یوٹیلٹی بلز وصول نہ کرنیوالے بینکوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ
سسٹم یا نیٹ ورک خراب ہونے کی صورت میں بھی عوام سے یوٹیلٹی بلز مینوئل طریقہ کار کے تحت وصول کیے جائیں
کمرشل بینکوں کی نگرانی کو موثر بنانے کی ضرورت ہے، صبح سے آئے افراد کو عملہ 10بجے پنشن کی ادائیگی شروع کرتا ہے، اے ٹی ایم اکثرغیرفعال رہتی ہیں، صارفین. فوٹو: فائل
اسٹیٹ بینک نے صارفین سے یوٹیلٹی بلز وصول نہ کرنے والے بینکوں کو وارننگ جاری کردی، نیٹ ورک اور سسٹم کی خرابی کو جواز بناکر عوام کو تنگ کرنے والے بینکوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اسٹیٹ بینک نے تمام کمرشل بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ سسٹم یا نیٹ ورک خراب ہونے کی صورت میں بھی عوام سے یوٹیلٹی بلز وصول کیے جائیں اور اس کے لیے مینوئل طریقہ کار استعمال کیا جائے، اسٹیٹ بینک نے کمرشل بینکوں کی جانب سے صارفین سے یوٹیلٹی بلز کی عدم وصولی کے لیے حیلے بہانوں کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے انھیں سپریم کورٹ کے از خود نوٹس ( 2006کیس نمبر 4) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بینکوں کی بعض برانچوں نے بینکاری اوقات میں عوام سے یوٹیلٹی بلز نہ وصول کرنے کو معمول بنارکھا ہے اور اس مقصد کے لیے نیٹ ورک اور سسٹم کی خرابی کا عذر پیش کیا جاتا ہے، اسٹیٹ بینک نے بینکوں پر زور دیا ہے کہ فوری طور پر یہ طرز عمل ترک کرتے ہوئے عوام سے بینکاری اوقات میں بلارکاوٹ یوٹیلٹی بلز کی وصولی کو یقینی بنایا جائے،نیٹ ورک یا سسٹم میں حقیقی خرابی کی صورت میں بھی برانچ کی سطح پر مینوئل انتظامات کرکے بل وصول کیے جائیں جنھیں بعد میں سسٹم پر پراسیس کیا جائے۔
اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے بینکوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائیگی، ادھر صارفین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے کمرشل بینکوں کی نگرانی کو موثر بنانے کی اشد ضرورت ہے ،سپریم کورٹ نے کمرشل بینکوں میں کسٹمرز کے لیے سائبان اور پینے کے پانی کے انتظامات کو لازمی قرار دیا تھا تاہم بعض بینکوں نے سپریم کورٹ کی ہدایت کو بھی کوئی اہمیت نہیں دی چند روز کے لیے عارضی انتظامات کے بعد واکنگ کسٹمر تو درکنار کھاتے داروں کے لیے بھی کوئی سہولت مہیا نہیں کی گئی، بینکوں کے اے ٹی ایمز کی بندش بالخصوص تہوار اور ہفتہ وار تعطیل کے دنوں میں اے ٹی ایمز سروس کی معطلی معمول بن چکی ہے۔
سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کے حصول اور ریٹائرڈ سینئر سٹیژنز کو سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا ہے ،تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی پر مامور عملہ ملازمین اور سینئر سٹیژنز سے ہتک آمیز رویہ اختیار کرتا ہے، تنخواہوں کے چیکس کی گمشدگی، پنشنزر کے طویل انتظار اور نت نئے طریقوں سے تنگ کرنا معمول بن چکا ہے ، پنشن دینے والے بینکوں کے باہر صبح 8بجے سے قطاریں لگ جاتی ہیں تاہم بینکوں کا عملہ 10بجے تک پنشن کی ادائیگی شروع کرتا ہے، ریٹائرڈ والدین کے ساتھ جوائنٹ اکائونٹ رکھنے والے افراد کو پنشن وصول کرنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے ، صارفین نے اسٹیٹ بینک پر زور دیا ہے کہ فوری طور پر کمرشل بینکوں کے اچانک معائنے کی مہم شروع کی جائے اور موقع پر ہی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
اسٹیٹ بینک نے تمام کمرشل بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ سسٹم یا نیٹ ورک خراب ہونے کی صورت میں بھی عوام سے یوٹیلٹی بلز وصول کیے جائیں اور اس کے لیے مینوئل طریقہ کار استعمال کیا جائے، اسٹیٹ بینک نے کمرشل بینکوں کی جانب سے صارفین سے یوٹیلٹی بلز کی عدم وصولی کے لیے حیلے بہانوں کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے انھیں سپریم کورٹ کے از خود نوٹس ( 2006کیس نمبر 4) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بینکوں کی بعض برانچوں نے بینکاری اوقات میں عوام سے یوٹیلٹی بلز نہ وصول کرنے کو معمول بنارکھا ہے اور اس مقصد کے لیے نیٹ ورک اور سسٹم کی خرابی کا عذر پیش کیا جاتا ہے، اسٹیٹ بینک نے بینکوں پر زور دیا ہے کہ فوری طور پر یہ طرز عمل ترک کرتے ہوئے عوام سے بینکاری اوقات میں بلارکاوٹ یوٹیلٹی بلز کی وصولی کو یقینی بنایا جائے،نیٹ ورک یا سسٹم میں حقیقی خرابی کی صورت میں بھی برانچ کی سطح پر مینوئل انتظامات کرکے بل وصول کیے جائیں جنھیں بعد میں سسٹم پر پراسیس کیا جائے۔
اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے بینکوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائیگی، ادھر صارفین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے کمرشل بینکوں کی نگرانی کو موثر بنانے کی اشد ضرورت ہے ،سپریم کورٹ نے کمرشل بینکوں میں کسٹمرز کے لیے سائبان اور پینے کے پانی کے انتظامات کو لازمی قرار دیا تھا تاہم بعض بینکوں نے سپریم کورٹ کی ہدایت کو بھی کوئی اہمیت نہیں دی چند روز کے لیے عارضی انتظامات کے بعد واکنگ کسٹمر تو درکنار کھاتے داروں کے لیے بھی کوئی سہولت مہیا نہیں کی گئی، بینکوں کے اے ٹی ایمز کی بندش بالخصوص تہوار اور ہفتہ وار تعطیل کے دنوں میں اے ٹی ایمز سروس کی معطلی معمول بن چکی ہے۔
سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کے حصول اور ریٹائرڈ سینئر سٹیژنز کو سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا ہے ،تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی پر مامور عملہ ملازمین اور سینئر سٹیژنز سے ہتک آمیز رویہ اختیار کرتا ہے، تنخواہوں کے چیکس کی گمشدگی، پنشنزر کے طویل انتظار اور نت نئے طریقوں سے تنگ کرنا معمول بن چکا ہے ، پنشن دینے والے بینکوں کے باہر صبح 8بجے سے قطاریں لگ جاتی ہیں تاہم بینکوں کا عملہ 10بجے تک پنشن کی ادائیگی شروع کرتا ہے، ریٹائرڈ والدین کے ساتھ جوائنٹ اکائونٹ رکھنے والے افراد کو پنشن وصول کرنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے ، صارفین نے اسٹیٹ بینک پر زور دیا ہے کہ فوری طور پر کمرشل بینکوں کے اچانک معائنے کی مہم شروع کی جائے اور موقع پر ہی کارروائی عمل میں لائی جائے۔