نیٹو سپلائی۔ اصل مسئلہ کیا ہے
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com
ہمارا ملک توہینِ عدالت اور میمو گیٹ کی ہنگامہ خیزیوں سے نکل کر اب نیٹو سپلائی کی بحالی کے زبردست محاذ پر کھڑا ہے۔ پورا میڈیا اب صبح سے شام تک عالی مرتبت مہمانوں کی قیمتی آرا کو عوام میں ڈینگی کی طرح پھیلانے میں مصروف ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے ٹاک شوز کے زنانہ و مردانہ اینکرز، ٹاک شوز کی عدالتی کرسی پر اس طرح بیٹھے رہتے ہیں کہ اگر کسی گستاخ مہمان کی رائے ان کی رائے سے ذرّہ برابر بھی مختلف نظر آتی ہے تو وہ آرڈر آرڈر کی کڑکتی آواز نکال کر مہمان کو یا تو راہِ راست پر لانے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر ایک کمرشل بریک لے کر مخالفت کی آواز کا گلا دباتے نظر آتے ہیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ آمریت کے خلاف وکلا تحریک کی پراسرار حمایت کے بعد جب میڈیا آزاد ہوا تو اس آزادی پر اینکروں نے کسی فوجی آمر کی طرح قبضہ کرلیا۔ اس حوالے سے بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ یہ ''غیر جانبدار'' اینکر جانبداری کا مظاہرہ اس بھدّے انداز میں کرتے ہیں کہ اسے محسوس کرنے کے لیے ناظر کا پڑھا لکھا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ عام آدمی بھی یہ بات محسوس کرلیتا ہے کہ یہ غیر جانبدار اینکر کس بھدّے انداز میں جانبداری کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
نیٹو کی سپلائی پر سارا الیکٹرانک میڈیا حکومتی فیصلے کے سخت خلاف نظر آرہا ہے اور ٹاک شوز میں چن چن کر ان معزز مہمانوں کو مدعو کیا جارہا ہے جو اس حکومتی فیصلے کو اس کے صحیح تناظر میں دیکھنے کے بجائے اپنے پارٹی مفادات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ نیٹو سپلائی پر جو سخت اعتراضات کیے جارہے ہیں، ان میں پہلا اعتراض یہ ہے کہ یہ سپلائی اس پارلیمانی کمیٹی کے طے کردہ اصولوں کی خلاف ورزی ہے، جس میں امریکا سے ''معافی'' مانگنے اور ڈرون حملے بند کرنے کی پابندی عاید کی گئی تھی۔ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ سپلائی کی بحالی ہمارے قومی وقار کے خلاف ہے، تیسرا اعتراض یہ داغا جارہا ہے کہ سپلائی کی بحالی سے افغانستان میں امریکا کے خلاف جہاد کرنے والی طاقتیں کمزور ہوجائیں گی، چوتھا الزام یہ لگایا جارہا ہے کہ نیٹو سپلائی کے سہارے امریکا پاکستان پر قبضہ کرنے کی سازش کررہا ہے۔ حکومت پر یہ الزام بھی لگایا جارہا ہے کہ اس نے اس حوالے سے امریکا سے کوئی خفیہ معاہدہ کر رکھا ہے، وغیرہ وغیرہ۔
