ٹاؤن پلاننگ کے تمام اختیارات سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو منتقل صوبائی اسمبلی نے منظوری دیدی
لگتاہے سندھ حکومت بلدیاتی انتخابات نہیں کراناچاہتی،فیصل سبزواری،مقامی حکومتیں بہترکام نہیں کرسکیں، شرجیل میمن
فنکشنل اورن لیگ کی جانب سے بھی ترمیمی بل کی مخالفت،پولیس کوجدید آلات اوراسلحے کی خریداری کیلیے بل منظورکرلیا گیا۔ فوٹو: فائل
QUETTA:
سندھ اسمبلی نے جمعے کوایک بل کثرت رائے سے منظور کرلیاجس کے تحت ٹاؤن پلاننگ سے متعلق تمام اختیارات مقامی حکومتوں(بلدیاتی اداروں) سے واپس لے کرسندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی(ایس بی سی اے) کوسونپ دیے گئے ہیں۔
یہ بل '' سندھ بلڈنگ کنٹرول (ترمیمی) بل 2014 ء ''کہلائے گا،اپوزیشن نے اس بل کی مخالفت کی ،متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم ) کے ارکان نے کہا کہ سندھ حکومت جس طرح مقامی حکومتوں سے اختیارات واپس لے رہی ہے ، اس سے لگتاہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات نہیں کراناچاہتی ہے ۔وزیر بلدیات و اطلاعات شرجیل میمن نے کہا کہ حکومت بلدیاتی انتخابات کرانا چاہتی ہے ،ٹاؤن پلاننگ سے متعلق اختیارات مقامی حکومتوں کو دینے سے شہروں کی حالت خراب ہوگئی اوررفاہی پلاٹوں پرقبضے ہوگئے،مقامی حکومتیں یہ کام صحیح طریقے سے نہیںکرسکی ہیں،اس لیے ان سے یہ اختیارات واپس لیے جا رہے ہیں۔ وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر سکندر میندھرو نے کہا کہ ہم پورے صوبے میں ایک مرکزی ماسٹر پلان ڈیپارٹمنٹ بنانا چاہتے ہیں تاکہ بہترٹاؤن پلاننگ ہوسکے،اس لیے ٹاؤن پلاننگ ڈپارٹمنٹ حیدرآباد،ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ کراچی،ٹا ؤن پلاننگ اورٹاؤن امپرومنٹ سے متعلق دیگرشعبوں کے فنی ، مالیاتی اور انتظامی اختیارات سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو اس ترمیمی بل کے ذریعے سونپے جارہے ہیں۔
ایم کیو ایم کے خواجہ اظہارالحسن نے کہا کہ اس طرح کے بل لانے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ حکومت بلدیاتی انتخابات نہیں کراناچاہتی، اس لیے سارے اختیارات بلدیاتی اداروں سے واپس صوبوں کو منتقل کیے جارہے ہیں ۔اسپیکر آغا سراج درانی نے کہاکہ بلدیاتی انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے ،اس نے جو انتخابی شیڈول دیا تھا اس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوگئے ہیں،حکومت سندھ بلدیاتی انتخابات کرانا چاہتی ہے ۔ شرجیل میمن نے کہا کہ ہم بلدیاتی انتخابات کے خلاف عدالت میں نہیں گئے تھے،ماسٹر پلاننگ کے اختیارات لوکل کونسلز کو دیے گئے تو شہروں کی حالت خراب ہوگئی،رفاہی پلاٹوں پر شادی ہالز قائم کردیے گئے، لوکل کونسلزصحیح طریقے سے کام نہیں کرسکی،اس لیے ان سے یہ اختیارات واپس لیے جا رہے ہیں ۔ اپوزیشن لیڈر فیصل سبزواری نے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 140 کے تحت مقامی حکومتیں بننی چاہئیں،اختیارات کی نچلی سطح پرتقسیم سے ہی گڈ گورننس آئے گی،اگرسندھ حکومت کومقامی حکومتیں پسندنہیں ہیں توآئین میں ترامیم کراکے مقامی حکومتیں ختم کرادے ۔
