بندرگاہوں پرنارکوٹکس اسکینرزنہ لگنے سے ایکسپورٹرز پریشان
پورٹ اتھارٹیز 8سال سے فی کنٹینر 5 تا 7 ڈالرچارجزلینے کے بعدبھی اسکینرز نصب نہ کرسکیں
اسٹیک ہولڈرزکااجلاس،سربراہ اے این ایف برآمدی کھیپ کیلیے پیکیجنگ ڈویژن بنانے پرآمادہ ۔ فوٹو: فائل
پورٹ اتھارٹیز کی درآمدکنندگان و برآمدکنندگان سے اسکیننگ چارجز کی مد میں فی کنٹینر 5 تا 7 ڈالرکی وصولی کے باوجود تاحال کراچی کی دونوں بندرگاہوں پر نارکوٹکس اسکینرز کی تنصیب نہیں کی گئی جس کے سبب برآمدی کنسائنمنٹس کی نارکوٹکس انسپیکشن اور ری پیکنگ سے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔
پورٹ اتھارٹیز گزشتہ 8 سال سے اسکیننگ چارجز کی مد میں اب تک 7 ارب روپے سے زائد مالیت کی وصولیاں کرچکی ہیں۔ اس امر کا انکشاف کراچی چیمبر آف کامرس میں کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹوں، چیمبر اراکین، درآمدکنندگان و برآمدکنندگان کی اینٹی نارکوٹکس فورس کے ڈائریکٹرجنرل بریگیڈیئر ابوذر کے ساتھ اجلاس کے دوران کیا گیا۔ اس موقع پر اینٹی نارکوٹکس فورس کے ڈی جی بریگیڈیر ابوذر نے بتایا کہ اے این ایف برآمدکنندگان کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے قومی فرائض نبھارہی ہے، اے این ایف کنسائنمنٹس سے منشیات کی جانچ پڑتال کرکے درحقیقت بیرونی دنیا میں پاکستان اورپاکستانی ایکسپورٹرز کی ساکھ بچانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، دنیا بھر میں 5 فیصد کنسائمنٹس کومنشیات کی جانچ پڑتال کے لیے منتخب کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں اے این ایف صرف 2.2 فیصد کنسائنمنٹس کی انسپکشن کرتا ہے جو یومیہ اوسطاً 38 کنٹینرز بنتے ہیں، بدقسمتی سے پاکستان کی کسی بھی بندرگاہ پر اسپیشلائزڈ نارکوٹکس اسکینرز نصب نہیں ہیں، عالمی مارکیٹ میں اسپیشلائزڈ اسکینرز کی قیمت 19 لاکھ ڈالر ہے ۔
جس کے ذریعے ایک گھنٹے میں 18 کنٹینرز کی نارکوٹکس اسکیننگ ہوتی ہے لہٰذا پورٹ اتھارٹیز کی ذمے داری ہے کہ وہ برآمدکنندگان کی سہولت کے لیے نہ صرف اسپیشلائزڈ نارکوٹکس اسکینرزکی تنصیب کریں بلکہ منشیات کی جانچ پڑتال کے بعد خصوصاً برآمدی کنسائنمنٹس کی دوبارہ پیکنگ کے لیے اسپیشلائزڈ اسٹاف اور مطلوبہ پیکنگ مشینری کی دستیابی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں ریکارڈ منشیات تیار ہونے کی اطلاعات ہیں جنہیں اسمگلرز پاکستان کے راستے بیرونی دنیا اسمگل کرنے کی کوششیں کررہے ہیں لیکن اے این ایف نے محدود وسائل کے باوجود اس ضمن میں سخت حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے جس میں برآمدی شعبے کی بھرپورتعاون کی ضرورت ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران مختلف برآمدی کنسائنمنٹس میں پوست کے بیج اور منشیات اسمگل کرنے کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کیسوں میں جعلی فارم ''ای''، جعلی سی این آئی سی، بینکوں اور متعلقہ کمپنیوں کی جعلی مہروں کا استعمال ہوا ہے جن کی بندرگاہوں پر جدید ٹیکنالوجی کے فقدان کے سبب تصدیق نہیں ہوسکتی اور یہی منفی عوامل مستقل اورسرفہرست برآمدکنندگان کے لیے مسائل پیدا کررہے ہیں۔
