بینک برانچیں کھولنےکیلیے آئندہ ماہ تحریری معاہدہ متوقع ہے بھارتی ہائی کمشنر
پاک بھارت تجارت بڑھانے کیلیے ٹریڈ پالیسی فریم ورک میں تبدیلی ضروری ہے، ویزا پالیسی نرم کردی،ٹی سی اے راگھوان
بھارت پاکستان تعلقات ۔رجحانات و امکانات‘‘کے موضوع پر منعقدہ مذاکرے سے بھارتی ہائی کمشنر ڈاکٹر ٹی سی اے راگھوان خطاب کر رہے ہیں۔ فوٹو : محمد نعمان/ ایکسپریس
بھارتی ہائی کمشنر ٹی سی اے رگھوان نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بینکوں کی برانچز کے قیام کے حوالے سے دونوں ممالک کے مرکزی بینکوں کے مابین اتفاق رائے ہوچکا ہے تاہم آئندہ ماہ تحریری معاہدے کا امکان ہے۔
جس کے بعد دونوں ممالک کے بینکوں کی برانچیں کراچی اور ممبئی میں کھولی جائیں گی جس سے تاجربرادری کو بے حد فائدہ ہو گا۔ جمعرات کووفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان کے ظہرانے میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انڈس آبی معاہدے کے حوالے سے جو متضاد خبریں پاکستانی عوام میں گردش کررہی ہیں اس کے برعکس بھارت اس معاہدے پر سختی کے ساتھ عمل پیرا ہے، پاک بھارت مسائل دوطرفہ سنجیدگی کے ساتھ حل ہوں گے، گزشتہ چند برسوں کے دوران واہگہ کے راستے تجارت میں بہتری آئی ہے لیکن پڑوسی ممالک کے درمیان تجارتی روابط میں اضافے کے لیے دنیا بھر کی مثالوں کو اپنانے کے رجحان کا فقدان ہے۔ ویزا پالیسی کے حوالے سے ٹی سی اے راگھاوان نے کہاکہ بھارت چاہتا ہے کہ پاکستانی تاجربرادری کو تجارت کے وسیع مواقع میسر آئیں جس کیلیے بھارت کی جانب سے ملٹی پل ویزوں کے ساتھ ویزا شرائط میں بڑی حد تک نرمی کی جارہی ہے تاہم کراچی میں ویزا قونصلیٹ کے بارے میں فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ چین کے ساتھ بھارت کی تجارت100 ارب ڈالر پہنچ گئی ہے جس میں زیادہ حصہ ایکسپورٹ پر محیط ہے، بھارت نے1996میں پاکستان کوپسندیدہ ترین ملک کا درجہ دیا تھا جس کے بعد تجارتی راہداریوں کو تسخیر کرنے کیلیے نجی شعبے نے فعال کردار ادا کیا۔
گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 2 ارب 50 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرگئی لیکن تجارتی حجم اب بھی بہت کم ہے، پاک بھارت تجارت بڑھانے کیلیے ٹریڈ پالیسی فریم ورک میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ بھارتی ہائی کمشنر نے کہا کہ بھارت نے تجارتی ویزوں میں مزید نرمی کی ہے، پاکستانی تاجر اب ملٹی پل ویزوں کے ساتھ زیادہ شہروں میں جا سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر تجارت آنندشرما کی قیادت میں تجارتی وفد کی پاکستان آمد اورپاکستانی ہم منصب سے متوقع مذاکرات کے نتیجے میں دوطرفہ روابط فروغ پائیں گے، پاکستان میں انڈس آبی معاہدے پر غلط فہمی پائی جارہی ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیر احمد ملک نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ تجارت میں واضح فرق ہے اور اس فرق کو مٹانے اور علاقائی تجارت کو بڑھانے کیلیے باہمی مسائل پس پشت ڈالنا ہونگے، باہمی تجارت یکساں ہونی چاہیے تاہم اس کا فائدہ بھارت کو ہورہا ہے، پاک بھارت تجارتی حجم2.6 ارب ڈالر ہے، پاکستان سے 50 کروڑ ڈالر جبکہ بھارت سے 2.1 ارب ڈالر کی برآمدات ہورہی ہیں۔ حاجی شفیق الرحمان نے کہا کہ کشمیر اور پانی کے تنازع کے پر امن حل سے ہی تجارت کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔
جس کے بعد دونوں ممالک کے بینکوں کی برانچیں کراچی اور ممبئی میں کھولی جائیں گی جس سے تاجربرادری کو بے حد فائدہ ہو گا۔ جمعرات کووفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان کے ظہرانے میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انڈس آبی معاہدے کے حوالے سے جو متضاد خبریں پاکستانی عوام میں گردش کررہی ہیں اس کے برعکس بھارت اس معاہدے پر سختی کے ساتھ عمل پیرا ہے، پاک بھارت مسائل دوطرفہ سنجیدگی کے ساتھ حل ہوں گے، گزشتہ چند برسوں کے دوران واہگہ کے راستے تجارت میں بہتری آئی ہے لیکن پڑوسی ممالک کے درمیان تجارتی روابط میں اضافے کے لیے دنیا بھر کی مثالوں کو اپنانے کے رجحان کا فقدان ہے۔ ویزا پالیسی کے حوالے سے ٹی سی اے راگھاوان نے کہاکہ بھارت چاہتا ہے کہ پاکستانی تاجربرادری کو تجارت کے وسیع مواقع میسر آئیں جس کیلیے بھارت کی جانب سے ملٹی پل ویزوں کے ساتھ ویزا شرائط میں بڑی حد تک نرمی کی جارہی ہے تاہم کراچی میں ویزا قونصلیٹ کے بارے میں فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ چین کے ساتھ بھارت کی تجارت100 ارب ڈالر پہنچ گئی ہے جس میں زیادہ حصہ ایکسپورٹ پر محیط ہے، بھارت نے1996میں پاکستان کوپسندیدہ ترین ملک کا درجہ دیا تھا جس کے بعد تجارتی راہداریوں کو تسخیر کرنے کیلیے نجی شعبے نے فعال کردار ادا کیا۔
گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 2 ارب 50 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرگئی لیکن تجارتی حجم اب بھی بہت کم ہے، پاک بھارت تجارت بڑھانے کیلیے ٹریڈ پالیسی فریم ورک میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ بھارتی ہائی کمشنر نے کہا کہ بھارت نے تجارتی ویزوں میں مزید نرمی کی ہے، پاکستانی تاجر اب ملٹی پل ویزوں کے ساتھ زیادہ شہروں میں جا سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر تجارت آنندشرما کی قیادت میں تجارتی وفد کی پاکستان آمد اورپاکستانی ہم منصب سے متوقع مذاکرات کے نتیجے میں دوطرفہ روابط فروغ پائیں گے، پاکستان میں انڈس آبی معاہدے پر غلط فہمی پائی جارہی ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیر احمد ملک نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ تجارت میں واضح فرق ہے اور اس فرق کو مٹانے اور علاقائی تجارت کو بڑھانے کیلیے باہمی مسائل پس پشت ڈالنا ہونگے، باہمی تجارت یکساں ہونی چاہیے تاہم اس کا فائدہ بھارت کو ہورہا ہے، پاک بھارت تجارتی حجم2.6 ارب ڈالر ہے، پاکستان سے 50 کروڑ ڈالر جبکہ بھارت سے 2.1 ارب ڈالر کی برآمدات ہورہی ہیں۔ حاجی شفیق الرحمان نے کہا کہ کشمیر اور پانی کے تنازع کے پر امن حل سے ہی تجارت کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