بھارت سے تجارت بڑھاکر پاکستان کو 1300ارب کا نقصان ہوگا ایگری فورم
پاکستان کے ڈیڑھ کروڑ کھیت اور 3لاکھ فیکٹریاں ویران ہوجائیں گی، 60لاکھ مزدور بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے، ڈاکٹرابراہیم
پاکستان کے ڈیڑھ کروڑ کھیت اور 3لاکھ فیکٹریاں ویران ہوجائیں گی، 60لاکھ مزدور بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے، ڈاکٹرابراہیم ۔ فوٹو: رائٹرز/ فائل
KARACHI:
پاکستان ایگری فورم کے چیئرمین ڈاکٹر ابراہیم مغل نے کہاہے کہ بھارت اور پاکستان کی تجارت میں 5سالوں میں پاکستان کو 1300ارب روپے کا نقصان ہوگا۔
پاکستان کے ڈیڑھ کروڑ کھیت اور 3لاکھ فیکٹریاں ویران ہوجائیں گی اور اس کے ساتھ ساتھ 60لاکھ زرعی مزدور 40لاکھ صنعتی مزدور روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سالانہ 1320 ارب روپے کی سبسڈی دیتا ہے جس سے وہاں زرعی و صنعتی پیداواری لاگت پاکستان کی نسبت 50 فیصد سے بھی کم ہے اگر پاکستانی حکمرانوں کو بھارت سے تجارت کا بہت شوق ہے تو وہ پاکستانی کسانوں اور صنعتکاروں کو 600 ارب روپے کی سالانہ سبسڈی دیںتو ہم بھارت کا بھرپور مقابلہ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بھارت سے درآمدات ضروری ہیں تو پاکستان میں یوریا 600روپے کی بوری ڈی اے پی 2000روپے کی، ڈیزل 90روپے لیٹر، قرضوں پر سود 8 فیصد اور صنعت و زراعت کے لیے بجلی 9روپے یونٹ کی جائے۔ اس کے بعد پاکستان کو بھارتی کسانوں اور صنعتکاروں سے مقابلہ کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ پاکستانی حکمران بنیا کی چال کو سمجھیں اور پاکستان کے مالی و نظریاتی مفادات کا تحفظ کریں۔
پاکستان ایگری فورم کے چیئرمین ڈاکٹر ابراہیم مغل نے کہاہے کہ بھارت اور پاکستان کی تجارت میں 5سالوں میں پاکستان کو 1300ارب روپے کا نقصان ہوگا۔
پاکستان کے ڈیڑھ کروڑ کھیت اور 3لاکھ فیکٹریاں ویران ہوجائیں گی اور اس کے ساتھ ساتھ 60لاکھ زرعی مزدور 40لاکھ صنعتی مزدور روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سالانہ 1320 ارب روپے کی سبسڈی دیتا ہے جس سے وہاں زرعی و صنعتی پیداواری لاگت پاکستان کی نسبت 50 فیصد سے بھی کم ہے اگر پاکستانی حکمرانوں کو بھارت سے تجارت کا بہت شوق ہے تو وہ پاکستانی کسانوں اور صنعتکاروں کو 600 ارب روپے کی سالانہ سبسڈی دیںتو ہم بھارت کا بھرپور مقابلہ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بھارت سے درآمدات ضروری ہیں تو پاکستان میں یوریا 600روپے کی بوری ڈی اے پی 2000روپے کی، ڈیزل 90روپے لیٹر، قرضوں پر سود 8 فیصد اور صنعت و زراعت کے لیے بجلی 9روپے یونٹ کی جائے۔ اس کے بعد پاکستان کو بھارتی کسانوں اور صنعتکاروں سے مقابلہ کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ پاکستانی حکمران بنیا کی چال کو سمجھیں اور پاکستان کے مالی و نظریاتی مفادات کا تحفظ کریں۔