بے نتیجہ ٹیسٹ میتھیوز اور مشفیق نے الزامات کی بوچھاڑ کردی

بنگلہ دیش نے چٹاگانگ میں جیتنے کی کوشش ہی نہیں کی، سری لنکن قائد کا الزام

مہمان کپتان کا چوتھے دن تاخیر سے اننگز ڈیکلیئرڈ کرنا حیران کن رہا، میزبان بیٹسمین۔ فوٹو: فائل

چٹاگانگ میں سیریز کا دوسرا ٹیسٹ ڈرا ہوجانے پر بنگلہ دیشی اور سری لنکن کپتانوں نے ایک دوسرے پر دفاعی انداز اختیار کرنے کے الزامات عائد کردیے۔

میزبان قائد مشفیق الرحیم نے کہا کہ سری لنکا نے جیتنے کی خاطر بولنگ نہیں کی، جس پر ان کے حریف ہم منصب نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے بیان داغا کہ بنگلہ دیش نے ٹیسٹ کرکٹ کی 137 سالہ تاریخ میں ریکارڈ ہدف پاکر جیتنے کا موقع گنوایا، میتھیوز نے چٹاگانگ کی وکٹ کو'سڑک' سے تشبیہ بھی دے ڈالی، سیریز 1-0 سے سری لنکا کے نام ہوگئی، بنگلہ دیش کو دوسرے ٹیسٹ میں جیت کیلیے آئی لینڈرز نے 467 کا ہدف دیا تھا، سری لنکن ٹیم نے میچ کے چوتھے دن اپنی دوسری اننگز بھی تاخیر سے ڈیکلیئرڈ کی، جس کا سبب دنیش چندیمل کو کیریئر کی ٹیسٹ سنچری مکمل کرنے کا موقع فراہم کرنارہی، اس کے سبب چوتھے دن کے اختتام پر بنگلہ دیش کو اپنی دوسری اننگز میں محض8 اوورز بیٹنگ کرنے کا موقع مل پایا تھا۔




میتھیوز نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنی دوسری اننگز تاخیر سے ڈیکلیئرڈ نہیں کی تھی، اگر بنگلہ دیشی ٹیم چاہتی تو 467 کا ہدف حاصل کرسکتی تھی، لیکن انھوں نے ایسا کوئی ارادہ ظاہر ہی نہیں کیا، ان کے پاس 98 اوورز موجود تھے، ہم انتہائی مثبت رہے اور ہم جیتنے کیلیے آل آئوٹ گئے، ہم جانتے تھے کہ اگر بنگلہ ٹیم ہدف حاصل کرنے کی جانب جاتی تو ہم انھیں آئوٹ کرسکتے تھے، ہمارے پاس مختلف انداز کے بولرز تھے، جس میں اجنتھامینڈس، دلروان پریرا اور سورنگا لکمل شامل تھے، میتھیوز نے چٹاگانگ کی وکٹ پر بھی تنقید کی ، ان کا کہناتھا کہ وکٹ روڈ کی مانند انتہائی فلیٹ تھی، جس سے ہمارے بولرز کے دل بھی خراب ہوئے، دوسری جانب بنگلہ دیشی کپتان مشفیق الرحیم نے کہا کہ ہمیں انجیلو میتھیوز کے اننگز ڈیکلیئرڈ کردینے کی ٹائمنگ پر بھی حیرت ہوئی تھی، جس کے بعد ہمیں میچ کے چوتھے دن محض چند اوورز کھیلنے کا موقع ملا تھا، اگر میں سری لنکن کپتان کی جگہ ہوتا تو حریف ٹیم کو کم از کم 20 اوورز پہلے اننگزختم کرنے کا اعلان کردیتا، میرے خیال میں 350 سے400 کا ہدف بھی کافی ہوتا۔
Load Next Story