پورٹس پرروکی گئی گاڑیاں کلیئرکرنے کیلیے آفس میمورنڈم جاری
3سال سے زائدعمرکی گاڑیوں پرماہانہ8 فیصدسرچارج اور20فیصد ایڈیشنل سرچارج لگے گا
بھاری جرمانے کے باعث امپورٹرزنے گاڑیاں ری ایکسپورٹ کرنے کی درخواست دیدی،ذرائع فوٹو: فائل
وزارت تجارت نے کراچی کی بندرگاہوں پر ستمبر 2013 سے روکی گئی 872 استعمال شدہ ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کی کلیئرنس کے لیے آفس میمورنڈم نمبر4(06)/201-Imp-II(Part-X) جاری کردیا ہے۔
جس کے تحت 3 سال سے زائد مدت کی حامل درآمدی گاڑیوں پرماہانہ 8 فیصد سرچارج اور20 فیصد ایڈیشنل سرچارج گاڑی کی سی اینڈ ایف ویلیو پر عائد کیا جائے گا تاہم ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کے درآمدکنندگان نے وزارت تجارت کی اس پیشکش کو غیرمنصفانہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ مقامی کار اسمبلرزکے دباؤ پر کیا کیونکہ اس فیصلے کے تحت ڈیوٹی وٹیکسز جمع کرانے کے بعد گاڑی کی درآمدی لاگت مقامی کاروں کی نسبت کئی گنا بڑھ جائے گی جس کا درآمدکنندہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ ذرائع نے بتایا کہ وزارت تجارت کے مذکورہ آفس میمورنڈم کے اجرا کے بعدبھی کسٹم ہاؤس کراچی کے اپریزمنٹ کلکٹریٹ میں درآمدکنندگان کی جانب سے اپنی اپنی گاڑیوں کی کلیئرنس میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی جارہی۔ بیشتر امپورٹرز نے اپنی درآمدی گاڑیاں ری ایکسپورٹ کرنے کی درخواستیں جمع کرا دی ہیں جبکہ کچھ امپورٹرز نے عدالت کا دروازہ کھٹکٹانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ بیشتر درآمدکنندگان کا کہنا ہے کہ انہوں نے نادانستگی میں رائج امپورٹ پالیسی کے برخلاف چند یوم زائد مینوفیکچرنگ کی حامل گاڑیاں درآمد کرلی ہیں جس کا خمیازہ وہ گزشتہ 5 ماہ سے بھگت رہے ہیں ایسے کیسز میں وزارت تجارت اور ایف بی آر حکام کو چاہیے کہ وہ معمولی جرمانے کے ساتھ ان گاڑیوں کی کلیئرنس کے احکام جاری کرے۔
تاہم اس ضمن میں چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ کا کہنا ہے کہ جن درآمدکنندگان نے امپورٹ پالیسی کے برخلاف زائد مدت کی حامل گاڑیاں امپورٹ کی ہیں وہ اپنی غلطی کا خمیازہ جرمانے کی صورت میں بھگتیں۔ دوسری جانب سے آل پاکستان موٹرڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد نے وفاقی حکومت کو پیشکش کی ہے کہ وہ اپنے جاری کردہ آفس میمورنڈم میں جرمانے کی شرح کو گھٹاکر10 فیصد پر لائے تو بندرگاہوں پرکھڑی ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کی مقررہ ڈیوٹی وٹیکسوں کی ادائیگیاں کرکے صرف 4 یوم میں کلیئرنس حاصل کرلی جائے گی جس سے حکومت کو 80 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا ریونیو بھی حاصل ہوجائے گا بصورت دیگر ہردرآمدکنندہ علیحدہ علیحدہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے نہ صرف ان درآمدی گاڑیوں کو ری ایکسپورٹ کرے گا بلکہ عدالت کا دروازہ بھی کھٹکٹائے گا جس سے حکومت کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ وہ بھاری مالیت کے ریونیو سے محروم ہوجائے گی۔ انہوں وزیراعظم نوازشریف اور وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو تجویز دی کہ وہ قومی مفاد میں صرف ایک بار کے لیے مذکورہ درآمدی گاڑیوں کے لیے آفس میمورنڈم میں ترامیم کی ہدایات جاری کریں۔
جس کے تحت 3 سال سے زائد مدت کی حامل درآمدی گاڑیوں پرماہانہ 8 فیصد سرچارج اور20 فیصد ایڈیشنل سرچارج گاڑی کی سی اینڈ ایف ویلیو پر عائد کیا جائے گا تاہم ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کے درآمدکنندگان نے وزارت تجارت کی اس پیشکش کو غیرمنصفانہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ مقامی کار اسمبلرزکے دباؤ پر کیا کیونکہ اس فیصلے کے تحت ڈیوٹی وٹیکسز جمع کرانے کے بعد گاڑی کی درآمدی لاگت مقامی کاروں کی نسبت کئی گنا بڑھ جائے گی جس کا درآمدکنندہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ ذرائع نے بتایا کہ وزارت تجارت کے مذکورہ آفس میمورنڈم کے اجرا کے بعدبھی کسٹم ہاؤس کراچی کے اپریزمنٹ کلکٹریٹ میں درآمدکنندگان کی جانب سے اپنی اپنی گاڑیوں کی کلیئرنس میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی جارہی۔ بیشتر امپورٹرز نے اپنی درآمدی گاڑیاں ری ایکسپورٹ کرنے کی درخواستیں جمع کرا دی ہیں جبکہ کچھ امپورٹرز نے عدالت کا دروازہ کھٹکٹانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ بیشتر درآمدکنندگان کا کہنا ہے کہ انہوں نے نادانستگی میں رائج امپورٹ پالیسی کے برخلاف چند یوم زائد مینوفیکچرنگ کی حامل گاڑیاں درآمد کرلی ہیں جس کا خمیازہ وہ گزشتہ 5 ماہ سے بھگت رہے ہیں ایسے کیسز میں وزارت تجارت اور ایف بی آر حکام کو چاہیے کہ وہ معمولی جرمانے کے ساتھ ان گاڑیوں کی کلیئرنس کے احکام جاری کرے۔
تاہم اس ضمن میں چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ کا کہنا ہے کہ جن درآمدکنندگان نے امپورٹ پالیسی کے برخلاف زائد مدت کی حامل گاڑیاں امپورٹ کی ہیں وہ اپنی غلطی کا خمیازہ جرمانے کی صورت میں بھگتیں۔ دوسری جانب سے آل پاکستان موٹرڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد نے وفاقی حکومت کو پیشکش کی ہے کہ وہ اپنے جاری کردہ آفس میمورنڈم میں جرمانے کی شرح کو گھٹاکر10 فیصد پر لائے تو بندرگاہوں پرکھڑی ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کی مقررہ ڈیوٹی وٹیکسوں کی ادائیگیاں کرکے صرف 4 یوم میں کلیئرنس حاصل کرلی جائے گی جس سے حکومت کو 80 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا ریونیو بھی حاصل ہوجائے گا بصورت دیگر ہردرآمدکنندہ علیحدہ علیحدہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے نہ صرف ان درآمدی گاڑیوں کو ری ایکسپورٹ کرے گا بلکہ عدالت کا دروازہ بھی کھٹکٹائے گا جس سے حکومت کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ وہ بھاری مالیت کے ریونیو سے محروم ہوجائے گی۔ انہوں وزیراعظم نوازشریف اور وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو تجویز دی کہ وہ قومی مفاد میں صرف ایک بار کے لیے مذکورہ درآمدی گاڑیوں کے لیے آفس میمورنڈم میں ترامیم کی ہدایات جاری کریں۔