نئے جہازوں پر ڈیوٹی اورٹیکس چھوٹ کیلئے پی آئی اے نے وزارت خزانہ سے رجوع کرلیا
منافع بخش فضائی روٹس دوبارہ بحال کرنے کیلئے پی آئی اے مزید 10 نئے جہاز لیز پر حاصل کرنا چاہتا ہے، ذرائع
قانون میں لیز پر لیے جانیوالے جہازوں کو ڈیوٹی اور ٹیکسوں سے چھوٹ دینے کی کوئی شق اور گنجائش موجود نہیں ہے۔ فوٹو:فائل
KARACHI:
پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن(پی آئی اے) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے انکار کے بعد لیز پر لیے جانیوالے دس نئے جہازوںکی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسوں سے چھوٹ حاصل کرنے کیلیے وزارت خزانہ سے رجوع کرلیا ہے۔
اس ضمن میں ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے پی آئی اے کی نجکاری کیلیے منظور کردہ پلان کے تحت پی آئی اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ نجکاری پراسیس کے ساتھ ساتھ پی آئی اے کم سے کم لاگت میں بہترین سفری سہولتیں دینے والے جہازوں کو لیز پر لینے اور پی آئی اے کے رُوٹس کی ریشنلائزیشن کا سلسلہ بھی جاری رکھے گی تاکہ پی آئی اے کی کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکے اور اسکی آمدنی میں اضافہ کیا جاسکے۔ ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ پلان کے تحت پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن دس مزید نئے جہاز لیز پر حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ اپنے بند ہوجانے والے منافع بخش فضائی روٹس کو دوبارہ سے بحال کرکے پروازیں شروع کرسکے۔ ذرائع نے بتایا کہ پی آئی اے کی طرف سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)سے درخواست کی گئی تھی کہ پی آئی اے کی طرف سے لیز پر لیے جانیوالے نئے جہازوں پر عائد کسٹمز ڈیوٹی، انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس و فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے چھوٹ دیدی جائے تاکہ پی آئی اے کی طرف سے لیز پر لیے جانیوالے جہازوں پر لاگت میں کمی واقع ہوسکے۔
مذکورہ افسر نے بتایا کہ اجلاس میں پی آئی اے کی طرف سے لیز پر جہاز لینے پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں سے چھوٹ دینے کی درخواست کا تمام پہلوئوں سے تفصیلی جائزہ لینے کے بعد پی آئی اے حکام کو بتایا تھا کہ قانون میں لیز پر لیے جانیوالے جہازوں کو ڈیوٹی اور ٹیکسوں سے چھوٹ دینے کی کوئی شق اور گنجائش موجود نہیں ہے، اس لیے ایف بی آر کی طرف سے پی آئی اے کو لیز پر لیے جانیوالے مزید جہازوں پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں سے چھوٹ نہیں دی جاسکتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر کی طرف سے ڈیوٹی اور ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے انکار کیے جانے کے بعد پی آئی اے حکام نے وزارت خزانہ سے رجوع کیا ہے تاکہ خصوصی کیس کے طور پر پی آئی اے کو لیز پر لیے جانیوالے جہازوں کو کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسوں سے چھوٹ دی جاسکے۔
اس ضمن میں ایکسپریس کو دستیاب دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ تیس جون 2013 تک پی آئی اے کا مجموعی خسارہ 170ارب روپے تھا اور پی آئی اے 40 بیرونی (Foreign) اسٹیشنز اور 32 مقامی و اندرونی (Domestic) اسٹیشنزسے آپریٹ کررہا ہے جبکہ کمپنی(پی آئی اے)کے گیارہ انتظامی ونگز ہیں جن میں مجموعی طور پر اٹھارہ ہزار سے زائد ملازمین تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ تین ہزار سے زائدکنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین ہیں جبکہ پی آئی اے کے پاس کُل 34 جہاز ہیں جن میں سے صرف25 آپریشنل ہیں جن میں تین بوئنگ 747، آٹھ ائیر بس اے 380، ایک بوئنگ 737،پانچ اے ٹی آر42 جبکہ آٹھ بوئنگ 777جہاز شامل ہیں اور پی آئی اے اب مزید جہاز لیز پر حاصل کرنا چاہتا ہے جنہیں ڈیوٹی اور ٹیکسوں سے چھوٹ دلوانے کا خواہاں ہیں جس کیلیے وزارت خزانہ سے رجوع کیا گیا ہے اور توقع ہے کہ یہ معاملہ ای سی سی کے اجلاس میں پیش کیا جائیگا۔
پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن(پی آئی اے) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے انکار کے بعد لیز پر لیے جانیوالے دس نئے جہازوںکی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسوں سے چھوٹ حاصل کرنے کیلیے وزارت خزانہ سے رجوع کرلیا ہے۔
اس ضمن میں ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے پی آئی اے کی نجکاری کیلیے منظور کردہ پلان کے تحت پی آئی اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ نجکاری پراسیس کے ساتھ ساتھ پی آئی اے کم سے کم لاگت میں بہترین سفری سہولتیں دینے والے جہازوں کو لیز پر لینے اور پی آئی اے کے رُوٹس کی ریشنلائزیشن کا سلسلہ بھی جاری رکھے گی تاکہ پی آئی اے کی کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکے اور اسکی آمدنی میں اضافہ کیا جاسکے۔ ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ پلان کے تحت پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن دس مزید نئے جہاز لیز پر حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ اپنے بند ہوجانے والے منافع بخش فضائی روٹس کو دوبارہ سے بحال کرکے پروازیں شروع کرسکے۔ ذرائع نے بتایا کہ پی آئی اے کی طرف سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)سے درخواست کی گئی تھی کہ پی آئی اے کی طرف سے لیز پر لیے جانیوالے نئے جہازوں پر عائد کسٹمز ڈیوٹی، انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس و فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے چھوٹ دیدی جائے تاکہ پی آئی اے کی طرف سے لیز پر لیے جانیوالے جہازوں پر لاگت میں کمی واقع ہوسکے۔
مذکورہ افسر نے بتایا کہ اجلاس میں پی آئی اے کی طرف سے لیز پر جہاز لینے پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں سے چھوٹ دینے کی درخواست کا تمام پہلوئوں سے تفصیلی جائزہ لینے کے بعد پی آئی اے حکام کو بتایا تھا کہ قانون میں لیز پر لیے جانیوالے جہازوں کو ڈیوٹی اور ٹیکسوں سے چھوٹ دینے کی کوئی شق اور گنجائش موجود نہیں ہے، اس لیے ایف بی آر کی طرف سے پی آئی اے کو لیز پر لیے جانیوالے مزید جہازوں پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں سے چھوٹ نہیں دی جاسکتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر کی طرف سے ڈیوٹی اور ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے انکار کیے جانے کے بعد پی آئی اے حکام نے وزارت خزانہ سے رجوع کیا ہے تاکہ خصوصی کیس کے طور پر پی آئی اے کو لیز پر لیے جانیوالے جہازوں کو کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسوں سے چھوٹ دی جاسکے۔
اس ضمن میں ایکسپریس کو دستیاب دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ تیس جون 2013 تک پی آئی اے کا مجموعی خسارہ 170ارب روپے تھا اور پی آئی اے 40 بیرونی (Foreign) اسٹیشنز اور 32 مقامی و اندرونی (Domestic) اسٹیشنزسے آپریٹ کررہا ہے جبکہ کمپنی(پی آئی اے)کے گیارہ انتظامی ونگز ہیں جن میں مجموعی طور پر اٹھارہ ہزار سے زائد ملازمین تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ تین ہزار سے زائدکنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین ہیں جبکہ پی آئی اے کے پاس کُل 34 جہاز ہیں جن میں سے صرف25 آپریشنل ہیں جن میں تین بوئنگ 747، آٹھ ائیر بس اے 380، ایک بوئنگ 737،پانچ اے ٹی آر42 جبکہ آٹھ بوئنگ 777جہاز شامل ہیں اور پی آئی اے اب مزید جہاز لیز پر حاصل کرنا چاہتا ہے جنہیں ڈیوٹی اور ٹیکسوں سے چھوٹ دلوانے کا خواہاں ہیں جس کیلیے وزارت خزانہ سے رجوع کیا گیا ہے اور توقع ہے کہ یہ معاملہ ای سی سی کے اجلاس میں پیش کیا جائیگا۔