مذاکرات سے قوم کو بیوقوف بنایا جارہا ہے مفتی کفایت

فریقین اخلاص دکھائیں تو مذاکرات کامیاب ہوسکتے ہیں لیکن اخلاص نظر نہیں آرہا

اسلامی نظام کے حوالے سے ایران کا ماڈل اپنا یا جا سکتا ہے، سیاست اورقانون میں گفتگو۔ فوٹو: فائل

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مفتی کفایت اللہ نے کہا کہ اگر دونوں فریقین اخلاص دکھائیں کچھ لوکچھ دو کی بات کریں ایک دوسرے کو سمجھیں ان کا موقف سنیں اور سنجیدگی دکھائیں تو مذاکرات کامیاب ہوسکتے ہیں لیکن فی الحال اخلاص نظر نہیں آرہا ۔

ایکسپریس نیوزکے پروگرام سیاست اور قانون میں میزبان معید پیرزادہ سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے امیرکی بات کا احترام کیا اور مذاکرات کی ٹیم سے علیحدگی اختیار کرلی ۔ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات میں وقت ضائع کیا جارہا ہے قوم کو بیوقوف بنایا جارہا ہے مذاکرات صرف اس لیے کیے جارہے ہیں کہ آپریشن کے لیے جواز بنایا جاسکے۔ریاست ماں کے جیسی ہوتی ہے لیکن یہ شفیق ماں نہیں ہے۔مولانافضل الرحمان امن کے بہت بڑے داعی ہیں،سوات میں جب آپریشن ہوا تو اس سے قبل یہ معاہدہ ہوا تھا کہ جس کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ ہوگا اس کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی لیکن پھر اچانک آپریشن شروع کردیا گیا۔سب سے پہلے آئین پاکستان کی شرعی حیثیت کا تعین کیا جائے توشریعت کے حوالے سے بات کرنا آسان ہوجائیگا۔کوئی بھی قانون قرآن وسنت سے متصادم نہیں بنایا جاسکتا لیکن پارلیمنٹ نے کوتاہی کی ہے۔




میں موجودہ آئین کو غیر اسلامی نہیں کہہ سکتاآئین کے اندر اسلامی چیزیں موجود ہیں جن پر صرف عملدرآمد کی ضرورت ہے،کسی بھی بے گناہ کو کوئی بھی مذہب قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا ،مساجد پر فورسزپر بازاروں میں اور جیٹ طیاروں سے ہونے والے حملے غلط ہیں۔کے پی کے میں دنیا بھر کی ایجنسیاں موجود ہیں جب دوفریق آپس میں لڑتے ہیں تو پھر تیسرا فائدہ ضرور اٹھاتا ہے۔طالبان میں قاری شکیل بہت ہوشیارآدمی ہے اس نے عمران خان کا نام دیکر اس کو ایکسپوزکردیا ہے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ عمران خان کہتا تو ہے کہ وہ مغرب نہیں پاکستان کی تقلید کرتا ہے لیکن وہ مغرب کو ناراض نہیں کرسکتا تھا۔حکومت کی طرف سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی ٹیم کے نام فوج نے دیئے ہیں۔میں دعاگو ہوں کہ مذاکرات کامیاب ہوں مگر لگتا نہیں ۔آج تک جتنے بھی الیکشن ہوئے ہیں وہ سارے ہی غلط ہوئے ہیں اگر انتخابات درست ہوتے تو شریعت نظام قائم ہوجاتا۔عام لوگ شریعت کے نفاذ سے خوف کھاتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہئے، اسلامی نظام کے حوالے سے ایران کا ماڈل بھی اپنا سکتے ہیں جس کو طالبان بھی مان سکتے ہیں۔
Load Next Story