جامعہ اردو رینجرز کی موجودگی میں سیکیورٹی نجی کمپنی کے حوالے
کراچی کے دونوں کیمپس کے بعض شعبوں میں اسلحے سمیت جبکہ بعض میں غیر مسلح گارڈز تعینات کیے گئے ہیں
جامعہ اردو میں سیکیورٹی گارڈ کی تعیناتی کی منظوری یونیورسٹی کے کسی بااختیارادارے سے حاصل نہیں کی گئی۔ فوٹو: فائل
وفاقی جامعہ اردوکی انتظامیہ نے کیمپس میں رینجرزکی موجودگی میں یونیورسٹی کونجی سیکیورٹی کمپنی کے حوالے کردیا۔
سیکیورٹی کیلیے کراچی کے دونوں کیمپس میں اسلحہ بردارسیکیورٹی گارڈ تعینات کیے گئے ہیں اور جامعہ اردوکے بیشترتدریسی وانتظامی شعبوں کی سیکیورٹی نجی کمپنی کے ان سیکیورٹی گارڈزکے حوالے کردی گئی ہے، نجی کمپنی کے سیکیورٹی گارڈزکی تعیناتی کے بعد وفاقی جامعہ اردو کراچی میں پبلک سیکٹرکی پہلی یونیورسٹی بن گئی ہے جہاں کی سیکیورٹی نجی سیکیورٹی کمپنی کے حوالے کی گئی ہے، واضح رہے کہ اس وقت صرف جامعہ کراچی کے ایک ذیلی ادارے ایچ ای جے (حسین ابراہیم جمال ریسرچ انسٹی ٹیوٹ) کی سیکیورٹی نجی کمپنی کے پاس ہے، اردویونیورسٹی میں سیکیورٹی گارڈ کی تعیناتی کی منظوری یونیورسٹی کے کسی بااختیارادارے سے حاصل نہیں کی گئی ہے۔
نجی کمپنی کے سیکیورٹی گارڈزکو اردو یونیورسٹی کے مرکزی دروازوں انتظامی عمارت، لائبریری، داخلہ کمیٹی کے دفتر،شعبہ امتحانات،پرائیویٹ رجسٹریشن، ایم ایس سی اوربی ایس سی بلاک کے علاوہ عبدالحق کیمپس میں بھی تعینات کیاگیاہے، تعینات کیے گئے سیکیورٹی گارڈزمیں سے چند خالی ہاتھ جبکہ چند اسلحے کے ساتھ تعینات کیے گئے ہیں، یونیورسٹی سینیٹ کی منظوری کے بغیرسیکیورٹی کونجی کمپنی کے حوالے کیے جانے کے بعداب یونیورسٹی انتظامیہ کے متعلقہ افسران یہ بتانے سے بھی گریزاں ہیں کہ یہ سیکیورٹی گارڈ آخر کس معاہدے کے تحت تعینات کیے گئے ہیں، سیکیورٹی کمپنی کی خدمات حاصل کرنے کے لیے رائج مالی قوائدوضوابط کا خیال رکھتے ہوئے ٹینڈرکھولا گیاہے یا نہیں جبکہ سیکیورٹی کمپنی کویونیورسٹی انتظامیہ ماہانہ بنیادوں پر کتنی رقم اداکرے گی اورسیکیورٹی کمپنی کی مد میں یونیورسٹی کے سالانہ اخراجات کتنے ہونگے، سیکیورٹی کمپنی کی خدمات حاصل کرنے کے بعد یونیورسٹی کے بعض حلقوں کی جانب سے یہ سوالات بھی اٹھائے جارہے ہیں کہ یونیورسٹی
سیکیورٹی کیلیے کراچی کے دونوں کیمپس میں اسلحہ بردارسیکیورٹی گارڈ تعینات کیے گئے ہیں اور جامعہ اردوکے بیشترتدریسی وانتظامی شعبوں کی سیکیورٹی نجی کمپنی کے ان سیکیورٹی گارڈزکے حوالے کردی گئی ہے، نجی کمپنی کے سیکیورٹی گارڈزکی تعیناتی کے بعد وفاقی جامعہ اردو کراچی میں پبلک سیکٹرکی پہلی یونیورسٹی بن گئی ہے جہاں کی سیکیورٹی نجی سیکیورٹی کمپنی کے حوالے کی گئی ہے، واضح رہے کہ اس وقت صرف جامعہ کراچی کے ایک ذیلی ادارے ایچ ای جے (حسین ابراہیم جمال ریسرچ انسٹی ٹیوٹ) کی سیکیورٹی نجی کمپنی کے پاس ہے، اردویونیورسٹی میں سیکیورٹی گارڈ کی تعیناتی کی منظوری یونیورسٹی کے کسی بااختیارادارے سے حاصل نہیں کی گئی ہے۔
نجی کمپنی کے سیکیورٹی گارڈزکو اردو یونیورسٹی کے مرکزی دروازوں انتظامی عمارت، لائبریری، داخلہ کمیٹی کے دفتر،شعبہ امتحانات،پرائیویٹ رجسٹریشن، ایم ایس سی اوربی ایس سی بلاک کے علاوہ عبدالحق کیمپس میں بھی تعینات کیاگیاہے، تعینات کیے گئے سیکیورٹی گارڈزمیں سے چند خالی ہاتھ جبکہ چند اسلحے کے ساتھ تعینات کیے گئے ہیں، یونیورسٹی سینیٹ کی منظوری کے بغیرسیکیورٹی کونجی کمپنی کے حوالے کیے جانے کے بعداب یونیورسٹی انتظامیہ کے متعلقہ افسران یہ بتانے سے بھی گریزاں ہیں کہ یہ سیکیورٹی گارڈ آخر کس معاہدے کے تحت تعینات کیے گئے ہیں، سیکیورٹی کمپنی کی خدمات حاصل کرنے کے لیے رائج مالی قوائدوضوابط کا خیال رکھتے ہوئے ٹینڈرکھولا گیاہے یا نہیں جبکہ سیکیورٹی کمپنی کویونیورسٹی انتظامیہ ماہانہ بنیادوں پر کتنی رقم اداکرے گی اورسیکیورٹی کمپنی کی مد میں یونیورسٹی کے سالانہ اخراجات کتنے ہونگے، سیکیورٹی کمپنی کی خدمات حاصل کرنے کے بعد یونیورسٹی کے بعض حلقوں کی جانب سے یہ سوالات بھی اٹھائے جارہے ہیں کہ یونیورسٹی