بریگیڈیئرابوذر نے کراچی چیمبر کے سابق نائب صدرجنیداسماعیل ماکڈا کی اس تجویز سے اتفاق کیا کہ اے این ایف پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کمپنی قائم کرتے ہوئے صرف ایکسپورٹ کنسائنمنٹس کے لیے ایک علیحدہ پیکیجنگ ڈویژن قائم کرسکتا ہے اور ہر برآمدی کنسائنمنٹ پر اسکیننگ چارجزکی مد میں مطلوبہ وصولیاں کرنے کے بعد عالمی معیار کے اسپیشلائزڈ نارکوٹکس اسکینر کی تنصیب کر سکتا ہے۔ جنید ماکڈا نے اے این ایف سے مطالبہ کیا کہ وہ 24 گھنٹے اور ساتوں دن خدمات کی فراہمی کے ساتھ برآمدی کنسائنمنٹس کی ہولڈنگ ریئل ٹائم کی بنیاد پرکرنے کا نظام متعارف کرائے جبکہ ایک سرکاری ایجنسی کے ناطے ازخود پورٹ اتھارٹیز کے ساتھ جانچ پڑتال کے لیے کھولے گئے کنسائنمنٹس کی اسپیشلائزڈ ری پیکنگ کا میکنزم ترتیب دے۔
دوران اجلاس کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل فیصل مشتاق نے بتایا کہ بندرگاہوں پرکارگوہینڈلنگ کرنے والے ٹرمینل آپریٹرز سالانہ 7 کروڑ50 لاکھ ڈالر تا14 کروڑ 30 لاکھ ڈالر مالیت کا صرف منافع کمارہے ہیں لیکن اس بھاری منافع کے باوجود ٹرمینل آپریٹرز کے پاس نہ اسپیشلائزڈ ری پیکنگ کی سہولت دستیاب ہے اور نہ ہی انہوں نے نارکوٹکس اسکینرز کی تنصیب کی ہے، برآمدی کنسائنمنٹ کی اہم دستاویز فارم ''ای'' آن لائن دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی فرد متعلقہ سسٹم میں 8 ڈیجٹ ڈال کرکسی کے بھی کنسائنمنٹ میں بے قاعدگی کرسکتا ہے۔ انہوں نے اے این ایف سے مطالبہ کیا کہ وہ برآمدی شعبے کو بندرگاہوں اور کسٹمز کلیئرنس میں درپیش مسائل کا حل نکالنے کے لیے کراچی چیمبر، کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن، ٹرمینل آپریٹرز و دیگر اسٹیک ہولڈرز کا مشترکہ اجلاس طلب کرے۔
پورٹ اتھارٹیز گزشتہ 8 سال سے اسکیننگ چارجز کی مد میں اب تک 7 ارب روپے سے زائد مالیت کی وصولیاں کرچکی ہیں۔ اس امر کا انکشاف کراچی چیمبر آف کامرس میں کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹوں، چیمبر اراکین، درآمدکنندگان و برآمدکنندگان کی اینٹی نارکوٹکس فورس کے ڈائریکٹرجنرل بریگیڈیئر ابوذر کے ساتھ اجلاس کے دوران کیا گیا۔ اس موقع پر اینٹی نارکوٹکس فورس کے ڈی جی بریگیڈیر ابوذر نے بتایا کہ اے این ایف برآمدکنندگان کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے قومی فرائض نبھارہی ہے، اے این ایف کنسائنمنٹس سے منشیات کی جانچ پڑتال کرکے درحقیقت بیرونی دنیا میں پاکستان اورپاکستانی ایکسپورٹرز کی ساکھ بچانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، دنیا بھر میں 5 فیصد کنسائمنٹس کومنشیات کی جانچ پڑتال کے لیے منتخب کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں اے این ایف صرف 2.2 فیصد کنسائنمنٹس کی انسپکشن کرتا ہے جو یومیہ اوسطاً 38 کنٹینرز بنتے ہیں، بدقسمتی سے پاکستان کی کسی بھی بندرگاہ پر اسپیشلائزڈ نارکوٹکس اسکینرز نصب نہیں ہیں، عالمی مارکیٹ میں اسپیشلائزڈ اسکینرز کی قیمت 19 لاکھ ڈالر ہے ۔
