ماتحت عدالتوں کی کارکردگی کے باعث شہری مایوس ہو رہے ہیں سابق چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی
3 صوبوں میں50 فیصد مقدمات کے فیصلے اردو میں تحریرکیے جاتے ہیں،سندھ میں انگریزی میں اظہارکو فخر سمجھاجاتا ہے
آئین کے تحت15سال میں اردوکا نفاذ ضروری تھا، ملک میں ایک زبان رائج ہونے سے تعصب اوردہشتگردی کاخاتمہ ہوگا،سیمینار سے خطاب۔فوٹو:فائل
سپریم کورٹ کے سینئر جسٹس انورظہیر جمالی نے کہا ہے کہ اسلامی نظام عدل اور اردو زبان کو فروغ دے کر ہی پاکستانی قوم تشکیل پاسکتی ہے۔
سابق چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی نے کہا کہ نظریہ پاکستان آئین کے دیباچے میں موجود ہے جو ملک کی اسلامی شناخت کا اظہار کرتی ہے،ماتحت عدالتوں کی کارکردگی کے باعث عام آدمی عدلیہ سے مایوس ہورہا ہے،ان خیالات کا اظہار انھوں نے ایس ایم لا کالج کے ہال میں پاکستان ، انڈیا اور بنگلہ دیش کے دساتیر کے تقابلی جائزے کے متعلق خلجی فہد عارف ایڈووکیٹ کی کتاب کی رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا، تقریب سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس خلجی عارف حسین ، سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس منیب احمد خان ، سابق اٹارنی جنرلز منیر اے ملک ، بیرسٹر مخدوم علی خان ،رشید اے رضوی ، ابرارحسن اور بیرسٹرخالد جاوید احمدخان نے بھی خطاب کیا جبکہ شہید بے نظیر بھٹو لا یونیورسٹی کے وائس چانسلر قاضی خالد ایڈووکیٹ نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا، تقریب میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس تصدق جیلانی کا پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا جبکہ سپریم کورٹ کے جسٹس امیرہانی مسلم ،سندھ ہائیکورٹ کے متعدد ججوںاور وکلاکی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
جسٹس انورظہیر جمالی نے اپنے خطاب میں کہا کہ خیبر پختونخواہ ، پنجاب اور بلوچستان میں 50فیصد مقدمات کے فیصلے اردو زبان میں تحریر کیے جاتے ہیں لیکن سندھ احساس کمتری میں مبتلا وہ صوبہ ہے جہاں انگریزی میں اظہار کو فخر سمجھا جاتا ہے ، حالانکہ یہاں حکومت گھوسٹ اسکولوں کے نام پر 40ارب روپے سالانہ تعلیم پر خرچ کرتی ہے ، ،جسٹس انورظہیر جمالی نے کہاکہ وہ کسی پر تنقید نہیں کرنا چاہتے لیکن یہ بات ضرور کہنا چاہتے ہیں کہ ایک ڈکٹیٹر نے عدالتی نظام کو اسلامی رنگ دینے کی کوشش کی اور شریعت کورٹ کا قیام عمل میں آیا لیکن یہ شریعت کورٹ کتنی فعال ہے اورکس حال میں ہے یہ سب کے سامنے ہے ، وکلا عدالتوں میں انڈیا، انگلینڈ اور دیگر مغربی ممالک کے قوانین اور فلسفہ قانون کا حوالہ دیتے ہیں لیکن اسلامی نظام میں کثیر تعداد میں روشن مثالیں ہونے کے باوجود انکا حوالہ نہیں دیاجاتا، قرآن اور احادیث بھی حوالہ جات میں کم ہی آتی ہے۔
جسٹس جمالی نے اردو زبان کے حوالے سے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 251کے تحت 15سال میں ہرشعبہ زندگی میں بتدریج اردو زبان کا نفاذ ہونا ضروری تھا لیکن 73کے آئین کو 40سال ہوگئے مگر ابھی تک وہ آئینی 15سال مکمل نہیں ہوئے ، پورے ملک میں ایک زبان رائج ہونے سے تعصب ،دہشت گردی اور لسانیت کا خاتمہ ہوگا، ایک زبان سے ایک تہذیب ، ایک ثقافت اورایک سوچ پیدا ہوگی ،سابق چیف جسٹس پاکستان سعید الزمان صدیقی نے کہا کہ سائوتھ ایشا کے ممالک کے آئین کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے پاکستانی آئین کی انفرادیت کے اس پہلوکا جائزہ بھی لیا جانا ضروری ہے کہ اس کے دیباچے قرارداد مقاصد میں نظریہ پاکستان کی تشریح کردی گئی ہے اورآئین کی حدود کا تعین کردیا گیا ہے کہ یہاں حاکمیت اللہ کی ہوگی،جبکہ انڈیا اور بنگلہ دیش کے آئین سیکولر اسٹیٹ کی نمائندگی کرتے ہیں،سپریم کورٹ کے جسٹس اورکتاب کے مصنف کے والد خلجی عارف حسین نے کہا کہ وکالت پیسہ کمانے کا پیشہ نہیں بلکہ یہ ایمانداری ،عاجزی اور کردار کاتقاضا