سینیٹ وزیراعظم کے نہ آنے جوابات نہ ملنے پر اپوزیشن کا احتجاج واک آؤٹ وزرا کا اشتہار دیا جائے رضا ر
نجکاری پر حکومت جوابدہ ہے،پی پی پارلیمانی لیڈر، مذاکرات کیلیے تشکیل دی گئی ٹیموں پراپوزیشن کاعدم اطمینان
کراچی میںایٹمی ری ایکٹرزکی ٹیکنالوجی چینی ہے،حادثہ ہواتوصرف8کلومیٹرتک علاقہ متاثرہوگا،شیخ آفتاب،بیان خطرناک ہے واپس لیں،فرحت بابر۔ فوٹو: فائل
سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم کے ایوان میں نہ آنے اور سوالات کے جواب نہ ملنے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے علامتی واک آئوٹ کیا جبکہ وزیر مملکت شیخ آفتاب نے ایوان کو بتایاکہ کراچی میں 2 نئے ایٹمی ری ایکٹروں کی ٹیکنالوجی چین سے حاصل کی گئی جو انتہائی محفوظ ہے، خدانخواستہ کوئی حادثہ ہوبھی جائے تو صرف 7سے8 کلومیٹر سے زیادہ علاقہ متاثر نہیں ہوگا۔
جمعرات کو ایوان بالا کا اجلاس چیئرمین سید نیر حسین بخاری کی صدارت میں ہوا۔ صغریٰ امام کے نجکاری کے حوالے سے سوالات کے تحریری جوابات موصول نہ ہونے پر پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر رضا ربانی نے کہا کہ حکومت صبح شام پی آئی اے، اسٹیل ملز اور دیگر اداروں کی نجکاری کا واویلا کررہی ہے لیکن اس حوالے سے پارلیمنٹ کو جوابدہ نہیں ہونا چاہتی، حکومت نے ایوان بالا کو مذاق بنا رکھا ہے،8 ماہ گزر گئے مگر وزیراعظم ایوان بالا نہیں آئے، وزرا جوابات نہیں دیتے، وزات خزانہ کے 2 وزیر ہیں مگر ایک بھی سوال کا جواب دینے کو تیار نہیں، ہم حکومت کے اس رویے کو مزید برداشت کرنے کیلیے تیار نہیں، سینیٹ سیکریٹریٹ سے کہا جائے کہ وہ وزرا کا اشتہار اخبار میںدے۔ رضا ربانی کی بات ختم ہونے کے ساتھ ہی پیپلزپارٹی، ق لیگ، اے این پی اور ایم کیوایم کے ارکان واک آئوٹ کرگئے تاہم حکومتی ارکان کے منانے پر تھوڑی دیر بعد واپس آگئے۔
پیپلز پارٹی کے سینیٹر سعید غنی نے توجہ دلائو نوٹس پر بتایا کہ کراچی میں 2 نئے ایٹمی ری ایکٹروں میں جو ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی وہ پہلے نہیں آزمائی گئی، عوام کو اطمینان دلایا جائے کہ یہ منصوبے خطرہ تو نہیں بنیں گے۔ وزیر مملکت شیخ آفتاب نے جواب دیاکہ چین میں 29 پلانٹس اسی ٹیکنالوجی کے تحت کام کررہے ہیں، 15 مزید پلانٹس بھی وہاں لگائے جارہے ہیں، پاکستان میں بھی اس طرح کے ایٹمی ری ایکٹر کام کررہے ہیں، خدانخواستہ کوئی حادثہ پیش بھی آ جائے تو 7،8 کلومیٹر سے زیادہ علاقے میں نقصان نہیں ہوگاجس پر پیپلزپارٹی کے فرحت اللہ بابر نے کہا کہ وفاقی وزیر نے بہت خطرناک بیان دیا ہے، اسے واپس لیں۔ قائد ایوان سینیٹر راجا ظفر الحق نے کہا کہ ایک لابی ایٹمی ری ایکٹرز کے حوالے سے پروپیگنڈا کر رہی ہے۔ امن وامان پر بحث کرتے ہوئے فرحت اللہ بابر نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے حکومت نے مشاورت نہیں کی۔ راجا ظفرالحق نے کہا کہ جتنی مشاورت اس معاملے پر ہوئی کسی اور معاملے پر نہیں ہوئی۔ افراسیاب خٹک نے کہا کہ طالبان کی مذاکراتی ٹیم میں طالبان اور حکومت کی کمیٹی میں حکومت نہیں۔ طاہر مشہدی نے کہا کہ عمران خان اور جے یوآئی مذاکرات سے نکل گئے ہیں، سمجھ نہیں آتا کہ یہ مذاکرات ہیں یا مذاق رات ہیں۔ بعدازاں اجلاس آج (جمعہ کو) صبح ساڑھے 10 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
جمعرات کو ایوان بالا کا اجلاس چیئرمین سید نیر حسین بخاری کی صدارت میں ہوا۔ صغریٰ امام کے نجکاری کے حوالے سے سوالات کے تحریری جوابات موصول نہ ہونے پر پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر رضا ربانی نے کہا کہ حکومت صبح شام پی آئی اے، اسٹیل ملز اور دیگر اداروں کی نجکاری کا واویلا کررہی ہے لیکن اس حوالے سے پارلیمنٹ کو جوابدہ نہیں ہونا چاہتی، حکومت نے ایوان بالا کو مذاق بنا رکھا ہے،8 ماہ گزر گئے مگر وزیراعظم ایوان بالا نہیں آئے، وزرا جوابات نہیں دیتے، وزات خزانہ کے 2 وزیر ہیں مگر ایک بھی سوال کا جواب دینے کو تیار نہیں، ہم حکومت کے اس رویے کو مزید برداشت کرنے کیلیے تیار نہیں، سینیٹ سیکریٹریٹ سے کہا جائے کہ وہ وزرا کا اشتہار اخبار میںدے۔ رضا ربانی کی بات ختم ہونے کے ساتھ ہی پیپلزپارٹی، ق لیگ، اے این پی اور ایم کیوایم کے ارکان واک آئوٹ کرگئے تاہم حکومتی ارکان کے منانے پر تھوڑی دیر بعد واپس آگئے۔
پیپلز پارٹی کے سینیٹر سعید غنی نے توجہ دلائو نوٹس پر بتایا کہ کراچی میں 2 نئے ایٹمی ری ایکٹروں میں جو ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی وہ پہلے نہیں آزمائی گئی، عوام کو اطمینان دلایا جائے کہ یہ منصوبے خطرہ تو نہیں بنیں گے۔ وزیر مملکت شیخ آفتاب نے جواب دیاکہ چین میں 29 پلانٹس اسی ٹیکنالوجی کے تحت کام کررہے ہیں، 15 مزید پلانٹس بھی وہاں لگائے جارہے ہیں، پاکستان میں بھی اس طرح کے ایٹمی ری ایکٹر کام کررہے ہیں، خدانخواستہ کوئی حادثہ پیش بھی آ جائے تو 7،8 کلومیٹر سے زیادہ علاقے میں نقصان نہیں ہوگاجس پر پیپلزپارٹی کے فرحت اللہ بابر نے کہا کہ وفاقی وزیر نے بہت خطرناک بیان دیا ہے، اسے واپس لیں۔ قائد ایوان سینیٹر راجا ظفر الحق نے کہا کہ ایک لابی ایٹمی ری ایکٹرز کے حوالے سے پروپیگنڈا کر رہی ہے۔ امن وامان پر بحث کرتے ہوئے فرحت اللہ بابر نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے حکومت نے مشاورت نہیں کی۔ راجا ظفرالحق نے کہا کہ جتنی مشاورت اس معاملے پر ہوئی کسی اور معاملے پر نہیں ہوئی۔ افراسیاب خٹک نے کہا کہ طالبان کی مذاکراتی ٹیم میں طالبان اور حکومت کی کمیٹی میں حکومت نہیں۔ طاہر مشہدی نے کہا کہ عمران خان اور جے یوآئی مذاکرات سے نکل گئے ہیں، سمجھ نہیں آتا کہ یہ مذاکرات ہیں یا مذاق رات ہیں۔ بعدازاں اجلاس آج (جمعہ کو) صبح ساڑھے 10 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