جدہ میں 3 ہزار پاکسانیوں کی گرفتاری پر چیف جسٹس کا ازخود نوٹس

سیکریٹری خارجہ سے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی۔

گرفتار شہری 3ماہ سے ڈیپورٹیشن مرکزمیں ہیں،کئی وفات پا چکے، پاکستان کا سفارتخانہ دلچسپی نہیں لے رہا،جب تک قانونی دستاویزات تیارنہیں ہوتیں یہ لوگ ملک بدر نہیں ہوسکتے، علی خان۔ فوٹو: فائل

چیف جسٹس تصدق حسین جیلا نی نے سعودی عرب میں گرفتار3 ہزار پاکستانیوں کے معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری خارجہ سے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی۔

نوٹس سعودی عرب میں مقیم پاکستانی علی خان نامی شخص کی ای میل پرلیا گیا جو انھوں نے ہیومن رائٹس سیل میں تارکین وطن کے لیے قائم خصوصی سیکشن کو بھیجا تھا، ای میل کے مطابق سعودی حکام نے 3 ہزار پاکستانیوں کو گرفتار کیا ہے جو3 مہینے سے جدہ میں واقع ڈیپورٹیشن مرکز میں زیر حراست ہیں۔ ان زیر حراست افراد میں متعدد وفات پا چکے ہیں لیکن پاکستانی سفاتخانے کو اس معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ جب تک قانونی دستاویزات تیار نہیں ہوتیں یہ لوگ ملک بدر نہیں ہو سکتے۔ سعودی عرب میں ویزا اور رہائشی پرمٹ ہونے کے باوجود اپنے کفیل کے علاوہ کسی اور جگہ کام کرنا غیرقانونی ہے اور ایسا کرنے والے کو 2 برس تک قید اور ایک لاکھ سعودی ریال تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔




بی بی سی کے مطابق بعض تارکین وطن کا کہنا ہے کہ جو پاکستانی قانونی طور پر کفیلوں کے پاس کام کررہے ہیں ان میں سے اکثریت کوپیسے نہیں مل رہے اور تنخواہ کا مطالبہ کرنے پر پولیس کے حوالے کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔ ظہور عباسی اْن ہزاروں پاکستانیوں میں سے ہیں جولاکھوں روپے خرچ کرکے ویزا حاصل کرنے میں کامیاب تو ہوئے لیکن وہ بھی سعودی عرب میں چھپ کر کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پہلے تو ان کا اسٹیٹس قانونی تھا لیکن نئے قوانین کے بعد وہ بھی غیر قانونی قرار دیے گئے ہیں۔جب تک کفیل کو پیسے نہیں دیں گے تو وہ باہر کام کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ پولیس کو اطلاع بھی دے سکتا ہے جس کے بعد پولیس گرفتار کرکے وطن واپس بجھوا دے گی۔ ایک اور پاکستانی محمد فیاض کا کہنا تھا کہ 'چھپ چھپا کر کام کرنے والے پاکستانی اپنی تنخواہ کا 80 فیصد حصّہ کفیلوں کو دے رہے ہیں جبکہ صرف 20 فیصد اپنے گھروں کو بجھوانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
Load Next Story