’’ایکسپریس‘‘ کے اشتراک سے لمز یونیورسٹی میں شام غزل حاضرین جھومتے رہے
شدید سردی کے باوجودطلبا اور اساتذہ کاغزل گائیک غلام عباس کو خراج تحسین،علی بدرمیانداد اورحسن عباس کی بھی عمدہ پرفارمنس
لمزیونیورسٹی لٹریری سو سائٹی کے زیراہتمام اور ایکسپریس میڈیا گروپ کے تعاون سے شام غزل میں گلوکار غلام عباس اور علی بدر فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔ فوٹو : طارق حسن / ایکسپریس
''ایکسپریس میڈیا گروپ'' اورلمزیونیورسٹی کے اشتراک سے گزشتہ شب شام غزل کاانعقاد کیا گیا۔
اس موقع پر لمزیونیورسٹی کی لٹریری سوسائٹی نے برصغیر کے معروف شاعراورادیب فیض احمد فیض، احمد فراز اورشہنشاہ غزل مہدی حسن کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے غزل کی محفل سجائی۔ سخت سردی کے باوجود طلبا اور اساتذہ کی کثیر تعداد رات گئے تک پاکستان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ غزل گائیک غلام عباس کی پرفارمنس سے لطف اندوزہوتی رہی۔ دوسری جانب نوجوان گلوکارعلی بدرمیانداد اورمعروف پیروڈی سنگرحسن عباس کی عمدہ پرفارمنس نے بھی شام غزل کوچارچاند لگا دیے۔
اس موقع پرسنگت کے فرائض ملک کے معروف سازندوں طاہراقبال، سجاد ڈاڈو اورساجی نے انجام دیے۔ واضح رہے کہ شام غزل کے شرکا میں جہاں لمز کی لٹریری سوسائٹی کے ممبران اوراساتذہ شامل تھے، وہیں فیض احمد فیض کی صاحبزادی سلیمہ ہاشمی بھی خاص طورپر محفل سے لطف اندوزہونے کے لیے موجود تھیں۔ جنہوں نے غلام عباس اورعلی بدرکی عمدہ پرفارمنس پرانھیں خوب داد دی۔ لٹریری سوسائٹی کے صدرعقیل احمد یوسفزئی اورشام غزل کی آرگنائزنگ کمیٹی میں شامل علمہ قریشی، ماہین اورعمرطارق نے اس ایونٹ کو کامیاب بنانے کے لیے بہت محنت کی۔ دن بھر جاری رہنے والی بارش کے باوجود لٹریری سوسائٹی کے علاوہ ایونٹ میں یونیورسٹی کے دوسرے ڈیپارٹمنٹس کے اسٹوڈنٹس بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پرغلام عباس نے اپنی مقبول غزلیں اورگیت سنائے جب کہ اپنے استاد شہنشاہ غزل مہدی حسن اورفیض احمد فیض کی غزلیں بھی پیش کیں جس سے حاضرین محظوظ ہوتے رہے۔ حاضرین کی فرمائش پر غلام عباس نے جونہی موسم کی مناسبت سے اپناایک گیت ''برسات کے موسم میں'' سنایا تو اسٹوڈنٹس نے اس کو خوب انجوائے کیا۔ نوجوان گلوکارعلی بدر نے فیض احمد فیض کی غزلیں پیش کیں جن کوبہت سراہا گیا۔
اس موقع پرعلی بدرنے کچھ اشعاربھی پیش کیے جن پر شرکا نے خوب داد دی۔ دوسری جانب پیروڈی سنگرحسن عباس نے ملکہ ترنم نورجہاں، ریشماں اور استاد نصرت فتح علی خاں کواپنے منفرد انداز میں ٹریبیوٹ پیش کیا۔ جس پراسٹوڈنٹس قہقہے لگاتے رہے۔ تین گھنٹے تک جاری رہنے والی شام غزل کے اختتام پرفیض احمد فیض کی صاحبزادی سلیمہ ہاشمی کا کہنا تھا کہ غلام عباس موجودہ دور کے گلوکاروں میں منفرد آواز کے مالک ہیں۔ انھوں نے بہترین پرفارمنس سے اپنے اساتذہ اورسینئرگلوکاروں کی نمائندگی کا حق ادا کیا۔ خاص طورپرفیض کا کلام جس خوبصورت انداز سے گاتے ہیں وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ غزل گائیک غلام عباس کا کہنا تھا کہ ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' کے زیراہتمام اس شام غزل میں پرفارم کرکے بہت اچھا لگا۔ لمزیونیورسٹی کسی تعارف کی محتاج نہیں لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ہماری نوجوان نسل غزل گائیکی سے اتنا لگاؤرکھتی ہے۔ لمزکی لٹریری سوسائٹی نے ادب کے فروغ کے لیے جو محفل سجائی، وہ برسوں یادرہے گی۔ یہ ان نوجوان اسٹوڈنٹس کی چاہت ہی تھی کہ شدید سردی کے باوجود ہم نے اپنی پرفارمنس جاری رکھی ۔'' ایکسپریس میڈیا گروپ '' کی ٹیم اکثرایونٹس کاانعقاد کرتی ہے لیکن میری اپیل ہے کہ لمز یونیورسٹی اور دیگرتعلیمی اداروں میں بھی اس طرح کی محفلیں سجائی جانی چاہئیں۔
