ہر چیز کی حد ہوتی ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر واضح پیغام سمجھ لیا جائے چیف جسٹس

عدالت وقتی طورپرنرمی کامظاہرہ کررہی ہے،امیدہے مسئلہ حل کرلیاجائیگا، چیف جسٹس،آنکھیںبندنہیںکرینگے،جسٹس عظمت

لاپتہ وکیل ظہیرگوندل بازیاب کرانیکاحکم،وہ القاعدہ میں شامل ہو گیا، پولیس، مقتول وکیل کے معاملے پرسی پی اوراولپنڈی طلب۔ فوٹو: فائل

چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کے معاملے پرعدالت وقتی طورپرنرمی کا مظاہرہ کررہی ہے اور امیدکرتی ہے کہ اس مسئلے کوحل کرلیا جائے گا۔

انھوں نے اٹارنی جنرل کو کہاکہ اس کوایک واضح پیغام سمجھا جائے۔ وکلا پر تشدد اورلاپتہ وکیل ظہیر احمدگوندل کے مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ہرچیزکی ایک حد ہوتی ہے،6 مہینے سے ایک وکیل لاپتہ ہے اور پولیس کبھی ایک اورکبھی دوسرا بیان دیتی ہے، انھوں نے کہا لاپتہ وکیل جہاں بھی ہے اور جس کے پاس ہے اسے بازیاب کراکے پیش کیا جائے،لوگوںکا تحفظ قانون نافذکرنے والے اداروںکاکام ہے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا اگرکوئی سمجھتا ہے کہ ہم انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں پرآنکھیں بندکرلیںگے تو یہ نہیں ہو سکتا۔ جمعرات کو چیف جسٹس کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے مقدمے کی سماعت کی۔ ایس پی پوٹھوہار راولپنڈی ہارون جوئیہ پیش ہوئے اور رپورٹ دی کہ لاپتہ وکیل ظہیراحمدگوندل طالبان کے ساتھ مل گیا ہے اور میرانشاہ میں القاعدہ کے احمد فاروق گروپ کے ساتھ ہے۔




چیف جسٹس نے کہا لیکن پہلے جو رپورٹ دی گئی تھی اس کے مطابق تو وہ آئی ایس آئی کی زیر حراست تھا۔ہارون جوئیہ نے بتایا کہ پہلی رپورٹ ظہیرگوندل کے موبائل سم کی بنیاد پر مرتب کی گئی تھی کیونکہ ان کی سم ڈیڑھ کلومیٹرکے دائرے میں متحرک تھی اس میں آئی ایس آئی کا مرکز بھی واقع تھا۔عدالت نے کہا بیان میں تضاد پرکوئی رائے نہیں دیںگے لیکن بادی النظر میں پولیس کے بیان میں تضاد ہے۔وکیل شفیع چانڈیو نے عدالت کو بتایا کہ پولیس ان سے ٹریکٹر چھین کر دھمکیاں دے رہی ہے، عدالت نے ڈی پی اوخیر پورکوانکوائری کا حکم دیتے ہوئے کیس نمٹادیا۔مقتول وکیل محمدخان کی بھتیجی نے عدالت کو بتایا کہ ان کے اہلخا نہ کو دھمکیاں مل رہی ہیں اور پو لیس نے قتل میں ملوث میجر پرہاتھ نہیں ڈالا،عدالت نے اس معاملے میں سی پی او راولپنڈی کو طلب کرتے ہوئے سماعت 13 فروری تک ملتوی کردی۔
Load Next Story