نیٹو سپلائی کی بحالی کے فیصلے میں حکومت کے علاوہ تینوں مسلح افواج کے سربراہ بھی شامل ہیں، یوں یہ فیصلہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا مشترکہ فیصلہ بن گیا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف اگرچہ اپوزیشن کی دو نامور جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور تحریکِ انصاف آواز اٹھا رہی ہیں، لیکن ان دونوں جماعتوں کی قیادت کو یہ علم ہے کہ موجودہ حالات میں اس کے علاوہ کوئی اور فیصلہ شاید ممکن تھا نہ ملک کے وسیع تر مفاد میں تھا، لیکن چونکہ نیٹو سپلائی کے حوالے سے یہ جماعتیں اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنا چاہتی تھیں، لہٰذا انھیں کچھ نہ کچھ ایکٹیویٹی کرنا تھی، سو وہ کررہی ہیں۔ البتہ ہماری مذہبی جماعتیں چونکہ اپنے وژن اور اپنے اعلیٰ نظریات کے پس منظر میں اس فیصلے کو جہاد شکنی سمجھتی ہیں،
لہٰذا وہ خلوصِ نیت کے ساتھ جلسوں، جلوسوں، لانگ اور شارٹ مارچوں میں مصروف ہوگئی ہیں اور طاغوتی قوتوں کو للکار رہی ہیں کہ ہم ان کی سازشوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ لیکن اس حوالے سے ایک سخن گسترانہ بات بیچ میں یہ آگئی ہے کہ اس فیصلے میں اسٹیبلشمنٹ بھی پوری طرح شامل ہے اور ان جماعتوں کی پوری تاریخ اسٹیبلشمنٹ کی اطاعت گزاری کی تاریخ کہلاتی ہے۔ اس لیے یہ احتجاج جلد ہی ختم ہوسکتا ہے۔
نیٹو سپلائی کے حوالے سے اصل مسئلہ یہ ہے جس پر غور کرنے کی زحمت نہیں کی جاتی کہ دہشت گردی اور خودکش حملوں کا سب سے زیادہ نقصان امریکا کو ہورہا ہے یا پاکستان کو؟ افغانستان میں امریکا کی حیثیت بلاشبہ ایک جارح ملک کی ہے اور افغانستان کو امریکی قبضے سے آزاد کرانے کی جنگ جنگِ آزادی ہے لیکن یہ جنگ افغانستان کے بجائے پاکستان میں کیوں لڑی جارہی ہے اور شمالی علاقوں سے لے کر کراچی تک مجاہدین کی فوجوں کو بڑے منظم اور منصوبہ بند طریقوں سے کیوں پھیلا دیا گیا ہے اور آئے دن بے گناہ انسانوں کو بارودی گاڑیوں اور خودکش دھماکوں کے ذریعے کیوں قتل کیا جارہا ہے۔ کیوں کراچی سے بغداد تک اور بغداد سے کربلا، یمن، سوڈان تک فقہی قتل و غارت اور بزرگوں کے مزاروں اور تعلیمی اداروں کو تباہ کیا جارہا ہے۔
کیا یہ بھی امریکا کے خلاف جنگِ آزادی کا ہی حصّہ ہے؟ امریکا ایک سامراجی ملک ہے، اس کے بہت سارے فیصلے جارحانہ ہوتے ہیں لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ کیا اکیلے امریکا کی جنگ ہے یا روس، چین، بھارت سمیت ساری دنیا اس جنگ کو اپنی جنگ اور انسانی تہذیب کی بقا کی جنگ سمجھ رہی ہے؟
اس سوال پر غور کرنے سے پہلے ہم کچھ خبریں پیش کریں گے۔ ایک خبر کے مطابق ''افریقی ملک مالی کے مشہور شہر ٹمبکٹو کی مشہور مسجد کو جو پندرہویں صدی میں تعمیر ہوئی تھی، عسکریت پسندوں نے تباہ کردیا۔ عسکری تنظیم انصار داعین نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنے نوّے فیصد اہداف حاصل کرلیے ہیں۔ ایسی تمام زیارت گاہوں کو تباہ کردیا ہے جو شریعت کے خلاف ہیں۔ ایک اور خبر کے مطابق ایک افریقی ملک کے ایک حصّے پر جو عراق سے تین گنا بڑا ہے عسکریت پسندوں نے قبضہ کرکے اپنے مسلک کا قانون نافذ کردیا ہے۔ بعض خبروں کے مطابق مشرق وسطیٰ کی عوامی تحریکوں میں عسکریت پسند موثر طور پر شامل ہیں۔ کوئٹہ سے زیارت کے لیے کربلا جانے والی دو بسوں کے مسافروں اور گلگت میں بھی ایک بس کے مخصوص مسافروں کو اتار کر گولیوں سے بھون دیا گیا۔ ان تمام خبروں اور خونریزیوں سے جو بات سامنے آرہی ہے وہ یہ کہ ایک مخصوص مسلک کے ماننے والے دنیا بھر خصوصاً مسلم ملکوں میں اپنی فقہہ کا ہر قیمت پر نفاذ چاہتے ہیں۔ تربت میں 18 انسانوں کا قتل اسی کا حصّہ ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج کے اس گلوبلائزیشن کے دور میں کسی ایک مسلک کو طاقت وہ بھی دہشت گردانہ طاقت کے ذریعے دوسروں پر مسلط کرنے کو قبول کیا جاسکتا ہے؟ امریکا، عراق اور افغانستان دونوں جنگیں ہار چکا ہے اور 2014 تک افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے۔ اور جانے سے پہلے اس علاقے میں موجود عسکریت پسندوں کو اتنا کمزور کرنا چاہتا ہے کہ وہ 9/11 کا اعادہ نہ کرسکیں۔ یہ حفاظتی رویہ اور اقدامات امریکا اپنے بچائو کے لیے کررہا ہے، لیکن اہم بات یہ ہے کہ امریکا کے اتحادیوں کے علاوہ روس، چین، بھارت جیسے بڑے ملک بھی دہشت گردی کے سخت خلاف ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کے ساتھ کھڑے ہیں اور پاکستان اس جنگ کا سب سے زیادہ متاثر اور نقصان یافتہ ملک ہے۔ پاکستان کو دنیا عسکریت پسندوں کا گڑھ قرار دے رہی ہے۔ اور ہمارے سیاسی اور مذہبی اکابرین دہشت گردی کی جنگ کو صرف امریکا کی جنگ کہہ رہے ہیں۔
ڈرون حملوں سے ہونے والے نقصان پر آسمان سر پر اٹھالینا بالکل جائز ہے لیکن بارودی گاڑیوں، خودکش حملوں میں ہلاک ہونے والے ہزاروں پاکستانی عوام کے حق میں بات کرنا کیوں گوارا نہیں؟ روس نے امریکا کو نیٹو سپلائی کے لیے راہ داری اور ہوائی اڈے دینے کا معاہدہ کرلیا ہے۔ ساری دنیا دہشت گردی کے خلاف ہے ہماری فوج کے ہزاروں سپاہی دہشت گردی کا شکار ہوچکے ہیں۔ کراچی کی ٹارگٹ کلنگ اور بینک ڈکیتوں کو بھی عسکریت پسندی کا حصّہ گردانا جارہا ہے۔ ان تلخ ترین حقائق پر نظر ڈالنے کی کوئی زحمت نہیں کررہا ہے اور انھیں حقائق کی روشنی میں نیٹو سپلائی کے فیصلے پر رائے دینا چاہیے نہ کہ یک طرفہ طور پر۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ آمریت کے خلاف وکلا تحریک کی پراسرار حمایت کے بعد جب میڈیا آزاد ہوا تو اس آزادی پر اینکروں نے کسی فوجی آمر کی طرح قبضہ کرلیا۔ اس حوالے سے بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ یہ ''غیر جانبدار'' اینکر جانبداری کا مظاہرہ اس بھدّے انداز میں کرتے ہیں کہ اسے محسوس کرنے کے لیے ناظر کا پڑھا لکھا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ عام آدمی بھی یہ بات محسوس کرلیتا ہے کہ یہ غیر جانبدار اینکر کس بھدّے انداز میں جانبداری کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
