ملک میں نفاذ شریعت کا مطالبہ غیر آئینی نہیں منور حسن
اردو کو ذریعہ تعلیم نہ بنانا خلاف آئین ہے، شریعت کوئی خطرناک یا ڈرائونی چیز نہیں
حکمراں آئین کو اس کی روح کے مطابق نافذ کردیں تو ملک مسائل سے نکل آئے گا۔ فوٹو: فائل
امیر جماعت اسلامی سید منورحسن نے کہا ہے کہ شریعت کا نام سن کر کسی کو پریشان نہیں ہونا چاہیے، شریعت کوئی خطرناک یا ڈرائونی چیز نہیں بلکہ انسانیت کی رہنمائی اور بھلائی کیلیے اللہ تعالیٰ کا قانون ہے۔
منصورہ میں دانشوروں اور ماہرین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نفاذ شریعت کا مطالبہ نیا ہے نہ غیرآئینی، آئین پاکستان میں قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لا تسلیم کیا گیا ہے اور یہ عہد کیا گیاکہ ملک میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جائے گا، حکمراں 1973 کے آئین کو اس کی روح کے مطابق نافذ کردیں تو نہ صرف ملک مسائل کے گرداب سے نکل آئے گا بلکہ قیام پاکستان کے مقاصد کی بھی تکمیل ہوگی اور بین الاقوامی برادری میں ہمارا قومی وقار بھی بحال ہوجائے گا۔
انھوں نے کہا کہ جو لوگ شریعت کے نام سے چڑتے ہیں وہ دراصل آئین پاکستان کی نفی کرتے ہیں، مذاکرات کی کامیابی ملک و قوم کے تابناک مستقبل کی ضمانت ہوگی، اردو کو ذریعہ تعلیم نہ بنا کر آئین کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ منور حسن نے کہا کہ طالبان پرکسی آئین و قانون کو نہ ماننے کا الزام لگانے والے 66سال سے آئین کو پامال کررہے ہیں۔
منصورہ میں دانشوروں اور ماہرین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نفاذ شریعت کا مطالبہ نیا ہے نہ غیرآئینی، آئین پاکستان میں قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لا تسلیم کیا گیا ہے اور یہ عہد کیا گیاکہ ملک میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جائے گا، حکمراں 1973 کے آئین کو اس کی روح کے مطابق نافذ کردیں تو نہ صرف ملک مسائل کے گرداب سے نکل آئے گا بلکہ قیام پاکستان کے مقاصد کی بھی تکمیل ہوگی اور بین الاقوامی برادری میں ہمارا قومی وقار بھی بحال ہوجائے گا۔
انھوں نے کہا کہ جو لوگ شریعت کے نام سے چڑتے ہیں وہ دراصل آئین پاکستان کی نفی کرتے ہیں، مذاکرات کی کامیابی ملک و قوم کے تابناک مستقبل کی ضمانت ہوگی، اردو کو ذریعہ تعلیم نہ بنا کر آئین کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ منور حسن نے کہا کہ طالبان پرکسی آئین و قانون کو نہ ماننے کا الزام لگانے والے 66سال سے آئین کو پامال کررہے ہیں۔