(فنکشنل)لیگ اور پاکستان مسلم لیگ ( ن) کے ارکان نے کہا کہ انھیں بل کو پڑھنے کے لیے وقت دیا جائے اور یہ بل پیر تک مؤخر کیا جائے لیکن ان کی بات بھی نہیں مانی گئی۔بل پر رائے شماری میں اپوزیشن نے بل کی مخالفت کی ۔ دریں اثناء متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے کورنگی کے کارکن سلمان کی اغواکے بعد قتل کیخلاف جمعے کو سندھ اسمبلی کے اجلاس سے واک آئوٹ کیا۔قبل ازیں اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر ایم کیو ایم کے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرفیصل سبزواری نے کہا کہ اس وقت شہرمیں سادہ لباس میں مسلح افراد گھوم رہے ہیں،وہ بغیر نمبرپلیٹ کی گاڑیوں میں ہوتے ہیں اور وہ کسی کو بھی گھریا راستے سے اغوا کرلیتے ہیں اور بعدازاں ان کو بدترین تشدد کرکے قتل کردیا جاتا ہے ۔انھوں نے کہا کہ اگر کسی پرکوئی الزام ہے تو اس کو ضرور گرفتار کیاجائے اور ان کا مقدمہ عدالت میں لایا جائے اس طرح کے ماروائے عدالت قتل سے یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ کراچی کا ٹارگٹڈ آپریشن کسی ایک مخصوص طبقے تک محدود کردیا گیا ہو۔
بعدازاں ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی نے اسمبلی سے احتجاجاً واک آئوٹ کیا۔سندھ کے وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر کی جانب سے اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ وہ کون سے عناصرہیں اس طرح کے واقعات میں کون لوگ ملوث ہیں اس کی حکومت انکوائری کرے گی۔سندھ اسمبلی نے جمعے کوایک بل اتفاق رائے سے منظورکرلیا جس کے تحت پولیس کوایک سال کے لیے اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ہنگامی بنیاد پر ہتھیار ، اسلحہ اور گاڑیاں خرید کرسکے،اس خریداری پر سندھ پبلک پروکیورمنٹ اتھارٹی (سیپرا) ایکٹ 2009 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کا اطلاق نہیں ہوگا،اس بل کو''سندھ ایمرجنسی پروکیورمنٹ بل 2014 '' کہاجائے گا،اس بل میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور صوبے کے عوام کے تحفظ کے لیے مختلف آئٹمز کی ہنگامی بنیادوں پر خریداری کی جاسکے گی ۔
سندھ اسمبلی نے جمعے کوایک بل کثرت رائے سے منظور کرلیاجس کے تحت ٹاؤن پلاننگ سے متعلق تمام اختیارات مقامی حکومتوں(بلدیاتی اداروں) سے واپس لے کرسندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی(ایس بی سی اے) کوسونپ دیے گئے ہیں۔
یہ بل '' سندھ بلڈنگ کنٹرول (ترمیمی) بل 2014 ء ''کہلائے گا،اپوزیشن نے اس بل کی مخالفت کی ،متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم ) کے ارکان نے کہا کہ سندھ حکومت جس طرح مقامی حکومتوں سے اختیارات واپس لے رہی ہے ، اس سے لگتاہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات نہیں کراناچاہتی ہے ۔وزیر بلدیات و اطلاعات شرجیل میمن نے کہا کہ حکومت بلدیاتی انتخابات کرانا چاہتی ہے ،ٹاؤن پلاننگ سے متعلق اختیارات مقامی حکومتوں کو دینے سے شہروں کی حالت خراب ہوگئی اوررفاہی پلاٹوں پرقبضے ہوگئے،مقامی حکومتیں یہ کام صحیح طریقے سے نہیںکرسکی ہیں،اس لیے ان سے یہ اختیارات واپس لیے جا رہے ہیں۔ وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر سکندر میندھرو نے کہا کہ ہم پورے صوبے میں ایک مرکزی ماسٹر پلان ڈیپارٹمنٹ بنانا چاہتے ہیں تاکہ بہترٹاؤن پلاننگ ہوسکے،اس لیے ٹاؤن پلاننگ ڈپارٹمنٹ حیدرآباد،ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ کراچی،ٹا ؤن پلاننگ اورٹاؤن امپرومنٹ سے متعلق دیگرشعبوں کے فنی ، مالیاتی اور انتظامی اختیارات سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو اس ترمیمی بل کے ذریعے سونپے جارہے ہیں۔
