غداری کیس مشرف کا مقدمہ فوجی عدالت منتقل کرنے کی استدعاججز نظر بندی کیس میں حاضری سے استثنیٰ مل گیا

آرٹیکل 6 کی خصوصی عدالت میں کارروائی سویلین تک ہے، آئین شکنی کا جرم فوجی کرے تو اس پر آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے

اگر ملزم اپنی زبان سے بھی اعتراف جرم کر لے تو عدالت احتیاط سے جائزہ لیتی ہے، جسٹس فیصل عرب کے ریمارکس، آج پھر سماعت ہوگی فوٹو: فائل

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت میں مقدمہ آرمی ایکٹ کے تحت فوجی عدالت میں منتقل کرنے پر ڈاکٹر خالد رانجھا کے دلائل پیر کو بھی جاری رہے، وہ مزید دلائل آج (منگل 11 فروری کو) بھی دیں گے۔

خالد رانجھا نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ آئین شکنی کا جرم اگر کوئی فوجی کرے تو آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے ملک میں جھگڑا آئین اور فوج کا ہے جب آئین بنانے والوں نے آرمی ایکٹ میں ترمیم نہیں کی تو خصوصی عدالت قانون کے مطابق کسی فوجی کے خلاف مقدمے کی کارروائی سویلین عدالت میں نہیں کر سکتی، آرٹیکل 6 کی خصوصی عدالت میں کارروائی صرف سویلین تک محدود ہے، خصوصی عدالت ایکٹ 1976 صرف نیشنل عوامی پارٹی اور ولی خان کے خلاف کارروائی کیلیے جاری ہوا، آرٹیکل6 کیلیے صرف ایک قانون کا ہونا ضروری نہیں، سزا کیلیے 2الگ الگ قوانین ہیں جن میں سے ایک کا اطلاق فوجی ملازم پر ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مقدمے کی فوجی عدالت میں منتقلی کی درخواست کا مطلب اعتراف جرم نہ سمجھاجائے، دفعہ92 کے تحت ریٹائرمنٹ کے بعد بھی فوجی ملازم کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے تحت ہوتا ہے۔ جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ ملزم اپنی زبان سے اعتراف کر بھی کرلے تو عدالت احتیاط سے اس کا جائزہ لیتی ہے۔ وکیل خالد رانجھا نے کہا کہ ضابطہ فوجداری کے تحت بھی فوجی ملازم کو ملٹری کورٹ کے حوالے کیا جاتا ہے، مشرف کے خلاف موجودہ عدالت کی کارروائی بغیر کسی قانون کے ہے، حال ہی میں این ایل سی کیس کی کارروائی کیلیے فوج کے 3 جنرلز کو بحال کیا گیا۔

جسٹس فیصل عرب نے استفسارکیا کہ کیا اس حوالے سے کسی نوٹیفکیشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ وکیل نے کہاکہ آرمی ایکٹ کی دفعہ7 اور 8 کے تحت ملزم ازخود ٹرائل کیلیے بحال ہوتا ہے، فوجی عدالت زیادہ سخت ہوتی ہے قانون کا تقاضہ نہ ہو تو کوئی پاگل ہی عام عدالت سے مقدمہ فوجی عدالت میں لے کر جائے گا۔ قانون کا تقاضا ہے کہ خصوصی عدالت مقدمہ فوجی عدالت کو بھجوا دے اس کیلیے ملزم کے اعتراض کی بھی ضرورت نہیں، خصوصی عدالت کو چاہیے تھا کہ جب معاملہ پیش ہوا تو وہ پاک فوج کے علم میں معاملہ لاتی اور 15روز انتظار کرتی۔




فوجی کے جرم سے متعلق قانون یہ ہے کہ اگر جرم کوئی فوجی کرے تو معاملہ کورٹ مارشل کو بھجوایا جانا لازمی امر ہے، پراسیکیوٹر کا یہ جواب درست نہیں کہ پرویز مشرف آرمی ایکٹ کے تابع نہیں، پراسیکیوشن کا یہ موقف بھی صحیح نہیں کہ فوج کی جانب سے مطالبے کے بغیر ملزم اس کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ خالد رانجھا کا کہنا تھا کہ خصوصی عدالت کے دائرہ اختیارکو چیلنج نہیں کر رہا بلکہ قانون کے تقاضے سے متعلق بتانا چاہتا ہوں، مشرف کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا 23 دسمبر کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ ہم اپنے اختیار سماعت کا فیصلہ آپ کی درخواست پر کریں گے۔

ڈاکٹر خالد رانجھا نے کہا کہ اس کیس کو سویلین کورٹ میں چلانے کا فیصلہ وفاقی حکومت کا ہے جو بد نیتی پر مبنی ہے، وفاقی حکومت نے ہی جنرل مشرف کو شان کے ساتھ رخصت کیا تھا، معاملہ اتنا سنگین تھا تو اس کو پہلے کیوں نہیں اٹھایا گیا۔ خالد رانجھا کے دلائل جاری تھے کے عدالت نے مزید سماعت آج تک ملتوی کردی۔ دوسری طرف انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ججز بندی کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کی پیر کو ایک دن کیلیے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی۔ پیر کواسلام آباد میں ججز نظر بندی کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج عتیق الرحمن نے کی۔ پبلک پراسیکیوٹر عامر ندیم تابش اور سابق صدر کے وکیل الیاس صدیقی اور2 ضمانتی راشد اور مشتاق عدالت میں پیش ہوئے۔ پرویز مشرف کی میڈیکل رپورٹ پیش نہ کیے جانے پر پراسیکیوٹر عامر ندیم تابش نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف گزشتہ کئی سماعتوں سے عدالت میں پیش نہیں ہوئے، پرویز مشرف کے ضامنوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے، جس پر پرویز مشرف کے وکیل الیاس صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ پرویز مشرف علیل ہیں اور عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔ سابق صدر کے وکیل نے آئندہ سماعت پر پرویز مشرف کی میڈیکل رپورٹ پیش کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔ بعد ازاں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے ججز نظربندی کیس میں پرویز مشرف کی ایک دن کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت 24 فروری تک ملتوی کردی۔
Load Next Story