برینڈن میک کولم بطور کپتان دوسری سنچری داغنے میں کامیاب
کیویز نے چوتھی مرتبہ بھارت کیخلاف ابتدائی دن 300سے زائد رنز بٹورے، ظہیر کی اوے میچز میں 200 وکٹیں
کیویز نے چوتھی مرتبہ بھارت کیخلاف ابتدائی دن 300سے زائد رنز بٹورے، ظہیر کی اوے میچز میں 200 وکٹیں۔ فوٹو: فائل
برینڈن میک کولم بطور کپتان دوسری سنچری داغنے میں کامیاب ہوگئے، انھوں نے یہ کارنامہ بھارت کیخلاف آکلینڈ ٹیسٹ کے ابتدائی دن 143 رنز ناٹ آئوٹ بناکر انجام دیا۔
انھوں نے بطور قائد ویسٹ انڈیز کیخلاف ڈونیڈن میں دسمبر 2013 میں بھی113کی اننگز کھیل چکے ہیں، مجموعی طور پر یہ ان کے کیریئر کی آٹھویں سنچری ہے اور تیسری مرتبہ انھوں نے بھارت کیخلاف انفرادی اسکور کو تہرے ہندسوں میں پہنچایا ہے، مارچ 2009 میں نیپیئر ٹیسٹ میں برینڈن میک کولم نے بھارت کیخلاف 115اورنومبر2010 میں حیدرآباد ، دکن میں کیریئر بیسٹ 225 کی اننگز کھیلی ہیں،ہوم گرائونڈز پر برینڈن پانچویں سنچری بنانے میں کامیاب ہوئے ، جس میں بھارت کیخلاف 2 جبکہ بنگلہ دیش، ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کیخلاف بھی وہ ایک ایک مرتبہ یہ کارنامہ انجام دے چکے ہیں، بھارت کیخلاف سنچری بنانے والے وہ چھٹے کیوی کپتان بھی بنے، جان رائٹ بھارتی بولنگ اٹیک کیخلاف دو مرتبہ بطور قائد سنچریاں بناچکے ہیں، بھارت کیخلاف اب تک 9 ٹیسٹ میچز میں برینڈن کے مجموعی رنز کی تعداد 832 ہوگئی ہے، دوسری جانب ان کے ہمراہ چوتھی وکٹ کیلیے 221 کی شراکت قائم کرنے والے کین ولیمسن پانچویں ٹیسٹ سنچری بنانے میں کامیاب رہے۔
انھوں نے نومبر2010 میں اپنے ڈیبیو پر احمد آباد میں بھی بھارت کیخلاف تھری فیگر اننگز کھیلی تھی، ولیمسن کیلیے بھارت سے ہوم سیریز ابھی تک انتہائی شاندار رہی ہے، جس میں وہ لگاتار چھٹی انٹرنیشنل ففٹی بنانے میں کامیاب ہوچکے ہیں، اس سے قبل منعقدہ ون ڈے میچز میں انھوں نے بالترتیب 71،77،65،60 اور 88 کی اننگز کھیلی ہیں، ولیمسن نئے برس میں ہونے والی انٹرنیشنل کرکٹ میں 500 سے زائد رنز بنانے والے پہلے بیٹسمین بھی بنے ہیں، وہ اب تک پانچ ففٹیز اور ایک سنچری کی مدد سے 67.12 کی اوسط سے 537رنز اپنے نام جوڑنے میں کامیاب ہوچکے ہیں، اس کے علاوہ کیوی ٹیم بھارت کیخلاف چوتھی مرتبہ کسی ٹیسٹ میچ کے ابتدائی دن 300 یا اس سے زائد رنز بنانے میں کامیاب ہوپائی ہے، اس میں سب سے بہترین پرفارمنس فروری 1990میں آکلینڈ کے مقام پر ہی 9 وکٹ پر387رنز بہترین کاوش ہیں، تجربہ کار پیسر ظہیرخان اوے میچز میں 200 وکٹیں مکمل کرنے والے تیسرے بھارتی بولر بنے، ان سے قبل انیل کمبلے اور کپیل دیو بھی یہ مرحلہ عبور کرچکے ہیں۔
انھوں نے بطور قائد ویسٹ انڈیز کیخلاف ڈونیڈن میں دسمبر 2013 میں بھی113کی اننگز کھیل چکے ہیں، مجموعی طور پر یہ ان کے کیریئر کی آٹھویں سنچری ہے اور تیسری مرتبہ انھوں نے بھارت کیخلاف انفرادی اسکور کو تہرے ہندسوں میں پہنچایا ہے، مارچ 2009 میں نیپیئر ٹیسٹ میں برینڈن میک کولم نے بھارت کیخلاف 115اورنومبر2010 میں حیدرآباد ، دکن میں کیریئر بیسٹ 225 کی اننگز کھیلی ہیں،ہوم گرائونڈز پر برینڈن پانچویں سنچری بنانے میں کامیاب ہوئے ، جس میں بھارت کیخلاف 2 جبکہ بنگلہ دیش، ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کیخلاف بھی وہ ایک ایک مرتبہ یہ کارنامہ انجام دے چکے ہیں، بھارت کیخلاف سنچری بنانے والے وہ چھٹے کیوی کپتان بھی بنے، جان رائٹ بھارتی بولنگ اٹیک کیخلاف دو مرتبہ بطور قائد سنچریاں بناچکے ہیں، بھارت کیخلاف اب تک 9 ٹیسٹ میچز میں برینڈن کے مجموعی رنز کی تعداد 832 ہوگئی ہے، دوسری جانب ان کے ہمراہ چوتھی وکٹ کیلیے 221 کی شراکت قائم کرنے والے کین ولیمسن پانچویں ٹیسٹ سنچری بنانے میں کامیاب رہے۔
انھوں نے نومبر2010 میں اپنے ڈیبیو پر احمد آباد میں بھی بھارت کیخلاف تھری فیگر اننگز کھیلی تھی، ولیمسن کیلیے بھارت سے ہوم سیریز ابھی تک انتہائی شاندار رہی ہے، جس میں وہ لگاتار چھٹی انٹرنیشنل ففٹی بنانے میں کامیاب ہوچکے ہیں، اس سے قبل منعقدہ ون ڈے میچز میں انھوں نے بالترتیب 71،77،65،60 اور 88 کی اننگز کھیلی ہیں، ولیمسن نئے برس میں ہونے والی انٹرنیشنل کرکٹ میں 500 سے زائد رنز بنانے والے پہلے بیٹسمین بھی بنے ہیں، وہ اب تک پانچ ففٹیز اور ایک سنچری کی مدد سے 67.12 کی اوسط سے 537رنز اپنے نام جوڑنے میں کامیاب ہوچکے ہیں، اس کے علاوہ کیوی ٹیم بھارت کیخلاف چوتھی مرتبہ کسی ٹیسٹ میچ کے ابتدائی دن 300 یا اس سے زائد رنز بنانے میں کامیاب ہوپائی ہے، اس میں سب سے بہترین پرفارمنس فروری 1990میں آکلینڈ کے مقام پر ہی 9 وکٹ پر387رنز بہترین کاوش ہیں، تجربہ کار پیسر ظہیرخان اوے میچز میں 200 وکٹیں مکمل کرنے والے تیسرے بھارتی بولر بنے، ان سے قبل انیل کمبلے اور کپیل دیو بھی یہ مرحلہ عبور کرچکے ہیں۔