بگ تھری کامیاب بھارت آسٹریلیا اور انگلینڈ نے عالمی کرکٹ پر اپنی اجارہ داری قائم کرلی پاکستان اور سری ?

پاکستان اورسری لنکا نےووٹنگ میں حصہ نہیں لیا،جنوبی افریقہ نے آخری مراحل میں گھٹنے ٹیک دیے

عالمی کرکٹ کی آمدن کا بڑا حصہ انھی 3 بورڈز کو ملے گا جبکہ ٹیسٹ میچوں میں ترقی اور تنزلی کے طریقہ کار میں بھی یہ تینوں کرکٹ بورڈز تنزلی سے مبرا ہوں گے. فوٹو: فائل

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی ) نے متنازع تنظیمی ڈھانچے ( بگ تھری ) کا نیا مسودہ منظور کرلیا۔

بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کی کرکٹ پر اجارہ داری کا خواب پورا ہو گیا۔ آئی سی سی کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چیف ایگزیکٹو ڈیو رچرڈسن کی صدارت میں ہفتے کو سنگاپور میں ہوا۔ پاکستان کی نمائندگی چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف اور چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد نے کی۔ ''بگ تھری '' فارمولے کی منظوری کیلیے 10 فل ممبران میں سے 8 کی حمایت کی ضرورت تھی۔ نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز، زمبابوے اور بنگلہ دیش نے پہلے ہی حمایت کر دی تھی جبکہ پاکستان، جنوبی افریقہ اور سری لنکا اس کیخلاف تھے تاہم ووٹنگ کے دوران آخری مراحل میں جنوبی افریقہ نے بھی حمایت کر دی۔ پاکستان اور سری لنکا نے ووٹنگ میں حصہ نہ لیتے ہوئے معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے مزید وقت مانگا ہے۔ آئی سی سی کی جانب سے منظورکردہ مسودے کے مطابق آئی سی سی کے ایگزیکٹو اختیارات اور مالی کنٹرول بی سی سی آئی، کرکٹ آسٹریلیا اور ای سی بی کے ہاتھ میں رہے گا جو بالترتیب بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے کرکٹ بورڈ ہیں۔

عالمی کرکٹ کی آمدن کا بڑا حصہ انھی 3 بورڈز کو ملے گا جبکہ ٹیسٹ میچوں میں ترقی اور تنزلی کے طریقہ کار میں بھی یہ تینوں کرکٹ بورڈز تنزلی سے مبرا ہوں گے۔ اس کے علاوہ تینوں ممالک آئی سی سی کے مستقل رکن ہوں گے جبکہ چوتھا رکن آئی سی سی کے باقی 7ممبرز کسی ایک ملک کو منتخب کریں گے۔ اجلاس میں بی سی سی آئی کے صدر سری نواسن کو آئی سی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کا چیئرمین منتخب کیا گیا ہے جو جولائی میں ذمے داریاں سنبھالیں گے۔ دریں اثناء پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف نے کہا ہے کہ ''بگ تھری'' پر ہم اپنے موقف پر قائم رہے لیکن جنوبی افریقہ کے ساتھ چھوڑنے پر افسوس ہوا۔




بی بی سی کو انٹرویو میں ذکاء اشرف نے کہا کہ انھیں فخر ہے کہ انھوں نے اس اہم ترین معاملے پر اصولی موقف اختیار کیا کیونکہ وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ پیسے کے پیچھے بھاگنے کی روش سے کرکٹ تباہ ہو جائے گی۔ اس موقف ہر ہمارے ساتھ سری لنکا اور جنوبی افریقہ بھی قائم تھے تاہم جنوبی افریقہ نے آخری وقت پر ''بگ تھری'' کی حمایت کر دی لیکن اس تمام صورتحال کے باوجود وہ نہیں سمجھتے کہ پاکستان بین الاقوامی کرکٹ میں تنہا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں بھارت سے دوطرفہ سیریز کھیلنے کی پیشکش قبول کر کے اپنے معاملات طے کر لینے چاہئیں تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت صرف پیشکشیں کر رہا تھا لیکن اس بات کی ضمانت دینے کیلیے تیار نہیں تھا کہ سیریز نہ ہونے کی صورت میں وہ ہرجانہ دے گا؟

ذکاء اشرف نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جنوبی افریقہ نے انہیں دھوکہ دیا ہے۔ گزشتہ رات انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنا فیصلہ بدل لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے ملاقات کر کے ان سے ہدایات لوں گا جس کی روشنی میں مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ ادھر بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ کے صدر این سری نواسن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے گھاٹے کا سودا کیا، سری لنکا نے بھی مایوس کیا ۔ بگ تھری کی حمایت کی صورت میں پاکستان کے ساتھ سیریز کھیلنے کا سوچ سکتے تھے لیکن اب ایسا ممکن نہیں۔
Load Next Story