نیٹو کی سپلائی پر سارا الیکٹرانک میڈیا حکومتی فیصلے کے سخت خلاف نظر آرہا ہے اور ٹاک شوز میں چن چن کر ان معزز مہمانوں کو مدعو کیا جارہا ہے جو اس حکومتی فیصلے کو اس کے صحیح تناظر میں دیکھنے کے بجائے اپنے پارٹی مفادات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ نیٹو سپلائی پر جو سخت اعتراضات کیے جارہے ہیں، ان میں پہلا اعتراض یہ ہے کہ یہ سپلائی اس پارلیمانی کمیٹی کے طے کردہ اصولوں کی خلاف ورزی ہے، جس میں امریکا سے ''معافی'' مانگنے اور ڈرون حملے بند کرنے کی پابندی عاید کی گئی تھی۔ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ سپلائی کی بحالی ہمارے قومی وقار کے خلاف ہے، تیسرا اعتراض یہ داغا جارہا ہے کہ سپلائی کی بحالی سے افغانستان میں امریکا کے خلاف جہاد کرنے والی طاقتیں کمزور ہوجائیں گی، چوتھا الزام یہ لگایا جارہا ہے کہ نیٹو سپلائی کے سہارے امریکا پاکستان پر قبضہ کرنے کی سازش کررہا ہے۔ حکومت پر یہ الزام بھی لگایا جارہا ہے کہ اس نے اس حوالے سے امریکا سے کوئی خفیہ معاہدہ کر رکھا ہے، وغیرہ وغیرہ۔
نیٹو سپلائی کی بحالی کے فیصلے میں حکومت کے علاوہ تینوں مسلح افواج کے سربراہ بھی شامل ہیں، یوں یہ فیصلہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا مشترکہ فیصلہ بن گیا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف اگرچہ اپوزیشن کی دو نامور جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور تحریکِ انصاف آواز اٹھا رہی ہیں، لیکن ان دونوں جماعتوں کی قیادت کو یہ علم ہے کہ موجودہ حالات میں اس کے علاوہ کوئی اور فیصلہ شاید ممکن تھا نہ ملک کے وسیع تر مفاد میں تھا، لیکن چونکہ نیٹو سپلائی کے حوالے سے یہ جماعتیں اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنا چاہتی تھیں، لہٰذا انھیں کچھ نہ کچھ ایکٹیویٹی کرنا تھی، سو وہ کررہی ہیں۔ البتہ ہماری مذہبی جماعتیں چونکہ اپنے وژن اور اپنے اعلیٰ نظریات کے پس منظر میں اس فیصلے کو جہاد شکنی سمجھتی ہیں،
لہٰذا وہ خلوصِ نیت کے ساتھ جلسوں، جلوسوں، لانگ اور شارٹ مارچوں میں مصروف ہوگئی ہیں اور طاغوتی قوتوں کو للکار رہی ہیں کہ ہم ان کی سازشوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ لیکن اس حوالے سے ایک سخن گسترانہ بات بیچ میں یہ آگئی ہے کہ اس فیصلے میں اسٹیبلشمنٹ بھی پوری طرح شامل ہے اور ان جماعتوں کی پوری تاریخ اسٹیبلشمنٹ کی اطاعت گزاری کی تاریخ کہلاتی ہے۔ اس لیے یہ احتجاج جلد ہی ختم ہوسکتا ہے۔
نیٹو سپلائی کے حوالے سے اصل مسئلہ یہ ہے جس پر غور کرنے کی زحمت نہیں کی جاتی کہ دہشت گردی اور خودکش حملوں کا سب سے زیادہ نقصان امریکا کو ہورہا ہے یا پاکستان کو؟ افغانستان میں امریکا کی حیثیت بلاشبہ ایک جارح ملک کی ہے اور افغانستان کو امریکی قبضے سے آزاد کرانے کی جنگ جنگِ آزادی ہے لیکن یہ جنگ افغانستان کے بجائے پاکستان میں کیوں لڑی جارہی ہے اور شمالی علاقوں سے لے کر کراچی تک مجاہدین کی فوجوں کو بڑے منظم اور منصوبہ بند طریقوں سے کیوں پھیلا دیا گیا ہے اور آئے دن بے گناہ انسانوں کو بارودی گاڑیوں اور خودکش دھماکوں کے ذریعے کیوں قتل کیا جارہا ہے۔ کیوں کراچی سے بغداد تک اور بغداد سے کربلا، یمن، سوڈان تک فقہی قتل و غارت اور بزرگوں کے مزاروں اور تعلیمی اداروں کو تباہ کیا جارہا ہے۔
