حکومت خلوص نیت سے مذاکرات کو کامیاب بنانا چاہتی ہے وزیراعظم

طالبان کا دہشتگردی سے اعلان لاتعلقی مثبت پیشرفت ہے مگر یہ کافی نہیں،نوازشریف کی حکومتی کمیٹی سے گفتگو

ملک کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے پر عزم ہیں،وزیراعظم نوازشریف۔فوٹو:پی آئی ڈی

وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ مذاکرات نتیجہ خیز بنانے کیلیے ضروری ہے کہ دہشت گرد کارروائیاں بند ہوں، حکومت خلوص نیت سے مذاکرات کو کامیاب بنانا چاہتی ہے۔

منگل کو طالبان سے مذاکرات کیلیے قائم حکومتی کمیٹی سے ملاقات میں نواز شریف نے کہا کہ امن کیلیے مذاکرات شرو ع ہونے کے بعد دہشت گردی کی کارروائیاں رکنی چاہئیں، طالبان کی طرف سے اس قسم کی کارروائیوں سے لاتعلقی کا اعلان مثبت پیشرفت ہے تاہم یہ کافی نہیں یہ سلسلہ بند کرنے کیلیے تمام فریقوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ملک کو امن کی ضرورت ہے، امن وامان کا قیام اور عوام کی خدمت حکومت کا فرض ہے، ملک کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے پر عزم ہیں۔ انھوں نے کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ اپنا کام سنجیدگی اور جانفشانی سے جاری رکھے۔ حکومتی کمیٹی نے وزیر اعظم کو آگاہ کیا کہ طالبان کمیٹی کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے اور طالبان کا جواب مجموعی طور پر مثبت ہے۔ کمیٹی نے بتایا کہ طالبان قیادت نے حکومتی کمیٹی کو ملاقات کی دعوت بھی دی ہے، اس کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ کمیٹی کے کوآرڈینیٹر عرفان صدیقی نے بتایا کہ ملاقات ایک گھنٹے جاری رہی، کمیٹی نے وزیر اعظم کو طالبان کمیٹی سے ملاقات اور اب تک کی پیشرفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ ملاقات کرنیوالوں میں کمیٹی کے ارکان عرفان صدیقی، رستم شاہ مہمند اور میجر (ر) محمد عامر شامل تھے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ بھی ملاقات میں موجود تھے۔

طالبان سے امن مذاکرات کے حوالے سے حکومتی کمیٹی اور طالبان کی کمیٹی کا مشترکہ اجلاس منگل کو میجر (ر) محمد عامر کی رہائش گاہ پر ہوا۔ اجلاس میں مولانا سمیع الحق، پروفیسر محمد ابراہیم، مولانا یوسف شاہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی عرفان صدیقی، میجر (ر) محمد عامر اور رستم شاہ مہمند نے شرکت کی۔ پروفیسر ابراہیم اور مولانا یوسف شاہ نے طالبان کی سیاسی شوریٰ سے 2 روزہ بات چیت کی تفصیل سے آگاہ کیا اور بتایا کہ طالبان شوریٰ نے حکومتی کمیٹی کے نکات پر مثبت اور حوصلہ افزاء ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ طالبان نے کہا ہے کہ وہ کھلے ذہن سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور ان کی بھی یہی خواہش ہے کہ قوم کو جلد خوشخبری سنائیں۔ طالبان نے کہا ہے کہ قیام امن کی خاطر حکومتی کمیٹی کے ارکان کو کسی بھی وقت خوش آمدید کہا جائیگا۔ حکومتی کمیٹی نے طالبان کمیٹی کی رپورٹ کو اطمینان بخش قرار دیا اور کہا کہ آئندہ نشست میں تمام متعلقہ امور اور تجاویز پر تفصیلی مشاورت کے بعد اگلا لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔ حکومتی کمیٹی نے طالبان کی تجاویز پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔


حکومتی کمیٹی کے کوآرڈینیٹر عرفان صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کمیٹی سے ہونے والی غیر رسمی ملاقات امید افزا رہی، کوشش کریں گے کہ آئندہ ٹھوس اور مثبت اقدام اٹھائیں۔ ہم نے طے کیا ہے کہ مذاکرات کے دوران تجاویز اور مطالبات کے جو نکات سامنے آئیں گے اس پر اگلی نشت پر غور کریں گے۔ آج کی نشت کی حوالے سے صرف اتنا کہا جاسکتا ہے ہماری کمیٹی نے طالبان کی جانب سے سامنے آنے والی تفصیلات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور ہم توقع کررہے ہیں اگر اسی احتیاط اور عزم کے ساتھ ہم آگے بڑھتے رہے تو شاید آنے والے دنوں میں ہم زیادہ ٹھوس اور مثبت اقدامات کرسکیں گے جس سے قوم کو زیادہ اچھے اشارے ملیں گے۔ اس سوال پر کہ کیا وزیراعظم طالبان کی تین رکنی کمیٹی سے ملاقات کیلئے رضامند ہو جائیں گے تو عرفان صدیقی نے کہا کہ اس کا بہت زیادہ دارومدار ہماری دو بنیادی شرائط پر ٹی ٹی پی کی قیادت کے ردّعمل پر ہے کہ یہ مذاکرات آئین کے دائرہ کار کے اندر منعقد کیے جائیں گے اور اس کا اطلاق قبائلی پٹی کے صرف شورش زدہ علاقوں تک محدود ہوگا۔

طالبان کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ طالبان سے ملنے والی تفصیلات سرکاری کمیٹی کے سامنے رکھ دی ہیں جس پر حکومتی کمیٹی نے اطمینان کا اظہار کیا ہے اب اس پر تفصیل سے بات چیت ہوگی۔ مذاکرات کے لئے طالبان نے بھی بڑی حکمت و تدبر کا مظاہرہ کیا ہے اور ایسے کوئی مسائل کھڑے نہیں کئے جس سے مذاکرات کا عمل سبوتاژ ہو سکے البتہ پرامن فضا بنانے کیلئے دونوں جانب سے فائر بندی کی تجویز ہے، آگے چل کر اس پر بھی بات ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے کرنے والے ہماری امیدوں پرپانی پھیرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ طالبان نے ان دھماکوں سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔ دھماکے وہ لوگ کر رہے ہیں جو ہمارے خیر خواہ نہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ پہلے مرحلے میں ہی فائر بندی ہو جائے، حکومتی کمیٹی سے کچھ وضاحت طلب معاملات پر بھی بات ہوئی ہے۔

اس موقع پر جب مولانا سمیع الحق سے مولانا عبدالعزیز کے حوالے سے سوال کیاگیا تو سمیع الحق نے کوئی جواب نہ دیا جس پر مولانا یوسف نے برجستہ کہاکہ اللہ خیر کرے گا۔ یوسف شاہ نے کہا ہماری کوشش ہے کہ ایک بار گاڑی پٹڑی پر چڑھ جائے تو باقی مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ طالبان کمیٹی کے رکن سابق خطیب لال مسجد مولانا عبدالعزیز اجلاس میں شریک نہیں تھے۔ حکومت کی جانب سے رحیم اللہ یوسفزئی شہر سے باہر ہونے کی وجہ سے شرکت نہ کرسکے۔ آئی این پی کے مطابق دونوں مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس آج بدھ کو ہو گا جس میں طالبان کی پیش کی گئی تجاویز پر غور کیا جائیگا۔ طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے مذاکرات سے ملک میں امن بحال کیا جا سکے گا۔ اس بات کا امکان ہے کہ مستقبل میں پاکستانی طالبان اصلی سیاسی دھارے میں شامل ہو جائیں۔ انہوں نے پشاور میں سنیما میں دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امن مخالف قوتیں امن عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں، ان کے عزائم کامیاب نہیں ہونے دیں گے، قوم کو جلد خوشخبری سنائیں گے۔
Load Next Story