ہمارے پاس آئین کو چھیڑنے کا مینڈیٹ نہیں رستم مہمند

نواز شریف کو برطانیہ کا وزیر اعظم بنا دیں تو وہاں بھی مارشل لا لگوا دیں، حسن نثار

قبائلی علاقوں میں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، مسائل بہت سے ہیں۔فوٹو:فائل

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن رستم شاہ مہمند نے کہا ہے کہ ہمارے پاس وسیع مینڈیٹ نہیں ہے کہ ہم آئین کو چھیڑیں، بہت نقصان ہو چکا، قبائلی علاقوں میں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، مسائل بہت سے ہیں، طالبان کے نمائندوں سے جب بالمشافہ گفتگو ہو گی تو آئین سے باہر نہیں ہوگی، جو بھی فیصلے ہونگے وہ انھی علاقوں کے متعلق ہونگے جہاں تنازع ہے۔

وہ ایکسپریس نیوزکے پروگرام ''بات سے بات'' میں میزبان ڈاکٹر ماریا ذوالفقار خان سے گفتگوکر رہے تھے۔ کالم نگار حسن نثار نے کہا کہ میرے خیال میں مذاکرات کو سبوتاژکرنے کی کوشش کوئی نہیں کر رہا، ہدف ناقابل حصول ہے، مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو نقصان سب کا ہو گا۔ پتہ نہیں شریعت کا نفاذکہاں اورکیسے کیسے ہوگا؟ دہشت گردی کے پیچھے گلوبل وجوہات ہیں۔ اس علاقے کی ہزار سالہ تاریخ ہے، دہشت گردی کی جڑیں اس میں ہیں۔ فوج کو وہاں سے واپس نہیں بلانا چاہیے نہ فوج ایسا فیصلہ کریگی، وہ پاکستان کا علاقہ ہے۔ افغانستان کے حوالے سے انہوں نے کہا اگردائیں بائیں آگ لگے گی تو ہمارا گھرکیسے محفوظ رہے گا۔ دنیا پاکستان کو مستحکم ملک کے طور پر دیکھنا نہیں چاہتی، بھارت بھی علاقے کابڑا فریق اور سٹیک ہولڈر ہے۔




انھوں نے کہاکہ بات رویوں کی ہوتی ہے، نواز شریف کو برطانیہ کا وزیراعظم بنا دیں تو وہ وہاں بھی مارشل لاء لگوا دیں گے، آئین کی دھجیاں اڑادی گئی ہیں توصرف آرٹیکل 6کی بات کیوں؟ کیا اسمبلیوں میں تمام لوگ صادق و امین ہیں؟ ایاز وزیر نے کہا کہ شورش زدہ علاقوں کا نیا نام دیا گیا ہے، حالانکہ کراچی، کے پی کے اور بلوچستان ان سے زیادہ جل رہا ہے۔ مذاکراتی کمیٹیوں کو اب آگے بڑھنا ہے، اب تک پیش کی گئی شرائط اتنی سخت نہیں کہ جن پر سمجھوتہ نہ ہو سکے، بات چیت کر کے متفقہ راستہ ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ شورش زدہ علاقے میں بہت نقصان ہو چکا، تلافی کی جائے ،فوج کووہاں بھیجنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ملا نذیر اور حافظ گل بہادرکے ساتھ کئے گئے معاہدے اب تک برقرار ہیں۔ اگرحکومت اور ٹی ٹی پی معاہدہ کر لیں تو پورے علاقے میں ٹی ٹی پی ذمے دار ہو گی۔ سوات اور فاٹا الگ معاملات ہیں، انھیں اکٹھاکرکے نہ دیکھا جائے۔ ایاز وزیر نے کہا کہ امریکا کو پاکستان میں پھر ایک شخص کی ضرورت ہے، تاہم فوج پھر بغاوت کیلیے تیارہے نہ عوام ایسا چاہتے ہیں۔
Load Next Story