نواز شریف بھٹو پر تنقید کے بجائے معیشت بہتر بنائیں غنویٰ بھٹو
شہید بھٹونے انتخابی وعدہ پورا کرتے ہوئے 22خاندانوں کی اجارہ داری ختم کی تھی
امیر سے امیرتر اور غریب غریب سے غریب تر ہوتا جا رہا ہے،چیئرمین پرسن پی پی شہید بھٹو۔ فوٹو: فائل
پیپلز پارٹی (شہیدبھٹو) کی چیئرپرسن غنویٰ بھٹو نے کہا ہے کہ پاکستان کے پہلے جمہوری وزیر اعظم قائد عوام شہید ذوالفقارعلی بھٹو کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے بجائے نواز شریف کو ملکی معیشت کی ابتر صورتحال کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کیلیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے چاہئیں جو اب تک ماضی کی طرح عالمی اداروں کے سامنے ملک کو گروی رکھنے اور امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
اتوار کو 70کلفٹن پر پارٹی پنجاب کے آرگنائزر علی حسن چشتی کی قیادت میں وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بھٹونے 1970 میں منعقد ہونے والے عام انتخابات میں خصوصاً پنجاب سے بھاری تعداد میں کامیابی حاصل کی تھی اس کی بنیاد ان کے انتخابی منشور کا وہ نکتہ ہے جس کے مطابق ملک میں سوشلسٹ معیشت کاقیام عمل میں لایا جائے گا اور معیشت پر 22 خاندانوں کی اجارہ داری کا خاتمہ کیا جائے گا۔
جو قومی دولت کو لوٹنے میں مصروف ہیں اور امیر سے امیرتر اور غریب غریب سے غریب تر ہوتا جا رہا ہے اور ان کا واحد علاج یہ ہے کہ بھاری صنعتوں کو قومی تحویل میں دیدیا جائے اور اسی نکتے پر پاکستان کے عوام نے انھیں عام انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب بنایا تھا اور جب شہید بھٹو عوام کی اکثریت کی حمایت سے اقتدار میں آئے تو انھوں نے اپنا وعدہ پورا کیا اور ملکی اقتصادیات پر مسلط 22 خاندانوں کی اجارہ داری ختم کی اور قومیائے گئے منفعت بخش صنعتی اداروں سے پاکستان کے خزانے میں کثیر رقم جمع کی گئی۔
اتوار کو 70کلفٹن پر پارٹی پنجاب کے آرگنائزر علی حسن چشتی کی قیادت میں وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بھٹونے 1970 میں منعقد ہونے والے عام انتخابات میں خصوصاً پنجاب سے بھاری تعداد میں کامیابی حاصل کی تھی اس کی بنیاد ان کے انتخابی منشور کا وہ نکتہ ہے جس کے مطابق ملک میں سوشلسٹ معیشت کاقیام عمل میں لایا جائے گا اور معیشت پر 22 خاندانوں کی اجارہ داری کا خاتمہ کیا جائے گا۔
جو قومی دولت کو لوٹنے میں مصروف ہیں اور امیر سے امیرتر اور غریب غریب سے غریب تر ہوتا جا رہا ہے اور ان کا واحد علاج یہ ہے کہ بھاری صنعتوں کو قومی تحویل میں دیدیا جائے اور اسی نکتے پر پاکستان کے عوام نے انھیں عام انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب بنایا تھا اور جب شہید بھٹو عوام کی اکثریت کی حمایت سے اقتدار میں آئے تو انھوں نے اپنا وعدہ پورا کیا اور ملکی اقتصادیات پر مسلط 22 خاندانوں کی اجارہ داری ختم کی اور قومیائے گئے منفعت بخش صنعتی اداروں سے پاکستان کے خزانے میں کثیر رقم جمع کی گئی۔