ورلڈ کرکٹ کے نئے چوہدری کو پہلا جھٹکا کیویز نے بھارتی غرور خاک میں ملا دیا
میزبان پیسرز نے بازی پلٹ دی، نیل ویگنر نے دوسری باری میں بھی 4وکٹیں لیکر میچ میں 8 شکار کیے
آکلینڈ ٹیسٹ کے چوتھے دن بھارتی بیٹسمین شیکھر دھون اسٹروک کھیلنے کو تیار، عقب میں کیوی وکٹ کیپر بریڈلے واٹلنگ بھی مستعد، نیوزی لینڈ نے مقابلہ 40رنز سے جیت لیا۔ فوٹو: اے ایف پی
پہلے ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ نے بھارتی غرور خاک میں ملا دیا، اوچھے ہتھکنڈوں سے عالمی کرکٹ کا کنٹرول ہتھیانے والا بھارت رینکنگ میں اپنے سے کہیں نیچے کی ٹیم سے 40 رنز سے مات کھا گیا۔
شیکھر دھون کی سنچری بھی کسی کام نہ آئی،407 رنزکے تعاقب میں جانے والی مہمان ٹیم 366 پر ڈھیر ہوگئی، نئی گیند کیویز کے ہاتھ آتے ہی دھونی الیون کی پسپائی شروع ہوگئی، ویرت کوہلی نے 67 رنز بنائے، نیل ویگنر نے خاص طور پر بھارتی بیٹنگ لائن کو نقصان پہنچاتے ہوئے 4 وکٹیں لیں، ٹرینٹ بولٹ اور ٹم سائوتھی نے تین تین کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا، ڈبل سنچری اسکور کرنے والے میزبان کپتان برینڈن میک کولم میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی بورڈ نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر عالمی کرکٹ کا کنٹرول تو حاصل کرلیا مگر اگلے ہی روز ان کی ٹیسٹ رینکنگ میں دوسرے نمبر پر موجود ٹیم آٹھویں درجے کے نیوزی لینڈ سے 40 رنز سے مات کھا گئی، کیویز کو دو میچز کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل ہے اس طرح ان کے اب سیریز ہارنے کا خدشہ ختم ہوچکا ہے۔
بھارت کو فتح کے لیے 407 رنز کا ہدف ملا اور وہ بھرپور کوشش کرتے ہوئے اس کے قریب بھی پہنچ گیا مگر کیوی بولرز نے اپنے اعصاب قابو میں رکھتے ہوئے بھارتی ٹیم کو 366 رنز پر آئوٹ کرکے 40 رنز کی فتح حاصل کرلی، آخری سیشن میں بھارت کی 98 رنز کے عوض آخری 5 وکٹیں گریں۔ اس نے دن کا آغاز 87 رنز ایک وکٹ سے کیا، پورے مارننگ سیشن میں کیویز کے ہاتھ صرف وکٹ آئی جب چتیشور پجارا ٹم سائوتھی کی گیند پر وکٹ کیپر بریڈلی جان واٹلنگ کا کیچ بنے، انھوں نے 23 رنز بنائے، اس موقع پر نیل ویگنر نے اپنا جادوئی اسپیل شروع کیا اور شیکھر دھون و ویرت کوہلی کے درمیان خطرناک شراکت کا خاتمہ کیا۔
دونوں نے تیسری وکٹ کی شراکت میں 126 رنز جوڑ کر اسکور کو 222 تک پہنچایا، دونوں کو نیل ویگنر کی گیندوں پر وکٹ کیپر واٹلنگ نے کیچ کیا، کوہلی 67 اور دھون 115 رنز پر آئوٹ ہوئے، ایک موقع پر بھارت کو ریکارڈ فتح کے لیے صرف 139 رنز درکار اور 6 وکٹیں ہاتھ میں تھیں مگر کیویز نے نئی بال ہاتھ میں آتے ہی حریف بیٹسمینوں کا شکار کھیلنا شروع کردیا، پہلی ہی گیند پر ٹرینٹ بولٹ نے اجنکیا راہنے کو 23 رنز پر ایل ڈبلیو کیا تاہم ری پلیز سے گیند پہلے بیٹ سے ٹکراتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔
چائے کے وقفے کے بعد پہلے اوور میں روہت شرما 19 رنز پر سائوتھی کی گیند پر کاٹ بی ہائنڈ ہوگئے، اس موقع پر بقول دھونی کے بھارت نے 'رسکی کرکٹ' کھیلی، ان کے اور رویندرا جڈیجا کے درمیان سات اوورز میں 54 رنز بنے، تیز کرکٹ کھیلنے کا مقصد نیوزی لینڈ پر دبائو بڑھانا تھا مگر یہ حکمت عملی کامیاب نہیں ہوسکی، ٹرینٹ بولٹ نے 21 بالز پر 26 رنز اسکور کرکے رویندرا جڈیجا کو سودھی کا کیچ بنادیا، ظہیر خان کے ساتھ مل کر دھونی نے مجموعے میں مزید 25 رنز کا اضافہ کیا تاہم ویگنر کی گیند پر ظہیر (17) ٹیلر کا کیچ بن گئے، جب دھونی نے خود ہی ٹیم کا بیڑہ پار لگانے کے لیے کوشش شروع کی تو ویگنر نے انھیں 39 رنزپر بولڈ کردیا، ٹرینٹ بولٹ نے بھارتی اننگزکا اختتام کیا جب ایشانت شرما (4) کاٹ بی ہائنڈ ہوئے، یہ واٹلنگ کا چھٹا کیچ تھا جوکہ کسی بھی وکٹ کیپرکی چوتھی اننگز میں ریکارڈ پرفارمنس ہے، اس طرح انھوں نے برینڈن میک کولم کا ایک میچ میں 9 کیچ کا قومی ریکارڈ بھی برابر کردیا۔