ایم کیو ایم کے خواجہ اظہارالحسن نے کہا کہ اس طرح کے بل لانے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ حکومت بلدیاتی انتخابات نہیں کراناچاہتی، اس لیے سارے اختیارات بلدیاتی اداروں سے واپس صوبوں کو منتقل کیے جارہے ہیں ۔اسپیکر آغا سراج درانی نے کہاکہ بلدیاتی انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے ،اس نے جو انتخابی شیڈول دیا تھا اس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوگئے ہیں،حکومت سندھ بلدیاتی انتخابات کرانا چاہتی ہے ۔ شرجیل میمن نے کہا کہ ہم بلدیاتی انتخابات کے خلاف عدالت میں نہیں گئے تھے،ماسٹر پلاننگ کے اختیارات لوکل کونسلز کو دیے گئے تو شہروں کی حالت خراب ہوگئی،رفاہی پلاٹوں پر شادی ہالز قائم کردیے گئے، لوکل کونسلزصحیح طریقے سے کام نہیں کرسکی،اس لیے ان سے یہ اختیارات واپس لیے جا رہے ہیں ۔ اپوزیشن لیڈر فیصل سبزواری نے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 140 کے تحت مقامی حکومتیں بننی چاہئیں،اختیارات کی نچلی سطح پرتقسیم سے ہی گڈ گورننس آئے گی،اگرسندھ حکومت کومقامی حکومتیں پسندنہیں ہیں توآئین میں ترامیم کراکے مقامی حکومتیں ختم کرادے ۔
(فنکشنل)لیگ اور پاکستان مسلم لیگ ( ن) کے ارکان نے کہا کہ انھیں بل کو پڑھنے کے لیے وقت دیا جائے اور یہ بل پیر تک مؤخر کیا جائے لیکن ان کی بات بھی نہیں مانی گئی۔بل پر رائے شماری میں اپوزیشن نے بل کی مخالفت کی ۔ دریں اثناء متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے کورنگی کے کارکن سلمان کی اغواکے بعد قتل کیخلاف جمعے کو سندھ اسمبلی کے اجلاس سے واک آئوٹ کیا۔قبل ازیں اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر ایم کیو ایم کے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرفیصل سبزواری نے کہا کہ اس وقت شہرمیں سادہ لباس میں مسلح افراد گھوم رہے ہیں،وہ بغیر نمبرپلیٹ کی گاڑیوں میں ہوتے ہیں اور وہ کسی کو بھی گھریا راستے سے اغوا کرلیتے ہیں اور بعدازاں ان کو بدترین تشدد کرکے قتل کردیا جاتا ہے ۔انھوں نے کہا کہ اگر کسی پرکوئی الزام ہے تو اس کو ضرور گرفتار کیاجائے اور ان کا مقدمہ عدالت میں لایا جائے اس طرح کے ماروائے عدالت قتل سے یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ کراچی کا ٹارگٹڈ آپریشن کسی ایک مخصوص طبقے تک محدود کردیا گیا ہو۔
بعدازاں ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی نے اسمبلی سے احتجاجاً واک آئوٹ کیا۔سندھ کے وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر کی جانب سے اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ وہ کون سے عناصرہیں اس طرح کے واقعات میں کون لوگ ملوث ہیں اس کی حکومت انکوائری کرے گی۔سندھ اسمبلی نے جمعے کوایک بل اتفاق رائے سے منظورکرلیا جس کے تحت پولیس کوایک سال کے لیے اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ہنگامی بنیاد پر ہتھیار ، اسلحہ اور گاڑیاں خرید کرسکے،اس خریداری پر سندھ پبلک پروکیورمنٹ اتھارٹی (سیپرا) ایکٹ 2009 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کا اطلاق نہیں ہوگا،اس بل کو''سندھ ایمرجنسی پروکیورمنٹ بل 2014 '' کہاجائے گا،اس بل میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور صوبے کے عوام کے تحفظ کے لیے مختلف آئٹمز کی ہنگامی بنیادوں پر خریداری کی جاسکے گی ۔