گلوکارعلی بدرمیانداد نے کہاکہ نوجوان نسل زیادہ ترپاپ میوزک کے کنسرٹس میں دکھائی دیتی ہے لیکن جس طرح سے اسٹوڈنٹس نے غزل گائیکی سے اپنے شوق کااظہارکیا، اس کا تمام کریڈٹ '' ایکسپریس میڈیا گروپ '' کوجاتا ہے۔ جنہوں نے لمزیونیورسٹی کے ساتھ مل کرایک خوبصورت شام غزل سجائی اور ہمیں اپنے فن کے اظہارکا موقع دیا۔ پیروڈی سنگرحسن عباس نے کہا کہ ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' کی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے جنہوں نے اتنی شاندارمحفل کا اہتمام کیا۔ سخت سردی میں رات گئے تک اسٹوڈنٹس نے جس طرح ہماری پرفارمنس کوسراہا، اس کو کبھی نہیںبھلا سکوں گا۔ دوسری جانب لٹریری سوسائٹی کے صدرعقیل احمد یوسفزئی اور آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبران علمہ قریشی، ماہین اورعمر نے بتایا کہ ایکسپریس میڈیا گروپ کا اخبار ''روزنامہ ایکسپریس'' اور'' ایکسپریس ٹریبیون '' یہاں کے طلبا وطالبات کا پسندیدہ اخبار ہے اور اس تقریب کے انعقاد کے لیے ایکسپریس میڈیا گروپ کی انتظامیہ نے جوتعاون کیا۔
اس سے ''ایکسپریس گروپ'' کی عزت ووقار میں مزید اضافہ ہوا، یہ مسرت کی بات ہے کہ ایکسپریس نے حالات حاضرہ سے آگاہ رکھنے کے ساتھ ساتھ ادب وثقافت اورکھیلوں کی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اپنا بھرپورکردار ادا کیا۔ لمز کی لٹریری سوسائٹی اکثر سیمینارز ، مشاعرے اوراس طرح کی سرگرمیوںکا انعقاد کرتی رہتی ہے لیکن ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' کے تعاون سے ہماری محفل کوزبردست رسپانس ملا۔ شدید سردی کے بعد ہمیں یوں محسوس ہو رہا تھا کہ شاید اسٹوڈنٹس اوراساتذہ شام غزل میں شریک نہیں ہونگے لیکن کثیر تعداد پروگرام کے اختتام پرتک محفل میں موجود رہی اورہم آئندہ بھی ''ایکسپریس گروپ'' کے ساتھ مل کراس طرح کی خوبصورت محفلیں سجاتے رہیں گے۔
اس موقع پر لمزیونیورسٹی کی لٹریری سوسائٹی نے برصغیر کے معروف شاعراورادیب فیض احمد فیض، احمد فراز اورشہنشاہ غزل مہدی حسن کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے غزل کی محفل سجائی۔ سخت سردی کے باوجود طلبا اور اساتذہ کی کثیر تعداد رات گئے تک پاکستان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ غزل گائیک غلام عباس کی پرفارمنس سے لطف اندوزہوتی رہی۔ دوسری جانب نوجوان گلوکارعلی بدرمیانداد اورمعروف پیروڈی سنگرحسن عباس کی عمدہ پرفارمنس نے بھی شام غزل کوچارچاند لگا دیے۔
اس موقع پرسنگت کے فرائض ملک کے معروف سازندوں طاہراقبال، سجاد ڈاڈو اورساجی نے انجام دیے۔ واضح رہے کہ شام غزل کے شرکا میں جہاں لمز کی لٹریری سوسائٹی کے ممبران اوراساتذہ شامل تھے، وہیں فیض احمد فیض کی صاحبزادی سلیمہ ہاشمی بھی خاص طورپر محفل سے لطف اندوزہونے کے لیے موجود تھیں۔ جنہوں نے غلام عباس اورعلی بدرکی عمدہ پرفارمنس پرانھیں خوب داد دی۔ لٹریری سوسائٹی کے صدرعقیل احمد یوسفزئی اورشام غزل کی آرگنائزنگ کمیٹی میں شامل علمہ قریشی، ماہین اورعمرطارق نے اس ایونٹ کو کامیاب بنانے کے لیے بہت محنت کی۔ دن بھر جاری رہنے والی بارش کے باوجود لٹریری سوسائٹی کے علاوہ ایونٹ میں یونیورسٹی کے دوسرے ڈیپارٹمنٹس کے اسٹوڈنٹس بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پرغلام عباس نے اپنی مقبول غزلیں اورگیت سنائے جب کہ اپنے استاد شہنشاہ غزل مہدی حسن اورفیض احمد فیض کی غزلیں بھی پیش کیں جس سے حاضرین محظوظ ہوتے رہے۔ حاضرین کی فرمائش پر غلام عباس نے جونہی موسم کی مناسبت سے اپناایک گیت ''برسات کے موسم میں'' سنایا تو اسٹوڈنٹس نے اس کو خوب انجوائے کیا۔ نوجوان گلوکارعلی بدر نے فیض احمد فیض کی غزلیں پیش کیں جن کوبہت سراہا گیا۔
