غیر معیاری گیس سلنڈروں کیخلاف کارروائی کی رپورٹ طلب
2012 میں دیے گئے عدالتی حکم پر عمل ہوا اور نہ ہی اداروں نے کوئی جواب داخل کرایا
2012 میں دیے گئے عدالتی حکم پر عمل ہوا اور نہ ہی اداروں نے کوئی جواب داخل کرایا۔فوٹو:فائل
عدالت عالیہ نے گاڑیوں میں نصب غیر معیاری سلنڈر اور ٹنکیوں کیخلاف کارروائی کی رپورٹ طلب کرلی ،عدالت کا حکومتی رویے پر دوران سماعت شدید اظہار برہمی، ہائی کورٹ نے حکم پر عمل کرکے 2 ہفتے میں جواب داخل کرنے کی ہدایت کردی۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس عرفان سعادت خان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے حکومتی اداروں کو شہر میں چلنے والی گاڑیوں میں نصب غیر معیاری سلنڈر اور ٹنکیوں کے خلاف 2 ہفتے میں کارروائی کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے، حکومتی رویے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے عدالت نے 28 نومبر 2012 کو غیر معیاری سلنڈرز کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا عدالتی حکم پر عمل ہوا اور نہ ہی سرکاری اداروں نے اب تک کوئی جواب داخل کیا ہے، رانا فیض الحسن کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ فاضل عدالت نے28 نومبر 2012 کو مدعا علیہان کو حکم دیا تھا کہ غیر معیاری گیس سلنڈرز کے خلاف کارروائی کریں مگر عدالتی حکم پر تاحال عمل نہیں کیا گیا، عدالت نے ہدایت کی تھی کہ ایسی گاڑیوں کو سڑک پر آنے اور مسافر اٹھانے سے بھی روکا جائے، ایل پی جی کی سلنڈر سے دوسرے سلنڈر میں منتقلی کو روکا جائے اور ایساکرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
رانا فیض الحسن کی دائر درخواست میں وزارت قانون،وزارت پٹرولیم،وزارت داخلہ اور دیگر کو فریق بنایا گیا تھا، گیس لیک ہونے سے مسافر گاڑیوں میں ہونے والے حادثات میں مسافروں کی ہلاکتوں کی مثال دی تھی،درخواست گزار نے عدالت کو بتایا تھا کہ حکومت کی جانب سے سی این جی سلنڈروںکے معائنے کا کوئی نظام نہیں، پرانے غیر معیاری اور بوسیدہ سلنڈر کی گاڑیوں میں تنصیب سے سوار افراد کی جان کو خطرہ لاحق ہے، آئین کے آرٹیکل 9کے تحت ہر شہری کے جان و مال کا تحفظ حکومتی ذمے داری ہے، عدالت نے ہدایت کی ہے کہ 2 ہفتے میں مدعا علیہان عدالتی حکم پر عمل پی رپورٹ پیش کریں۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس عرفان سعادت خان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے حکومتی اداروں کو شہر میں چلنے والی گاڑیوں میں نصب غیر معیاری سلنڈر اور ٹنکیوں کے خلاف 2 ہفتے میں کارروائی کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے، حکومتی رویے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے عدالت نے 28 نومبر 2012 کو غیر معیاری سلنڈرز کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا عدالتی حکم پر عمل ہوا اور نہ ہی سرکاری اداروں نے اب تک کوئی جواب داخل کیا ہے، رانا فیض الحسن کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ فاضل عدالت نے28 نومبر 2012 کو مدعا علیہان کو حکم دیا تھا کہ غیر معیاری گیس سلنڈرز کے خلاف کارروائی کریں مگر عدالتی حکم پر تاحال عمل نہیں کیا گیا، عدالت نے ہدایت کی تھی کہ ایسی گاڑیوں کو سڑک پر آنے اور مسافر اٹھانے سے بھی روکا جائے، ایل پی جی کی سلنڈر سے دوسرے سلنڈر میں منتقلی کو روکا جائے اور ایساکرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
رانا فیض الحسن کی دائر درخواست میں وزارت قانون،وزارت پٹرولیم،وزارت داخلہ اور دیگر کو فریق بنایا گیا تھا، گیس لیک ہونے سے مسافر گاڑیوں میں ہونے والے حادثات میں مسافروں کی ہلاکتوں کی مثال دی تھی،درخواست گزار نے عدالت کو بتایا تھا کہ حکومت کی جانب سے سی این جی سلنڈروںکے معائنے کا کوئی نظام نہیں، پرانے غیر معیاری اور بوسیدہ سلنڈر کی گاڑیوں میں تنصیب سے سوار افراد کی جان کو خطرہ لاحق ہے، آئین کے آرٹیکل 9کے تحت ہر شہری کے جان و مال کا تحفظ حکومتی ذمے داری ہے، عدالت نے ہدایت کی ہے کہ 2 ہفتے میں مدعا علیہان عدالتی حکم پر عمل پی رپورٹ پیش کریں۔