پشاور میں طبی مہم موٹر سائیکل موبائل فون بند کرنیکی سفارش
4 لاکھ بچوں کو بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین دینے کیلیے7ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات
حفاظتی انتظامات انتہائی سخت، اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ، محکمہ داخلہ میں مانیٹرنگ سیل قائم۔ فوٹو: فائل
صحت انصاف پروگرام کا دوسرا مرحلہ کل(اتوار9 فروری کو) پشاور میں شروع ہوگا جس کیلیے صوبائی حکومت نے ویکسینیشن ٹیموں کو سیکیورٹی کی فراہمی کیلیے آپریشنل پولیس اور انویسٹی گیشن پولیس اہلکاروں کی اتوار کوچھٹی پرپابندی عائد کرتے ہوئے ریڈ الرٹ کردیا ہے جبکہ پشاور میں سیکیورٹی کے حوالے سے دیگر اضلاع سے بھی ریگولر پولیس، فرنٹیئر ریزرو پولیس اور پولیس قومی رضا کاروں کو بھی طلب کرلیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں صوبائی محکمہ داخلہ کے دفتر میں خصوصی مانیٹرنگ سیل بھی قائم کردیا گیا ہے۔ سیکریٹری داخلہ و قبائلی امور سید اختر علی شاہ کی ہدایت پر صوبے بھر میں انسدادپولیو ٹیموں کی سیکیورٹی کیلیے نیا فول پروف پلان تیار کیا گیا ہے، پلان کے تحت اتوار 9 فروری کو موٹر سائیکل چلانے پر پابندی عائد کرنے کے علاوہ وفاقی وزارت داخلہ سے صبح 7 بجے سے شام5 بجے تک ضلع بھر میں موبائل فون سروس معطل رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صحت انصاف پروگرام کے تحت 4 لاکھ سے زائد بچوں کو 9 مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے قطرے پلانے والی ٹیموں کی سیکیورٹی کے لیے پولیس کے 3620 اور پولیس قومی رضا کار فورس کے3620 نوجوانوں پر مشتمل1870 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں پولیس کمانڈوز کی ٹیمیں بھی شامل ہیں سیکیورٹی کے لیے بم ڈسپوزل یونٹ اور کھوجی کتوں کی بھی مدد لی جارہی ہے۔
اس سلسلے میں صوبائی محکمہ داخلہ کے دفتر میں خصوصی مانیٹرنگ سیل بھی قائم کردیا گیا ہے۔ سیکریٹری داخلہ و قبائلی امور سید اختر علی شاہ کی ہدایت پر صوبے بھر میں انسدادپولیو ٹیموں کی سیکیورٹی کیلیے نیا فول پروف پلان تیار کیا گیا ہے، پلان کے تحت اتوار 9 فروری کو موٹر سائیکل چلانے پر پابندی عائد کرنے کے علاوہ وفاقی وزارت داخلہ سے صبح 7 بجے سے شام5 بجے تک ضلع بھر میں موبائل فون سروس معطل رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صحت انصاف پروگرام کے تحت 4 لاکھ سے زائد بچوں کو 9 مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے قطرے پلانے والی ٹیموں کی سیکیورٹی کے لیے پولیس کے 3620 اور پولیس قومی رضا کار فورس کے3620 نوجوانوں پر مشتمل1870 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں پولیس کمانڈوز کی ٹیمیں بھی شامل ہیں سیکیورٹی کے لیے بم ڈسپوزل یونٹ اور کھوجی کتوں کی بھی مدد لی جارہی ہے۔