شیکھر دھون کی سنچری بھی کسی کام نہ آئی،407 رنزکے تعاقب میں جانے والی مہمان ٹیم 366 پر ڈھیر ہوگئی، نئی گیند کیویز کے ہاتھ آتے ہی دھونی الیون کی پسپائی شروع ہوگئی، ویرت کوہلی نے 67 رنز بنائے، نیل ویگنر نے خاص طور پر بھارتی بیٹنگ لائن کو نقصان پہنچاتے ہوئے 4 وکٹیں لیں، ٹرینٹ بولٹ اور ٹم سائوتھی نے تین تین کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا، ڈبل سنچری اسکور کرنے والے میزبان کپتان برینڈن میک کولم میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی بورڈ نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر عالمی کرکٹ کا کنٹرول تو حاصل کرلیا مگر اگلے ہی روز ان کی ٹیسٹ رینکنگ میں دوسرے نمبر پر موجود ٹیم آٹھویں درجے کے نیوزی لینڈ سے 40 رنز سے مات کھا گئی، کیویز کو دو میچز کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل ہے اس طرح ان کے اب سیریز ہارنے کا خدشہ ختم ہوچکا ہے۔
بھارت کو فتح کے لیے 407 رنز کا ہدف ملا اور وہ بھرپور کوشش کرتے ہوئے اس کے قریب بھی پہنچ گیا مگر کیوی بولرز نے اپنے اعصاب قابو میں رکھتے ہوئے بھارتی ٹیم کو 366 رنز پر آئوٹ کرکے 40 رنز کی فتح حاصل کرلی، آخری سیشن میں بھارت کی 98 رنز کے عوض آخری 5 وکٹیں گریں۔ اس نے دن کا آغاز 87 رنز ایک وکٹ سے کیا، پورے مارننگ سیشن میں کیویز کے ہاتھ صرف وکٹ آئی جب چتیشور پجارا ٹم سائوتھی کی گیند پر وکٹ کیپر بریڈلی جان واٹلنگ کا کیچ بنے، انھوں نے 23 رنز بنائے، اس موقع پر نیل ویگنر نے اپنا جادوئی اسپیل شروع کیا اور شیکھر دھون و ویرت کوہلی کے درمیان خطرناک شراکت کا خاتمہ کیا۔
دونوں نے تیسری وکٹ کی شراکت میں 126 رنز جوڑ کر اسکور کو 222 تک پہنچایا، دونوں کو نیل ویگنر کی گیندوں پر وکٹ کیپر واٹلنگ نے کیچ کیا، کوہلی 67 اور دھون 115 رنز پر آئوٹ ہوئے، ایک موقع پر بھارت کو ریکارڈ فتح کے لیے صرف 139 رنز درکار اور 6 وکٹیں ہاتھ میں تھیں مگر کیویز نے نئی بال ہاتھ میں آتے ہی حریف بیٹسمینوں کا شکار کھیلنا شروع کردیا، پہلی ہی گیند پر ٹرینٹ بولٹ نے اجنکیا راہنے کو 23 رنز پر ایل ڈبلیو کیا تاہم ری پلیز سے گیند پہلے بیٹ سے ٹکراتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔
چائے کے وقفے کے بعد پہلے اوور میں روہت شرما 19 رنز پر سائوتھی کی گیند پر کاٹ بی ہائنڈ ہوگئے، اس موقع پر بقول دھونی کے بھارت نے 'رسکی کرکٹ' کھیلی، ان کے اور رویندرا جڈیجا کے درمیان سات اوورز میں 54 رنز بنے، تیز کرکٹ کھیلنے کا مقصد نیوزی لینڈ پر دبائو بڑھانا تھا مگر یہ حکمت عملی کامیاب نہیں ہوسکی، ٹرینٹ بولٹ نے 21 بالز پر 26 رنز اسکور کرکے رویندرا جڈیجا کو سودھی کا کیچ بنادیا، ظہیر خان کے ساتھ مل کر دھونی نے مجموعے میں مزید 25 رنز کا اضافہ کیا تاہم ویگنر کی گیند پر ظہیر (17) ٹیلر کا کیچ بن گئے، جب دھونی نے خود ہی ٹیم کا بیڑہ پار لگانے کے لیے کوشش شروع کی تو ویگنر نے انھیں 39 رنزپر بولڈ کردیا، ٹرینٹ بولٹ نے بھارتی اننگزکا اختتام کیا جب ایشانت شرما (4) کاٹ بی ہائنڈ ہوئے، یہ واٹلنگ کا چھٹا کیچ تھا جوکہ کسی بھی وکٹ کیپرکی چوتھی اننگز میں ریکارڈ پرفارمنس ہے، اس طرح انھوں نے برینڈن میک کولم کا ایک میچ میں 9 کیچ کا قومی ریکارڈ بھی برابر کردیا۔