امریکی اعتراض مسترد ہر صورت میں جوہری ٹیکنالوجی کا استعمال جاری رکھیں گے ایران
ایران سے تجارتی تعلقات بڑھانے کی خواہش پر امریکاکی فرانس کو وارننگ
ایران میں جوہری تنصیبات کا خاتمہ ناممکن ہے تاہم یہ یقین دلاتے ہیں کہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرینگے، ایرانی صدر حسن روحانی کا ردعمل
ایران نے جوہری ٹیکنالوجی سے محروم کیے جانے کے امکانات کو رد اور جوہری پروگرام پر امریکی اعتراض مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ ملک میں واقع جوہری ٹھکانوں کے بارے میں کسی کے ساتھ بات چیت نہیں کی جائیگی۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا جوہری ٹیکنالوجی سے محروم کیے جانے کے امکان پر مذاکرات نامناسب ہیں، انھوں نے امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شیرمن کے اس بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ایران کو اپنے پرامن جوہری پروگرام کو ترقی دینے کیلیے اراک میں بھاری پانی کے ری ایکٹر اور فردو میں یورینیم افزودہ کرنے والے زیر زمین کارخانے کی ضرورت نہیں ہے۔محمد جواد ظریف نے کہاکہ ہمارا جوہری پروگرام پرامن نوعیت کا ہے، اس لیے ایران ملک میں واقع جوہری ٹھکانوں کے بارے میں کسی کے ساتھ بات چیت نہیں کرے گا۔
ایران کو جوہری ٹیکنالوجی سے محروم کئے جانے کے امکان پر مذاکرات نامناسب ہیں،ہمارا جوہری پروگرام پرامن نوعیت کا ہے جسے بند نہیں کیا جاسکتا۔ ایران کے نیوکیلئر چیف مذاکرات کار علی اکبر صالحی نے کہا کہ مغرب کا اعتماد بحال کرنے کیلیے نامکمل اراک ری ایکٹر کو مزید بہتر کیا جائے گا اور اس کا ڈیزائن تبدیل کیا جائے گا تاکہ اس سے کم پلوٹونیم حاصل کیا جاسکے۔ایرانی صدرحسن روحانی نے کہاہے کہ ایران میں جوہری تنصیبات کا خاتمہ ناممکن ہے تاہم یہ یقین دلاتے ہیں کہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کریں گے ۔ ادھر فرانس کے 100 سے زائد کاروباری شخصیات کے دورہ تہران پر امریکا نے فرانس کو سخت الفاظ میں وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے فرانس خبردار رہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا جوہری ٹیکنالوجی سے محروم کیے جانے کے امکان پر مذاکرات نامناسب ہیں، انھوں نے امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شیرمن کے اس بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ایران کو اپنے پرامن جوہری پروگرام کو ترقی دینے کیلیے اراک میں بھاری پانی کے ری ایکٹر اور فردو میں یورینیم افزودہ کرنے والے زیر زمین کارخانے کی ضرورت نہیں ہے۔محمد جواد ظریف نے کہاکہ ہمارا جوہری پروگرام پرامن نوعیت کا ہے، اس لیے ایران ملک میں واقع جوہری ٹھکانوں کے بارے میں کسی کے ساتھ بات چیت نہیں کرے گا۔
ایران کو جوہری ٹیکنالوجی سے محروم کئے جانے کے امکان پر مذاکرات نامناسب ہیں،ہمارا جوہری پروگرام پرامن نوعیت کا ہے جسے بند نہیں کیا جاسکتا۔ ایران کے نیوکیلئر چیف مذاکرات کار علی اکبر صالحی نے کہا کہ مغرب کا اعتماد بحال کرنے کیلیے نامکمل اراک ری ایکٹر کو مزید بہتر کیا جائے گا اور اس کا ڈیزائن تبدیل کیا جائے گا تاکہ اس سے کم پلوٹونیم حاصل کیا جاسکے۔ایرانی صدرحسن روحانی نے کہاہے کہ ایران میں جوہری تنصیبات کا خاتمہ ناممکن ہے تاہم یہ یقین دلاتے ہیں کہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کریں گے ۔ ادھر فرانس کے 100 سے زائد کاروباری شخصیات کے دورہ تہران پر امریکا نے فرانس کو سخت الفاظ میں وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے فرانس خبردار رہے۔