حکومت کا صحت منصوبوں کے سربراہ تبدیل کرنے کا فیصلہ
صحت کےپروگرام اور منصوبوں کےسربراہ ماسٹرآف پبلک ہیلتھ یا اس کے مساوی تعلیم کے حامل ہونگے،سمری وزیر اعلیٰ کو ارسال
صوبے میں11 پروگرام جاری ہیں،300 ایم پی ایچ افسران کی خدمات سے استفادہ نہیں کیا گیا،کئی افسر عالمی اداروں میں چلے گئے
حکومت نے سندھ میں جاری صحت کے تمام پروگراموں اور منصوبوں کے سربراہ تبدیل کرکے ان کی جگہ ماسٹرآف پبلک ہیلتھ کی تعلیم پانے والے افسران کی تعیناتی کا فیصلہ کیا ہے۔
تفصیلات حکومت سندھ صوبے میں جاری صحت کے پروگراموں اور منصوبوںکے سربراہوںکوتبدیل کرکے ان کی جگہ ماسٹرآف پبلک ہیلتھ یا اس کے مساوی تعلیم کے حامل افسر تعینات کرے گی، پروگرام منیجرزکی تعیناتی کیلیے مذکورہ قابلیت لازمی قراردیدی گئی ہے اس سلسلے میں محکمہ صحت نے سمری تیار کرکے وزیراعلیٰ کو ارسال کردی ہے جس میں کہا گیا ہے عوام کی صحت سے متعلق تمام جاری صحت کے پروگراموں اور منصوبوں کے صوبائی منجرزکی تعیناتی کیلیے ماسٹر آف پبلک ہیلتھ یا اس کے مساوی افسران تعینات کیے جائیں گے، محکمہ صحت کے ماتحت صوبے میں11صحت منصوبے سندھ ایڈزکنٹرول پروگرام، بچوںکے حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام، ملیریاکنٹرول پروگرام، ہیپاٹائیٹس پروگرام، ماؤں اور نوزائیدہ بچوںکی صحت کاپروگرام، ٹی بی پروگرام، ورلڈفوڈ پروگرام، بحالی اسپتال تعلقہ اور ڈسٹرکٹ، سیف بلڈ ٹرانسفیوژن پروگرام،کنٹرول آف بلائنڈنیس پروگرام اور لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام جاری ہیں۔
محکمہ صحت نے ان پروگراموں میں پروجیکٹ ڈائریکٹر یا پروگرام منیجرزکی تعیناتیوںکیلیے ہدایت کی ہے کہ مطلوبہ قابلیت رکھنے والے ایسے افسر جو محکمے میںگریڈ19اور20 کے ہوں درخواست دینے کے اہل ہیں تمام موصولہ درخواستوںکے بعد امیدواروںکے انٹرویوزکیے جائیںگے جس کا انتخاب 4 رکنی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کرے گی، محکمے کے ایک افسرکے مطابق اس وقت تعینات پروگرامز منیجرز میں سے بیشتر ایم پی ایچ یا اس کے مساوی اسناد نہیں رکھتے تاہم محکمہ صحت 300 افسران ایم پی ایچ یا اس کے مساوی اسناد رکھتے ہیں ان میں سے بیشتر افسران نے حکومت سندھ کے اخراجات پر ایم پی ایچ یا اس کے مساوی قابلیت حاصل کی ہے لیکن محکمے نے ان افسران کی مہارت سے کوئی استفادہ حاصل نہیںکیا جس کے باعث کئی ایم پی ایچ افسران نے محکمے سے ڈپوٹیشن لے کر صحت کے عالمی اداروں میں اپنے تبادلے کروالیے ہیں۔
تفصیلات حکومت سندھ صوبے میں جاری صحت کے پروگراموں اور منصوبوںکے سربراہوںکوتبدیل کرکے ان کی جگہ ماسٹرآف پبلک ہیلتھ یا اس کے مساوی تعلیم کے حامل افسر تعینات کرے گی، پروگرام منیجرزکی تعیناتی کیلیے مذکورہ قابلیت لازمی قراردیدی گئی ہے اس سلسلے میں محکمہ صحت نے سمری تیار کرکے وزیراعلیٰ کو ارسال کردی ہے جس میں کہا گیا ہے عوام کی صحت سے متعلق تمام جاری صحت کے پروگراموں اور منصوبوں کے صوبائی منجرزکی تعیناتی کیلیے ماسٹر آف پبلک ہیلتھ یا اس کے مساوی افسران تعینات کیے جائیں گے، محکمہ صحت کے ماتحت صوبے میں11صحت منصوبے سندھ ایڈزکنٹرول پروگرام، بچوںکے حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام، ملیریاکنٹرول پروگرام، ہیپاٹائیٹس پروگرام، ماؤں اور نوزائیدہ بچوںکی صحت کاپروگرام، ٹی بی پروگرام، ورلڈفوڈ پروگرام، بحالی اسپتال تعلقہ اور ڈسٹرکٹ، سیف بلڈ ٹرانسفیوژن پروگرام،کنٹرول آف بلائنڈنیس پروگرام اور لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام جاری ہیں۔
محکمہ صحت نے ان پروگراموں میں پروجیکٹ ڈائریکٹر یا پروگرام منیجرزکی تعیناتیوںکیلیے ہدایت کی ہے کہ مطلوبہ قابلیت رکھنے والے ایسے افسر جو محکمے میںگریڈ19اور20 کے ہوں درخواست دینے کے اہل ہیں تمام موصولہ درخواستوںکے بعد امیدواروںکے انٹرویوزکیے جائیںگے جس کا انتخاب 4 رکنی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کرے گی، محکمے کے ایک افسرکے مطابق اس وقت تعینات پروگرامز منیجرز میں سے بیشتر ایم پی ایچ یا اس کے مساوی اسناد نہیں رکھتے تاہم محکمہ صحت 300 افسران ایم پی ایچ یا اس کے مساوی اسناد رکھتے ہیں ان میں سے بیشتر افسران نے حکومت سندھ کے اخراجات پر ایم پی ایچ یا اس کے مساوی قابلیت حاصل کی ہے لیکن محکمے نے ان افسران کی مہارت سے کوئی استفادہ حاصل نہیںکیا جس کے باعث کئی ایم پی ایچ افسران نے محکمے سے ڈپوٹیشن لے کر صحت کے عالمی اداروں میں اپنے تبادلے کروالیے ہیں۔