پولٹری انڈسٹری بھی بھارت کوبلاامتیازمارکیٹ رسائی کی مخالف

پیداواری لاگت زیادہ ہونے کی وجہ سے بھارت کا مقابلہ نہیں کرسکتے، وزارت تجارت کو خط

بھارتی پولٹری مصنوعات اور پولٹری فیڈ کی یلغار پاکستان کے پولٹری سیکٹر کو تباہ کردے گی ۔ فوٹو : فائل

ISLAMABAD:
فارماسیوٹیکل، آٹو، ٹیکسٹائل اور ایگری سیکٹر کے بعد پولٹری انڈسٹری نے بھی بھارت کو بلا امتیاز مارکیٹ رسائی دیے جانے پر سخت اعتراضات کا اظہار کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدرخلیل ستار نے سیکریٹری وزارت تجارت کو لکھے جانے والے ایک خط (P34/CF/500) میں سخت تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارتی پولٹری مصنوعات اور پولٹری فیڈ کی یلغار پاکستان کے پولٹری سیکٹر کو تباہ کردے گی جس سے پولٹری سیکٹر کے ساتھ زرعی شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوگا۔ خط میں اس بات پر زور بھی دیا ہے کہ بھارت کو ایسی مراعات دینے سے پہلے حکومت کو چاہیے کہ وہ مقامی پولٹری انڈسٹری کے تحفظ کیلیے اہم اصلاحات کرے۔ انڈسٹری کو درپیش بڑا مسئلہ جنریٹرز کے ذریعے 35 روپے فی یونٹ بجلی کی پیداوار ہے۔ پاکستان کے دیہی اور دور دراز علاقوں میں زیادہ تر وقت بجلی نہیں ہوتی جبکہ ان علاقوں میں ہی زیادہ تر پولٹری فارم قائم ہیں اور بجلی حاصل کرنے کیلیے انہیں جنریٹرز استعمال کرنے پڑتے ہیں۔




دوسری طرف بھارت میں کاشت کاروں کو زیرو ریٹ یا پھر اعانتی نرخوں پر بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں مزید کہا کہ امن و امان کی صورت حال کی وجہ سے درمیانے درجے کے پولٹری فارمرز کو بھی حفاظت کیلیے 10 سے 16 سیکیورٹی گارڈز رکھنا پڑتے ہیں۔ سیکیورٹی پر اٹھنے والے یہ اخراجات سراسر اضافی ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پولٹری مصنوعات صرف اُسی ملک سے درآمد کی جاسکتی ہیں جہاں پولٹری بیماریوں سے تحفظ کا مکمل موثر نگرانی کا نظام ہو۔ اسی طرح ریاست کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ بیماریوں کے حوالے سے مکمل فہرست جاری کرے۔ جیسے نیو کاسل بیماری ہے، اس بیماری کا اعلان کیا جائے گا تو اس سے تمام اقسام کی پولٹری برآمدات پر پابندی لگ جائیگی۔
Load Next Story