لاکھڑا پلانٹ کی نجکاریسندھ حکومت حمایت نہیں کریگی

وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت اجلاس،معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں اٹھایاجائیگا

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ لاکھڑا پلانٹ کی نجکاری سے متعلق اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔ فوٹو: اے پی پی

GILGIT:
حکومت سندھ نے فیصلہ کیاہے کہ وہ لاکھڑا پاور پلانٹ کی نجکاری کے فیصلے کی حمایت نہیں کریگی بلکہ اسے خوداپنے مکمل کنٹرول یاپبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلائے گی۔

وہ اپنے اس فیصلے سے مشترکہ مفادات کونسل(سی سی آئی)کواس کے آئندہ ہونے والے اجلاس میں آگاہ کردے گی۔اس بات کافیصلہ جمعے کووزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیاگیا۔اجلاس میں سی سی آئی کے اجلاس کے ایجنڈے پر غور کیا گیااورفیصلہ کیا گیا کہ لاکھڑا پاور پلانٹ کامعاملہ تین اسباب کی بنیادپرسی سی آئی کے اجلاس میں اٹھایاجائے گا ۔ ایک سبب یہ ہے کہ مذکورہ پاور پلانٹ میں سندھ کا کوئلہ استعمال کیا جاسکتا ہے جو پلانٹ کی سائٹ پر موجودہے۔دوسرا سبب یہ ہے کہ توانائی کے بحران پرقابو پانے کے لیے سندھ نیشنل گرڈمیں بجلی فراہم کرسکتا ہے۔ تیسراسبب یہ ہے کہ پاور پلانٹ میں کام کرنے والے کارکنوں کے حقوق کا تحفظ ہوگااور ان کی بیروزگاری کی وجہ سے بے چینی پیدانہیں ہوگی۔




اجلاس میں یہ بھی تجویز دی گئی کہ سی سی آئی کے اجلاس میں حکومت سندھ کی پیشکش قبول ہونے کی صورت میں ایک ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دی جائے،جو پاور پلانٹ کے واجبات،اثاثہ جات اور بیلنس شیٹ کاجائزہ لے اوراپنی رپورٹ تین ماہ کے اندر پیش کرے۔ حکومت سندھ نے یہ بھی فیصلہ کیاکہ تھرکول اینڈ انرجی بورڈ (ٹی سی ای بی) اور سندھ انرجی کول مائننگ کمپنی کے لیے''ساورن (SOVEREIGN) گارنٹی'' کامعاملہ بھی اٹھایاجائے گاتاکہ ان اداروں کی فنانسنگ میں اضافہ کیا جاسکے۔اجلاس کو بتایا گیاکہ ای سی سی کی شرط کے مطابق حکومت سندھ نے شیئرہولڈنگ کے 51/49 کے تناسب کے ساتھ جوائنٹ وینچرایگریمنٹ کوتبدیل کردیاگیا،اب زیادہ شیئرحکومت سندھ کاہوگا۔ اس طرح حکومت سندھ مذکورہ بالا دونوں کے لیے ساورن گارنٹی حاصل کرنے کی اہل ہوگئی ہے۔
Load Next Story