مشرف پر مقدمہ فوجی عدالت ہی چلاسکتی ہے وکیل وہ ایکٹ تو ختم ہوچکا خصوصی عدالت
سابق افسردوران ترائل حاضرسروس تصورہوتاہے،ملزم کواختیار ہےوہ سول یافوجی جس عدالت میں چاہےمقدمہ منتقل کرائے،خالد رانجھا
کالعدم قانون کا حوالہ دینا توہین عدالت ہے:اکرم شیخ، فوٹو: فائل
FAISALABAD:
غداری کیس میں پرویز مشرف کے وکیل خالد رانجھا نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مشرف نے جب ایمرجنسی نافذ کی تو اس وقت وہ ایک فوجی تھے۔
یہ بات بھول جائیں کہ ان کو ریٹائر ہوئے کتنا عرصہ گزرا جبکہ اکرم شیخ نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں سنگین غداری کی کوئی ایک شق موجود نہیں جبکہ لاہور ہائیکورٹ اس ایکٹ کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔ جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں خصوصی عدالت نے سماعت کی۔ خالد رانجھا نے آرمی ایکٹ1952 اور پھر ترمیمی آرمی ایکٹ1977 کے حوالے دیے اور کہا کہ ایکٹ10کے تحت سابق فوجی افسر کے خلاف مقدمہ چلانا پڑے بھی تو اسے علامتی طورپر دوبارہ فوج میں حاضر سروس تصور کرلیا جاتا ہے۔ عدالت کو کسی بھی مرحلے پر پتہ چلے کہ ملزم فوجی یا سابق فوجی ہے تو اس کا مقدمہ فوراً فوجی عدالت کو منتقل کردینا چاہیے۔
جسٹس طاہرہ صفدر نے استفسار کیا کہ آرمی ایکٹ کے ایکٹ10 کو تو لاہور ہائیکورٹ کالعدم قرار دے چکی ہے جس پر ڈاکٹر خالد رانجھا عدالت کو مطمئن نہ کرسکے۔ اکرم شیخ نے کہاکہ آرمی ایکٹ1977 کے ایکٹ دس کا حوالہ دیا جارہا ہے جبکہ اس کو درویش اعرابی کیس میں لاہور ہائی کورٹ کالعدم قرار دے چکی ہے۔ ایسا قانون جسے عدالت کالعدم قرار دے چکی ہو اس کا حوالہ دینا بھی توہین عدالت ہے۔ وکیل صفائی1952 کے آرمی ایکٹ کا حوالہ دے رہے ہیں جبکہ 1952 میں تو سنگین غداری کا قانون ہی نہیں تھا۔ پھر 1977 میں آرمی ایکٹ میں ترامیم کی گئیں تو انھیں لاہور ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا۔
2007 میں پرویز مشرف نے آرمی ایکٹ میں مزید ترامیم کیں مگر سنگین غداری کے کیس کے آرٹیکل کو آرمی ایکٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ یہ بذات خود توہین عدالت ہے کہ ایک ایسے قانون کا عدالت میں حوالہ دیا جائے جو کالعدم ہوکر کاغذ کا ٹکڑا بن چکا ہے۔ اکرم شیخ کے دلائل کے دوران خالد رانجھا اور احمد رضا قصوری نے ان سے تلخ کلامی کی۔ جسٹس فیصل عرب نے احمد رضا قصوری کی سرزنش کی اور کہا کہ وہ خاموش رہیں۔ مزید سماعت آج تک ملتوی کر دی گئی۔ دریں اثنا ایکس سروس مین لیگل فورم نے کیس میں فریق بننے کے لیے خصوصی عدالت میں درخواست جمع کرادی۔ کرنل(ر) انعام الرحیم نے درخواست میں کہاہے کہ غداری کا مقدمہ فوجی عدالت میں منتقل نہیں ہوسکتا۔ میں جیگ برانچ میں رہاہوں اورا س حوالے سے وسیع تجربہ کے ساتھ عدالت کی معاونت کرناچاہتاہوں۔ عدالت نے قرار دیاکہ یہ معاملہ بعد میں دیکھیں گے۔
غداری کیس میں پرویز مشرف کے وکیل خالد رانجھا نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مشرف نے جب ایمرجنسی نافذ کی تو اس وقت وہ ایک فوجی تھے۔
یہ بات بھول جائیں کہ ان کو ریٹائر ہوئے کتنا عرصہ گزرا جبکہ اکرم شیخ نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں سنگین غداری کی کوئی ایک شق موجود نہیں جبکہ لاہور ہائیکورٹ اس ایکٹ کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔ جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں خصوصی عدالت نے سماعت کی۔ خالد رانجھا نے آرمی ایکٹ1952 اور پھر ترمیمی آرمی ایکٹ1977 کے حوالے دیے اور کہا کہ ایکٹ10کے تحت سابق فوجی افسر کے خلاف مقدمہ چلانا پڑے بھی تو اسے علامتی طورپر دوبارہ فوج میں حاضر سروس تصور کرلیا جاتا ہے۔ عدالت کو کسی بھی مرحلے پر پتہ چلے کہ ملزم فوجی یا سابق فوجی ہے تو اس کا مقدمہ فوراً فوجی عدالت کو منتقل کردینا چاہیے۔
جسٹس طاہرہ صفدر نے استفسار کیا کہ آرمی ایکٹ کے ایکٹ10 کو تو لاہور ہائیکورٹ کالعدم قرار دے چکی ہے جس پر ڈاکٹر خالد رانجھا عدالت کو مطمئن نہ کرسکے۔ اکرم شیخ نے کہاکہ آرمی ایکٹ1977 کے ایکٹ دس کا حوالہ دیا جارہا ہے جبکہ اس کو درویش اعرابی کیس میں لاہور ہائی کورٹ کالعدم قرار دے چکی ہے۔ ایسا قانون جسے عدالت کالعدم قرار دے چکی ہو اس کا حوالہ دینا بھی توہین عدالت ہے۔ وکیل صفائی1952 کے آرمی ایکٹ کا حوالہ دے رہے ہیں جبکہ 1952 میں تو سنگین غداری کا قانون ہی نہیں تھا۔ پھر 1977 میں آرمی ایکٹ میں ترامیم کی گئیں تو انھیں لاہور ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا۔
2007 میں پرویز مشرف نے آرمی ایکٹ میں مزید ترامیم کیں مگر سنگین غداری کے کیس کے آرٹیکل کو آرمی ایکٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ یہ بذات خود توہین عدالت ہے کہ ایک ایسے قانون کا عدالت میں حوالہ دیا جائے جو کالعدم ہوکر کاغذ کا ٹکڑا بن چکا ہے۔ اکرم شیخ کے دلائل کے دوران خالد رانجھا اور احمد رضا قصوری نے ان سے تلخ کلامی کی۔ جسٹس فیصل عرب نے احمد رضا قصوری کی سرزنش کی اور کہا کہ وہ خاموش رہیں۔ مزید سماعت آج تک ملتوی کر دی گئی۔ دریں اثنا ایکس سروس مین لیگل فورم نے کیس میں فریق بننے کے لیے خصوصی عدالت میں درخواست جمع کرادی۔ کرنل(ر) انعام الرحیم نے درخواست میں کہاہے کہ غداری کا مقدمہ فوجی عدالت میں منتقل نہیں ہوسکتا۔ میں جیگ برانچ میں رہاہوں اورا س حوالے سے وسیع تجربہ کے ساتھ عدالت کی معاونت کرناچاہتاہوں۔ عدالت نے قرار دیاکہ یہ معاملہ بعد میں دیکھیں گے۔