اپٹما نے بھی بھارت کی بلاامتیاز مارکیٹ رسائی کی مخالفت کردی

بھارت نے اپنی صنعت کے تحفظ کیلیے انتہائی موثر نان ٹیرف اور ٹیرف بندشوں کا سسٹم اپنا رکھا ہے

تحفظات دور کیے بغیر رسائی دینا ملکی صنعت کیلیے تباہ کن ہوگا، یاسین صادق،سیکریٹری کامرس کو خط۔ فوٹو: فائل

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نے بھی بھارت کو بلاامتیاز مارکیٹ رسائی کی مخالف کردی ہے۔

ایسوسی ایشن کی جانب سے سیکریٹری کامرس کو 6فروری کو ارسال کردہ خط میں چیئرمین اپٹما محمد یاسین صادق نے کہا ہے کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے تحفظات دور کیے بغیر بھارت کو بلا امتیاز مارکیٹ تک رسائی کا درجہ پاکستانی انڈسٹری کی تباہی ثابت ہوگا۔ بھارتی مارکیٹ میں پاکستانی ایکسپورٹرز کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے خط میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے اپنی انڈسٹری کو تحفظ دینے کیلیے انتہائی موثر نان ٹیرف اور ٹیرف بندشوں کا سسٹم اپنا رکھا ہے، جس میں مختلف رکاوٹیں جیسے ویلنگ ڈیوٹیز، ایڈویلورم ڈیوٹیز (veiling duties, advelorem duties)اور دیگر ڈیوٹیاں شامل ہیں۔ بھارت میں انڈسٹری کو سبسڈی اور ریبیٹ بھی دی جاتی ہے جس کی ایک مثال فیبرک اور یارن کی برآمد پر 3 فیصد ریبیٹ ہے۔ اس سے بھارتی ٹیکسٹائل کے اخراجات کم ہوتے ہیں۔

خط میں مزید اجاگر کیا گیا ہے کہ مختلف زمروں میں دی جانے والی سبسڈی کے علاوہ بھارت ٹیکنالوجی کو اپ گریڈ کرنے پر مزید دو فیصد ریبیٹ دیتا ہے۔ اے پی ٹی ایم اے کے چیئرمین نے اپنے خط میں مزید کہا کہ اگر انڈسٹری کے تحفظات کو دور کیے بغیر بھارت کو این ڈی ایم اے درجہ دیا گیا تو اس سے پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت تباہ ہوجائے گی۔ماہرین کی رائے ہے کہ پاکستانی کاٹن ٹیکسٹائل مصنوعات کو بھارت کے مقابلے میں زیادہ پسند کیا جاتا ہے اور ملکی ٹیکسٹائل کو بھارت کے مقابلے میں اس شعبے میں اب تک سبقت حاصل ہے۔ بھارت کو بلا امتیاز مارکیٹ رسائی (نان ڈسکری مینٹری ایکسز) این ڈی ایم اے ٹیکسٹائل انڈسٹری کیلیے سخت تشویش کا باعث ہے۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نے بھی اس حوالے سے اپنے تحفظات سے پالیسی سازوں کو آگاہ کردیا ہے۔ خط میں پاکستان کی موجودہ معاشی صورت حال اور بھارت کی جانب سے پاکستانی ٹیکسٹائل کی درآمد کے حوالے سے کھڑی کی جانے والی رکاوٹوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔




انہوں نے کہا کہ ان رکاوٹوں کی وجہ سے اب تک پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری بھارت کی مارکیٹوں تک رسائی حاصل نہیں کرسکی ہے۔ پاکستانی برآمدکنندگان بھارت کی جانب سے ٹیرف اور نان ٹیرف بندشوں کی وجہ سے سخت پریشانی سے دوچار ہیں۔ انہوں نے اب اپنے آئوٹ لیٹس دبئی، لندن، نیویارک، ٹورنٹو اور دیگر کئی ملکوں میں کھول لیے ہیں جہاں بڑی تعداد میں بھارتی بیرون ملک قیام پزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تارکین بھارتیوں تک رسائی بہرحال براہ راست بھارت کی مارکیٹ تک رسائی کے برابر نہیں ہے جس کی آبادی ایک ارب سے زیادہ ہے اور پچاس فیصد خواتین پر مشتمل ہے۔

اے پی ٹی ایم اے نے اپنے خط میں حکومت کی توجہ پہلے ملکی صورت حال کی طرف مبذول کرائی ہے جہاں بجلی کا بحران اور زیادہ لاگت کی وجہ سے پیداوار میں 20 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ پاکستان میں بجلی کا یونٹ 15 سینٹ فی یونٹ جبکہ بھارت میں 9 سینٹ فی یونٹ ہے۔ پاکستان میں شرح سود بھارت کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہے اور یہ عوامل پاکستان میں ٹیکسٹائل کی پیداواری لاگت اور مالی بوجھ میں اضافے کا باعث ہیں۔ غیرملکی خریدار بھی بھارت آزادی سے سفر کرتے ہیںتاہم پاکستان میں وہ آنے سے ہچکچاتے ہیں جس کی وجہ امن و امان کی مخدوش صورت حال ہے۔ بھارت اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد کاٹن ایکسپورٹ کرتا ہے جبکہ پاکستان کو ہمیشہ کاٹن کی کمی کا سامنا ہوتا ہے اور ہمیں یہ درآمد کرنی پڑتی ہے۔
Load Next Story