ٹیم کی دبئی میں آئی ایم ایف جائزہ مشن کو بریفنگ، کل پھر مذاکرات ہونگے۔ فوٹو: فائل
پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کے درمیان دبئی میں جاری مذاکرات میں پالیسی سطح کے مذاکرات کا دور کل جمعے سے شروع ہوگا جبکہ گزشتہ روز مذاکرات کے پانچویں دور میں پاکستان کی اقتصادی ٹیم کی طرف سے آئی ایم ایف جائزہ مشن کو پاورسیکٹر اورگیس کے شعبہ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے جائزہ مشن کو بتایا گیا ہے کہ اس کے علاوہ حکومت کی طرف سے مارچ 2014 ء تک 6سرکاری اداروں کی نجکاری کیلیے فنانشل ایڈوائزرز تعینات کرنے کے حوالے سے بھی پراسیس جاری ہے اور توقع ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے جلد فنانشل ایڈوائزر کی تعیناتی کردی جائیگی۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی ٹیم نے آئی ایم ایف کوبتایاکہ بجلی پردی جانیوالی غیرضروری سبسڈی بتدریج ختم کی جارہی ہے اور پہلے مرحلے میں سبسڈی میں خاطر خواہ کمی کی گئی ہے اور اب دوسرے مرحلے میں بجلی پر دی جانیوالی سبسڈی میں مزیدکمی کی جائیگی۔ آئی ایم ایف جائزہ مشن کو بتایا گیا کہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کو آپریشنل بنادیا گیا ہے جس کیلیے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کو نیشنل ٹرانسمشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی سے الگ کرنے کے لیے پراسیس جاری ہے جس کے تحت سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کا اسٹاف بھی الگ سے ہوگا جبکہ سی پی پی اے رُولز و گائیڈ لائن بھی تیار کی جارہی ہے جسے جلد حتمی شکل دیدی جائے گی جس کے بعد سی سی پی اے کو پیمنٹ اینڈ سیٹلمنٹ سسٹم متعارف کروادیا جائے گا۔
مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بھی جلد متوقع ہے جس میں آئی ایم ایف کیساتھ طے شُدہ شرائط کے مطابق حکومت کی طرف سے نئے پاکستان انرجی اینڈ کنزرویشن ایکٹ کا مسودہ بھی تیاری کے آخری مراحل میں ہے جسے حتمی شکل دے کرجلد مُشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں پیش کردیا جائیگا، اس کے علاوہ گیس کی قیمتوں کے حوالے سے آئی ایم ایف جائزہ مشن کو بتایاگیا ہے کہ گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے حوالے سے اوگرا نے گیس کمپنیوں کی درخواستوں کی سماعت مکمل کرلی ہے اور جلد اوگرا کی طرف سے فیصلہ دیدیاجائیگا جس کے بعد گیس کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جائیگا۔ ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم کو بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کیلیے آئی ایم ایف کے ساتھ طے شُدہ ہدف کے مطابق ٹیکس وصولیاں ہوئی ہیں بلکہ یہ وصولیاں آئی ایم ایف کے ساتھ شُدہ ہدف سے بھی3 ارب روپے زیادہ ہیں کیونکہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے ہدف کے مطابق 1028ارب روپے کی وصولیاں کرنا تھیں جس کے برعکس ایف بی آر نے1031.42ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کی ہیں۔
اسی طرح مالیاتی خسارے سمیت دیگر اقتصادی اعشاریئے بھی تسلی بخش ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم کو بتایا گیا کہ سیلز ٹیکس رجسٹریشن کیلیے بھی کمپیوٹرائزڈ نظام متعارف کروانیکا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے اس کے علاوہ تین لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلیے ساٹھ ہزار کے قریب لوگوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں جبکہ جن لوگوں کی طرف سے نوٹس کا جواب نہیں دیا جارہا ہے انھیں دوسرے نوٹس بھجوائے گئے ہیں اور قانونی کارروائی مکمل کرکے اسیسمنٹ آرڈرز بھی جاری کئے جارہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف جائزہ مشن کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مارچ2014 کے آخر تک اسٹیٹ بینک کو خودمختاری دینے کیلیے قوانین میں ترامیم کیلئے بھی مسودہ جلد پارلیمنٹ سے منظور کروالیا جائیگا جبکہ ستمبر 2014 کے آخر تک ڈیپاذٹ پروٹیکشن فنڈ ایکٹ کا مسودہ بھی تیار کرلیا جائیگا۔ اس کے علاوہ پاکستان کو دسمبر2014کے آخر تک سیکورٹیز بل کا مسودہ بھی متعارف کروادیا جائیگا۔ آئی ایم ایف جائزہ مشن کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ٹیکسوں میں دی جانیوالی غیر ضروری چھوٹ ختم کرنے کیلئے پلان نہ صرف تیارکرلیاگیا ہے اور ٹیکس چوری میں ملوث لوگوں کیخلاف انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کاروائی کی جائیگی' ایف بی آر کی کوشش ہوگی کہ ٹیکس میں چھوٹ یا رعایت دینے کا کوئی ایس آر او جاری نہ کیا جائے اور قانون سازی کرکے دسمبر 2015تک فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ایس آر اوز جاری کرنیکے اختیارات ختم کردیئے جائیں۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے جائزہ مشن کو بتایا گیا ہے کہ اس کے علاوہ حکومت کی طرف سے مارچ 2014 ء تک 6سرکاری اداروں کی نجکاری کیلیے فنانشل ایڈوائزرز تعینات کرنے کے حوالے سے بھی پراسیس جاری ہے اور توقع ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے جلد فنانشل ایڈوائزر کی تعیناتی کردی جائیگی۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی ٹیم نے آئی ایم ایف کوبتایاکہ بجلی پردی جانیوالی غیرضروری سبسڈی بتدریج ختم کی جارہی ہے اور پہلے مرحلے میں سبسڈی میں خاطر خواہ کمی کی گئی ہے اور اب دوسرے مرحلے میں بجلی پر دی جانیوالی سبسڈی میں مزیدکمی کی جائیگی۔ آئی ایم ایف جائزہ مشن کو بتایا گیا کہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کو آپریشنل بنادیا گیا ہے جس کیلیے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کو نیشنل ٹرانسمشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی سے الگ کرنے کے لیے پراسیس جاری ہے جس کے تحت سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کا اسٹاف بھی الگ سے ہوگا جبکہ سی پی پی اے رُولز و گائیڈ لائن بھی تیار کی جارہی ہے جسے جلد حتمی شکل دیدی جائے گی جس کے بعد سی سی پی اے کو پیمنٹ اینڈ سیٹلمنٹ سسٹم متعارف کروادیا جائے گا۔
مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بھی جلد متوقع ہے جس میں آئی ایم ایف کیساتھ طے شُدہ شرائط کے مطابق حکومت کی طرف سے نئے پاکستان انرجی اینڈ کنزرویشن ایکٹ کا مسودہ بھی تیاری کے آخری مراحل میں ہے جسے حتمی شکل دے کرجلد مُشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں پیش کردیا جائیگا، اس کے علاوہ گیس کی قیمتوں کے حوالے سے آئی ایم ایف جائزہ مشن کو بتایاگیا ہے کہ گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے حوالے سے اوگرا نے گیس کمپنیوں کی درخواستوں کی سماعت مکمل کرلی ہے اور جلد اوگرا کی طرف سے فیصلہ دیدیاجائیگا جس کے بعد گیس کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جائیگا۔ ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم کو بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کیلیے آئی ایم ایف کے ساتھ طے شُدہ ہدف کے مطابق ٹیکس وصولیاں ہوئی ہیں بلکہ یہ وصولیاں آئی ایم ایف کے ساتھ شُدہ ہدف سے بھی3 ارب روپے زیادہ ہیں کیونکہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے ہدف کے مطابق 1028ارب روپے کی وصولیاں کرنا تھیں جس کے برعکس ایف بی آر نے1031.42ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کی ہیں۔
اسی طرح مالیاتی خسارے سمیت دیگر اقتصادی اعشاریئے بھی تسلی بخش ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم کو بتایا گیا کہ سیلز ٹیکس رجسٹریشن کیلیے بھی کمپیوٹرائزڈ نظام متعارف کروانیکا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے اس کے علاوہ تین لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلیے ساٹھ ہزار کے قریب لوگوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں جبکہ جن لوگوں کی طرف سے نوٹس کا جواب نہیں دیا جارہا ہے انھیں دوسرے نوٹس بھجوائے گئے ہیں اور قانونی کارروائی مکمل کرکے اسیسمنٹ آرڈرز بھی جاری کئے جارہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف جائزہ مشن کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مارچ2014 کے آخر تک اسٹیٹ بینک کو خودمختاری دینے کیلیے قوانین میں ترامیم کیلئے بھی مسودہ جلد پارلیمنٹ سے منظور کروالیا جائیگا جبکہ ستمبر 2014 کے آخر تک ڈیپاذٹ پروٹیکشن فنڈ ایکٹ کا مسودہ بھی تیار کرلیا جائیگا۔ اس کے علاوہ پاکستان کو دسمبر2014کے آخر تک سیکورٹیز بل کا مسودہ بھی متعارف کروادیا جائیگا۔ آئی ایم ایف جائزہ مشن کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ٹیکسوں میں دی جانیوالی غیر ضروری چھوٹ ختم کرنے کیلئے پلان نہ صرف تیارکرلیاگیا ہے اور ٹیکس چوری میں ملوث لوگوں کیخلاف انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کاروائی کی جائیگی' ایف بی آر کی کوشش ہوگی کہ ٹیکس میں چھوٹ یا رعایت دینے کا کوئی ایس آر او جاری نہ کیا جائے اور قانون سازی کرکے دسمبر 2015تک فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ایس آر اوز جاری کرنیکے اختیارات ختم کردیئے جائیں۔