کرتا ہے ، سابق اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے کہا کہ گزشتہ 7سالوںمیں عدلیہ میں نیا مائنڈ سیٹ آیا ہے ، رشید اے رضوی ایڈووکیٹ نے کہا کہ بھارت کے ریٹائرڈ ججز قوانین کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سابق چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی نے کہا کہ نظریہ پاکستان آئین کے دیباچے میں موجود ہے جو ملک کی اسلامی شناخت کا اظہار کرتی ہے،ماتحت عدالتوں کی کارکردگی کے باعث عام آدمی عدلیہ سے مایوس ہورہا ہے،ان خیالات کا اظہار انھوں نے ایس ایم لا کالج کے ہال میں پاکستان ، انڈیا اور بنگلہ دیش کے دساتیر کے تقابلی جائزے کے متعلق خلجی فہد عارف ایڈووکیٹ کی کتاب کی رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا، تقریب سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس خلجی عارف حسین ، سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس منیب احمد خان ، سابق اٹارنی جنرلز منیر اے ملک ، بیرسٹر مخدوم علی خان ،رشید اے رضوی ، ابرارحسن اور بیرسٹرخالد جاوید احمدخان نے بھی خطاب کیا جبکہ شہید بے نظیر بھٹو لا یونیورسٹی کے وائس چانسلر قاضی خالد ایڈووکیٹ نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا، تقریب میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس تصدق جیلانی کا پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا جبکہ سپریم کورٹ کے جسٹس امیرہانی مسلم ،سندھ ہائیکورٹ کے متعدد ججوںاور وکلاکی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
جسٹس انورظہیر جمالی نے اپنے خطاب میں کہا کہ خیبر پختونخواہ ، پنجاب اور بلوچستان میں 50فیصد مقدمات کے فیصلے اردو زبان میں تحریر کیے جاتے ہیں لیکن سندھ احساس کمتری میں مبتلا وہ صوبہ ہے جہاں انگریزی میں اظہار کو فخر سمجھا جاتا ہے ، حالانکہ یہاں حکومت گھوسٹ اسکولوں کے نام پر 40ارب روپے سالانہ تعلیم پر خرچ کرتی ہے ، ،جسٹس انورظہیر جمالی نے کہاکہ وہ کسی پر تنقید نہیں کرنا چاہتے لیکن یہ بات ضرور کہنا چاہتے ہیں کہ ایک ڈکٹیٹر نے عدالتی نظام کو اسلامی رنگ دینے کی کوشش کی اور شریعت کورٹ کا قیام عمل میں آیا لیکن یہ شریعت کورٹ کتنی فعال ہے اورکس حال میں ہے یہ سب کے سامنے ہے ، وکلا عدالتوں میں انڈیا، انگلینڈ اور دیگر مغربی ممالک کے قوانین اور فلسفہ قانون کا حوالہ دیتے ہیں لیکن اسلامی نظام میں کثیر تعداد میں روشن مثالیں ہونے کے باوجود انکا حوالہ نہیں دیاجاتا، قرآن اور احادیث بھی حوالہ جات میں کم ہی آتی ہے۔
جسٹس جمالی نے اردو زبان کے حوالے سے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 251کے تحت 15سال میں ہرشعبہ زندگی میں بتدریج اردو زبان کا نفاذ ہونا ضروری تھا لیکن 73کے آئین کو 40سال ہوگئے مگر ابھی تک وہ آئینی 15سال مکمل نہیں ہوئے ، پورے ملک میں ایک زبان رائج ہونے سے تعصب ،دہشت گردی اور لسانیت کا خاتمہ ہوگا، ایک زبان سے ایک تہذیب ، ایک ثقافت اورایک سوچ پیدا ہوگی ،سابق چیف جسٹس پاکستان سعید الزمان صدیقی نے کہا کہ سائوتھ ایشا کے ممالک کے آئین کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے پاکستانی آئین کی انفرادیت کے اس پہلوکا جائزہ بھی لیا جانا ضروری ہے کہ اس کے دیباچے قرارداد مقاصد میں نظریہ پاکستان کی تشریح کردی گئی ہے اورآئین کی حدود کا تعین کردیا گیا ہے کہ یہاں حاکمیت اللہ کی ہوگی،جبکہ انڈیا اور بنگلہ دیش کے آئین سیکولر اسٹیٹ کی نمائندگی کرتے ہیں،سپریم کورٹ کے جسٹس اورکتاب کے مصنف کے والد خلجی عارف حسین نے کہا کہ وکالت پیسہ کمانے کا پیشہ نہیں بلکہ یہ ایمانداری ،عاجزی اور کردار کاتقاضا کرتا ہے ، سابق اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے کہا کہ گزشتہ 7سالوںمیں عدلیہ میں نیا مائنڈ سیٹ آیا ہے ، رشید اے رضوی ایڈووکیٹ نے کہا کہ بھارت کے ریٹائرڈ ججز قوانین کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