اس موقع پرعلی بدرنے کچھ اشعاربھی پیش کیے جن پر شرکا نے خوب داد دی۔ دوسری جانب پیروڈی سنگرحسن عباس نے ملکہ ترنم نورجہاں، ریشماں اور استاد نصرت فتح علی خاں کواپنے منفرد انداز میں ٹریبیوٹ پیش کیا۔ جس پراسٹوڈنٹس قہقہے لگاتے رہے۔ تین گھنٹے تک جاری رہنے والی شام غزل کے اختتام پرفیض احمد فیض کی صاحبزادی سلیمہ ہاشمی کا کہنا تھا کہ غلام عباس موجودہ دور کے گلوکاروں میں منفرد آواز کے مالک ہیں۔ انھوں نے بہترین پرفارمنس سے اپنے اساتذہ اورسینئرگلوکاروں کی نمائندگی کا حق ادا کیا۔ خاص طورپرفیض کا کلام جس خوبصورت انداز سے گاتے ہیں وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ غزل گائیک غلام عباس کا کہنا تھا کہ ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' کے زیراہتمام اس شام غزل میں پرفارم کرکے بہت اچھا لگا۔ لمزیونیورسٹی کسی تعارف کی محتاج نہیں لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ہماری نوجوان نسل غزل گائیکی سے اتنا لگاؤرکھتی ہے۔ لمزکی لٹریری سوسائٹی نے ادب کے فروغ کے لیے جو محفل سجائی، وہ برسوں یادرہے گی۔ یہ ان نوجوان اسٹوڈنٹس کی چاہت ہی تھی کہ شدید سردی کے باوجود ہم نے اپنی پرفارمنس جاری رکھی ۔'' ایکسپریس میڈیا گروپ '' کی ٹیم اکثرایونٹس کاانعقاد کرتی ہے لیکن میری اپیل ہے کہ لمز یونیورسٹی اور دیگرتعلیمی اداروں میں بھی اس طرح کی محفلیں سجائی جانی چاہئیں۔
گلوکارعلی بدرمیانداد نے کہاکہ نوجوان نسل زیادہ ترپاپ میوزک کے کنسرٹس میں دکھائی دیتی ہے لیکن جس طرح سے اسٹوڈنٹس نے غزل گائیکی سے اپنے شوق کااظہارکیا، اس کا تمام کریڈٹ '' ایکسپریس میڈیا گروپ '' کوجاتا ہے۔ جنہوں نے لمزیونیورسٹی کے ساتھ مل کرایک خوبصورت شام غزل سجائی اور ہمیں اپنے فن کے اظہارکا موقع دیا۔ پیروڈی سنگرحسن عباس نے کہا کہ ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' کی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے جنہوں نے اتنی شاندارمحفل کا اہتمام کیا۔ سخت سردی میں رات گئے تک اسٹوڈنٹس نے جس طرح ہماری پرفارمنس کوسراہا، اس کو کبھی نہیںبھلا سکوں گا۔ دوسری جانب لٹریری سوسائٹی کے صدرعقیل احمد یوسفزئی اور آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبران علمہ قریشی، ماہین اورعمر نے بتایا کہ ایکسپریس میڈیا گروپ کا اخبار ''روزنامہ ایکسپریس'' اور'' ایکسپریس ٹریبیون '' یہاں کے طلبا وطالبات کا پسندیدہ اخبار ہے اور اس تقریب کے انعقاد کے لیے ایکسپریس میڈیا گروپ کی انتظامیہ نے جوتعاون کیا۔
اس سے ''ایکسپریس گروپ'' کی عزت ووقار میں مزید اضافہ ہوا، یہ مسرت کی بات ہے کہ ایکسپریس نے حالات حاضرہ سے آگاہ رکھنے کے ساتھ ساتھ ادب وثقافت اورکھیلوں کی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اپنا بھرپورکردار ادا کیا۔ لمز کی لٹریری سوسائٹی اکثر سیمینارز ، مشاعرے اوراس طرح کی سرگرمیوںکا انعقاد کرتی رہتی ہے لیکن ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' کے تعاون سے ہماری محفل کوزبردست رسپانس ملا۔ شدید سردی کے بعد ہمیں یوں محسوس ہو رہا تھا کہ شاید اسٹوڈنٹس اوراساتذہ شام غزل میں شریک نہیں ہونگے لیکن کثیر تعداد پروگرام کے اختتام پرتک محفل میں موجود رہی اورہم آئندہ بھی ''ایکسپریس گروپ'' کے ساتھ مل کراس طرح کی خوبصورت محفلیں سجاتے رہیں گے۔