کیا یہ بھی امریکا کے خلاف جنگِ آزادی کا ہی حصّہ ہے؟ امریکا ایک سامراجی ملک ہے، اس کے بہت سارے فیصلے جارحانہ ہوتے ہیں لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ کیا اکیلے امریکا کی جنگ ہے یا روس، چین، بھارت سمیت ساری دنیا اس جنگ کو اپنی جنگ اور انسانی تہذیب کی بقا کی جنگ سمجھ رہی ہے؟
اس سوال پر غور کرنے سے پہلے ہم کچھ خبریں پیش کریں گے۔ ایک خبر کے مطابق ''افریقی ملک مالی کے مشہور شہر ٹمبکٹو کی مشہور مسجد کو جو پندرہویں صدی میں تعمیر ہوئی تھی، عسکریت پسندوں نے تباہ کردیا۔ عسکری تنظیم انصار داعین نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنے نوّے فیصد اہداف حاصل کرلیے ہیں۔ ایسی تمام زیارت گاہوں کو تباہ کردیا ہے جو شریعت کے خلاف ہیں۔ ایک اور خبر کے مطابق ایک افریقی ملک کے ایک حصّے پر جو عراق سے تین گنا بڑا ہے عسکریت پسندوں نے قبضہ کرکے اپنے مسلک کا قانون نافذ کردیا ہے۔ بعض خبروں کے مطابق مشرق وسطیٰ کی عوامی تحریکوں میں عسکریت پسند موثر طور پر شامل ہیں۔ کوئٹہ سے زیارت کے لیے کربلا جانے والی دو بسوں کے مسافروں اور گلگت میں بھی ایک بس کے مخصوص مسافروں کو اتار کر گولیوں سے بھون دیا گیا۔ ان تمام خبروں اور خونریزیوں سے جو بات سامنے آرہی ہے وہ یہ کہ ایک مخصوص مسلک کے ماننے والے دنیا بھر خصوصاً مسلم ملکوں میں اپنی فقہہ کا ہر قیمت پر نفاذ چاہتے ہیں۔ تربت میں 18 انسانوں کا قتل اسی کا حصّہ ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج کے اس گلوبلائزیشن کے دور میں کسی ایک مسلک کو طاقت وہ بھی دہشت گردانہ طاقت کے ذریعے دوسروں پر مسلط کرنے کو قبول کیا جاسکتا ہے؟ امریکا، عراق اور افغانستان دونوں جنگیں ہار چکا ہے اور 2014 تک افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے۔ اور جانے سے پہلے اس علاقے میں موجود عسکریت پسندوں کو اتنا کمزور کرنا چاہتا ہے کہ وہ 9/11 کا اعادہ نہ کرسکیں۔ یہ حفاظتی رویہ اور اقدامات امریکا اپنے بچائو کے لیے کررہا ہے، لیکن اہم بات یہ ہے کہ امریکا کے اتحادیوں کے علاوہ روس، چین، بھارت جیسے بڑے ملک بھی دہشت گردی کے سخت خلاف ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کے ساتھ کھڑے ہیں اور پاکستان اس جنگ کا سب سے زیادہ متاثر اور نقصان یافتہ ملک ہے۔ پاکستان کو دنیا عسکریت پسندوں کا گڑھ قرار دے رہی ہے۔ اور ہمارے سیاسی اور مذہبی اکابرین دہشت گردی کی جنگ کو صرف امریکا کی جنگ کہہ رہے ہیں۔
ڈرون حملوں سے ہونے والے نقصان پر آسمان سر پر اٹھالینا بالکل جائز ہے لیکن بارودی گاڑیوں، خودکش حملوں میں ہلاک ہونے والے ہزاروں پاکستانی عوام کے حق میں بات کرنا کیوں گوارا نہیں؟ روس نے امریکا کو نیٹو سپلائی کے لیے راہ داری اور ہوائی اڈے دینے کا معاہدہ کرلیا ہے۔ ساری دنیا دہشت گردی کے خلاف ہے ہماری فوج کے ہزاروں سپاہی دہشت گردی کا شکار ہوچکے ہیں۔ کراچی کی ٹارگٹ کلنگ اور بینک ڈکیتوں کو بھی عسکریت پسندی کا حصّہ گردانا جارہا ہے۔ ان تلخ ترین حقائق پر نظر ڈالنے کی کوئی زحمت نہیں کررہا ہے اور انھیں حقائق کی روشنی میں نیٹو سپلائی کے فیصلے پر رائے دینا چاہیے نہ کہ یک طرفہ طور پر۔