ایف بی آر کی ٹیکس مانیٹرنگ موثر ٹیکس دہندگان سے زیادہ سے زیادہ وصولیاں یقینی بنانیکی ہدایت
ایل ٹی یو کی جانب سے رجسٹرڈ کمپنیوں اور بڑے اداروں کے پوسٹ ریفنڈ آڈٹ میں سست روی پر بھی شدید تشویش کا اظہار
ایل ٹی یو کی جانب سے رجسٹرڈ کمپنیوں اور بڑے اداروں کے پوسٹ ریفنڈ آڈٹ میں سست روی پر بھی شدید تشویش کا اظہار۔ فوٹو: فائل
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے لارج ٹیکس پیئر یونٹس کی طرف سے رجسٹرڈ کمپنیوں اور بڑے بڑے اداروں کے پوسٹ ریفنڈ آڈٹ میں سست روی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور ایل ٹی یوز کو ہدایت کی ہے کہ جن رجسٹرڈ کمپنیوں اور بڑے اداروں کی طرف سے ایکٹو ٹیکس پیئرز کے طور پر بغیر کسی چیکنگ کے ریفنڈزحاصل کیے گئے ہیں۔
ان کے پوسٹ ریفنڈ آڈٹ فوری طور پر شروع کیے جائیں اور جن کیسوں کے پوسٹ ریفنڈ آڈٹ کیے جارہے ہیں ان تمام کے ٹیکس گوشواروں میں جو ان پُٹ کلیم کیے گئے ہیں ان کو چیک کیا جائے کہ وہ ان پُٹ ٹیکس دہندہ کے ظاہر کردہ کاروبار سے متعلقہ ہیں یا نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی چیک کیا جائے کہ ان ٹیکس دہندگان کی طرف سے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990کی شق 73 کا کمپلائنس کتنا کیا گیا ہے۔ ایف بی آر کے مذکورہ افسر نے بتایا کہ ایف بی آر نے تمام ایل ٹی یوز کو ہدایت کی ہے کہ رجسٹرڈ کمپنیوں اور بڑے اداروں کی طرف سے جو ان پُٹ ظاہر کی گئی ہے اس میں استعمال کتنا ہوا ہے کیا ان کی پیداوار ان کے ظاہر کردہ استعمال ہونے والے ان پُٹ سے مطابقت رکھتی ہے یا اور یہ بھی چیک کیا جائے ان یونٹس و ٹیکس دہندگان کی طرف سے کتنا خام مال بلیک لسٹڈ اور سیلز ٹیکس رجسٹریشن معطل ہونے والے یونٹس سے خریدا گیا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ایف بی آر نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ کریسٹ سسٹم کے زیر التوا کیسوں کو بھی فوری طور پر حتمی شکل دی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر کی طرف سے یہ بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ بینکوں اور دیگر ود ہولڈنگ ایجنٹس کے ود ہولڈنگ ٹیکسوں کا بھی آڈٹ کیا جائے اور جہاں ٹیکس واجبات بنتے ہیں وہاں ٹیکس واجبات کی موثر ریکوری کیلیے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 161 اور 205 آرڈر جاری کیے جائیں۔ اس کے علاوہ ایف بی آر نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001کی سیکشن 236 جی اور سیکشن236 ایچ کے تحت سیلز ٹیکس، ود ہولڈنگ اور انکم ٹیکس کی مانیٹرنگ کو بھی موثر بنانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس مد میں ٹیکس دہندگان سے زیادہ سے زیادہ ٹیکس ریکوری کو یقینی بنایا جائے۔
ان کے پوسٹ ریفنڈ آڈٹ فوری طور پر شروع کیے جائیں اور جن کیسوں کے پوسٹ ریفنڈ آڈٹ کیے جارہے ہیں ان تمام کے ٹیکس گوشواروں میں جو ان پُٹ کلیم کیے گئے ہیں ان کو چیک کیا جائے کہ وہ ان پُٹ ٹیکس دہندہ کے ظاہر کردہ کاروبار سے متعلقہ ہیں یا نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی چیک کیا جائے کہ ان ٹیکس دہندگان کی طرف سے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990کی شق 73 کا کمپلائنس کتنا کیا گیا ہے۔ ایف بی آر کے مذکورہ افسر نے بتایا کہ ایف بی آر نے تمام ایل ٹی یوز کو ہدایت کی ہے کہ رجسٹرڈ کمپنیوں اور بڑے اداروں کی طرف سے جو ان پُٹ ظاہر کی گئی ہے اس میں استعمال کتنا ہوا ہے کیا ان کی پیداوار ان کے ظاہر کردہ استعمال ہونے والے ان پُٹ سے مطابقت رکھتی ہے یا اور یہ بھی چیک کیا جائے ان یونٹس و ٹیکس دہندگان کی طرف سے کتنا خام مال بلیک لسٹڈ اور سیلز ٹیکس رجسٹریشن معطل ہونے والے یونٹس سے خریدا گیا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ایف بی آر نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ کریسٹ سسٹم کے زیر التوا کیسوں کو بھی فوری طور پر حتمی شکل دی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر کی طرف سے یہ بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ بینکوں اور دیگر ود ہولڈنگ ایجنٹس کے ود ہولڈنگ ٹیکسوں کا بھی آڈٹ کیا جائے اور جہاں ٹیکس واجبات بنتے ہیں وہاں ٹیکس واجبات کی موثر ریکوری کیلیے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 161 اور 205 آرڈر جاری کیے جائیں۔ اس کے علاوہ ایف بی آر نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001کی سیکشن 236 جی اور سیکشن236 ایچ کے تحت سیلز ٹیکس، ود ہولڈنگ اور انکم ٹیکس کی مانیٹرنگ کو بھی موثر بنانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس مد میں ٹیکس دہندگان سے زیادہ سے زیادہ ٹیکس ریکوری کو یقینی بنایا جائے۔