وقار یونس کو قومی ٹیم کا کوچ بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا

تاہم ماضی کے پیش نظر تقرری سے ٹیم میں مسائل ہونے کا خدشہ موجود رہے گا، ذرائع

تاہم ماضی کے پیش نظر تقرری سے ٹیم میں مسائل ہونے کا خدشہ موجود رہے گا، ذرائع۔ فوٹو: رائٹرز/فائل

وقار یونس کی بطور کوچ تقرری سے ٹیم میں مسائل پیدا ہونے کا خدشہ موجود رہے گا، ماضی میں سینئرز کے ساتھ اختلافات کی چنگاریاں ایک بار پھر بھڑکنے کے امکانات مسترد نہیں کیے جاسکتے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق کپتان کو ذمہ داریاں سونپنے کا فیصلہ کیا جاچکا، کوچ کمیٹی کا اجلاس رسمی کارروائی ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق وقار یونس اپنے کوچنگ کیریئر کے سابق دور میں چند سینئرز کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے پاور گیم کا شکار ہوگئے تھے، اس دوران فریقین کی طرف سے ایک دوسرے کیخلاف بیانات کا سلسلہ بھی کرکٹ سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کرتا رہا،بعد ازاں انہوں نے اپنی صحت کی خرابی کو جواز بناکر عہدہ چھوڑجانے میں ہی عافیت جانی،تاہم کمنٹری کے دوران کوچنگ معاملات پر تفصیلی آراء سابق کپتان کی ایک بار پھر قومی ٹیم سے وابستہ ہونے کی دلچسپی کا اظہار کرتی رہیں، ہائیکورٹ کے حکم کے تحت نجم سیٹھی کی سربراہی میں کام کرنے والی پی سی بی کی عبوری کمیٹی بڑے فیصلوں کی مجاز نہیں تھی، اس لیے کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔




ذکا اشرف کی بحالی کے ساتھ اختیارات پر قدغن بھی ختم ہوتے ہی بورڈ نے ڈیو واٹمور کی جگہ نئے کوچ کی بھرتی کا اشتہار جاری کردیا۔ ذرائع کے مطابق چیئرمین پی سی بی دبئی میں وقار یونس کے ساتھ ملاقات میں معاملات طے کرچکے، سابق عظیم فاسٹ بولر کچھ معاملات میں یقین دہانی کے بعد ہی درخواست جمع کرانے کیلیے پاکستان آئے، ابھی تک کوچ کمیٹی کے سب ارکان نے ایک بار بھی مل بیٹھ کر کوئی صلاح مشورہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، ایک دور روز میں کوئی میٹنگ ہوئی بھی تو محض رسمی کارروائی ہوگی۔ ذرائع کے مطابق وقار یونس کی بطور کوچ تقرری سے ٹیم میں مسائل پیدا ہونے کا خدشہ موجود رہے گا، سابق کپتان کے پہلے دور میں سینئرز کے ساتھ اختلافات شہ سرخیوں کا حصہ بنے تھے،ان میں سے چند کرکٹرز اب بھی ٹیم میں موجود اور ورلڈ کپ 2015 کے پلان میں شامل ہیں، ماضی میں دب جانے والی چنگاریاں پھر بھڑکنے کے امکانات مسترد نہیں کیے جاسکتے۔

Recommended Stories

Load Next Story