جس کے ذریعے ایک گھنٹے میں 18 کنٹینرز کی نارکوٹکس اسکیننگ ہوتی ہے لہٰذا پورٹ اتھارٹیز کی ذمے داری ہے کہ وہ برآمدکنندگان کی سہولت کے لیے نہ صرف اسپیشلائزڈ نارکوٹکس اسکینرزکی تنصیب کریں بلکہ منشیات کی جانچ پڑتال کے بعد خصوصاً برآمدی کنسائنمنٹس کی دوبارہ پیکنگ کے لیے اسپیشلائزڈ اسٹاف اور مطلوبہ پیکنگ مشینری کی دستیابی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں ریکارڈ منشیات تیار ہونے کی اطلاعات ہیں جنہیں اسمگلرز پاکستان کے راستے بیرونی دنیا اسمگل کرنے کی کوششیں کررہے ہیں لیکن اے این ایف نے محدود وسائل کے باوجود اس ضمن میں سخت حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے جس میں برآمدی شعبے کی بھرپورتعاون کی ضرورت ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران مختلف برآمدی کنسائنمنٹس میں پوست کے بیج اور منشیات اسمگل کرنے کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کیسوں میں جعلی فارم ''ای''، جعلی سی این آئی سی، بینکوں اور متعلقہ کمپنیوں کی جعلی مہروں کا استعمال ہوا ہے جن کی بندرگاہوں پر جدید ٹیکنالوجی کے فقدان کے سبب تصدیق نہیں ہوسکتی اور یہی منفی عوامل مستقل اورسرفہرست برآمدکنندگان کے لیے مسائل پیدا کررہے ہیں۔
بریگیڈیئرابوذر نے کراچی چیمبر کے سابق نائب صدرجنیداسماعیل ماکڈا کی اس تجویز سے اتفاق کیا کہ اے این ایف پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کمپنی قائم کرتے ہوئے صرف ایکسپورٹ کنسائنمنٹس کے لیے ایک علیحدہ پیکیجنگ ڈویژن قائم کرسکتا ہے اور ہر برآمدی کنسائنمنٹ پر اسکیننگ چارجزکی مد میں مطلوبہ وصولیاں کرنے کے بعد عالمی معیار کے اسپیشلائزڈ نارکوٹکس اسکینر کی تنصیب کر سکتا ہے۔ جنید ماکڈا نے اے این ایف سے مطالبہ کیا کہ وہ 24 گھنٹے اور ساتوں دن خدمات کی فراہمی کے ساتھ برآمدی کنسائنمنٹس کی ہولڈنگ ریئل ٹائم کی بنیاد پرکرنے کا نظام متعارف کرائے جبکہ ایک سرکاری ایجنسی کے ناطے ازخود پورٹ اتھارٹیز کے ساتھ جانچ پڑتال کے لیے کھولے گئے کنسائنمنٹس کی اسپیشلائزڈ ری پیکنگ کا میکنزم ترتیب دے۔
دوران اجلاس کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل فیصل مشتاق نے بتایا کہ بندرگاہوں پرکارگوہینڈلنگ کرنے والے ٹرمینل آپریٹرز سالانہ 7 کروڑ50 لاکھ ڈالر تا14 کروڑ 30 لاکھ ڈالر مالیت کا صرف منافع کمارہے ہیں لیکن اس بھاری منافع کے باوجود ٹرمینل آپریٹرز کے پاس نہ اسپیشلائزڈ ری پیکنگ کی سہولت دستیاب ہے اور نہ ہی انہوں نے نارکوٹکس اسکینرز کی تنصیب کی ہے، برآمدی کنسائنمنٹ کی اہم دستاویز فارم ''ای'' آن لائن دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی فرد متعلقہ سسٹم میں 8 ڈیجٹ ڈال کرکسی کے بھی کنسائنمنٹ میں بے قاعدگی کرسکتا ہے۔ انہوں نے اے این ایف سے مطالبہ کیا کہ وہ برآمدی شعبے کو بندرگاہوں اور کسٹمز کلیئرنس میں درپیش مسائل کا حل نکالنے کے لیے کراچی چیمبر، کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن، ٹرمینل آپریٹرز و دیگر اسٹیک ہولڈرز کا مشترکہ اجلاس طلب کرے۔