آئی ایم ایف کا ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر اعتراض دبئی مذاکرات میں توسیع کردی گئی
ٹیکس مراعات اورچھوٹ کے ایس آراوزمارچ سے واپس لیے جائیں،آئی ایم ایف،واپسی جولائی14سے شروع کرینگے
جیفری فرینک پاکستان آکر وزیراعظم نوازشریف کوتحفظات سے آگاہ کرینگے،ذرائع،فوٹو: فائل
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے وزیراعظم کی طرف سے گرین انویسٹمنٹ اسکیم کے تحت اعلان کردہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پراعتراض کردیا اوراسے ایمانداری سے ٹیکس اداکرنے والوںکی حوصلہ شکنی اورٹیکس نیٹ میں توسیع کیلیے رکاوٹ قراردیا ہے۔
توقع ہے کہ آئی ایم ایف جائزہ مشن کے سربراہ وزیراعظم سے ملاقات کیلیے ایک دن کیلیے پاکستان آئینگے جس میں انٹیگریٹڈٹیکس پالیسی سمیت دیگرمعاملات کی مُشترکہ مفادات کونسل سے منظوری سمیت ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے حوالے سے ان کے تحفظات دورکیے جائیںگے۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ پاکستان اورآئی ایم ایف ٹیم کے درمیان آئی ایم ایف کے درمیان طے پانے والے بعض اہداف پورے نہ ہونے کے حوالے سے اختلافات کے باعث پاکستان اورآئی ایم ایف جائزہ مشن کے درمیان دبئی میں جاری پالیسی سطح کے مذاکرات میں توسیع کردی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کاپہلا دور ختم ہونے کے بعدپالیسی سطح کے مذاکرات جاری ہیں مذاکرات کی صورتحال کے پیچیدہ ہونے کے پیش نظر وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے دبئی میں اپنا قیام بڑھادیا ہے۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف کوبتایا کہ حکومت نجکاری سے 170ارب روپے کانان ٹیکس ریونیوحاصل کرے گی۔ آئی ایم ایف نے وزیرخزانہ پرزور دیاکہ ٹیکس مراعات اور چھوٹ کے ایس آراوز مارچ سے واپس لیناشروع کیے جائیں تاہم پاکستان کاکہنا ہے کہ یہ سلسلہ جولائی 2014 سے شروع کیا جائے گااور 3سال کے دوران بتدریج ان ایس آراوزکو واپس لیاجائے گا۔آئی ایم ایف نے مذاکرات میں وزیراعظم کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر بھی اعتراض کیا جبکہ اسحاق ڈار نے کہاکہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے 28ارب روپے کاریونیو حاصل ہو گااورٹیکس نیٹ کادائرہ بھی بڑھے گا۔ ۔
توقع ہے کہ آئی ایم ایف جائزہ مشن کے سربراہ وزیراعظم سے ملاقات کیلیے ایک دن کیلیے پاکستان آئینگے جس میں انٹیگریٹڈٹیکس پالیسی سمیت دیگرمعاملات کی مُشترکہ مفادات کونسل سے منظوری سمیت ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے حوالے سے ان کے تحفظات دورکیے جائیںگے۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ پاکستان اورآئی ایم ایف ٹیم کے درمیان آئی ایم ایف کے درمیان طے پانے والے بعض اہداف پورے نہ ہونے کے حوالے سے اختلافات کے باعث پاکستان اورآئی ایم ایف جائزہ مشن کے درمیان دبئی میں جاری پالیسی سطح کے مذاکرات میں توسیع کردی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کاپہلا دور ختم ہونے کے بعدپالیسی سطح کے مذاکرات جاری ہیں مذاکرات کی صورتحال کے پیچیدہ ہونے کے پیش نظر وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے دبئی میں اپنا قیام بڑھادیا ہے۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف کوبتایا کہ حکومت نجکاری سے 170ارب روپے کانان ٹیکس ریونیوحاصل کرے گی۔ آئی ایم ایف نے وزیرخزانہ پرزور دیاکہ ٹیکس مراعات اور چھوٹ کے ایس آراوز مارچ سے واپس لیناشروع کیے جائیں تاہم پاکستان کاکہنا ہے کہ یہ سلسلہ جولائی 2014 سے شروع کیا جائے گااور 3سال کے دوران بتدریج ان ایس آراوزکو واپس لیاجائے گا۔آئی ایم ایف نے مذاکرات میں وزیراعظم کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر بھی اعتراض کیا جبکہ اسحاق ڈار نے کہاکہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے 28ارب روپے کاریونیو حاصل ہو گااورٹیکس نیٹ کادائرہ بھی بڑھے گا۔ ۔