سندھ اسمبلی میں ایجوکیشن ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ کارکن کی ہلاکت پر متحدہ کا واک آؤٹ
معیارتعلیم تیزی سے گررہاہے،سرداراحمد،مہتاب راشدی،سیاسی مداخت سبب ہے،مروت،بیوروکریسی کام کرنے نہیں دیتی،خیرالنسامغل
ایم کیو ایم کے ارکان سندھ اسمبلی کارکنان کے قتل عام کے خلاف اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کررہے ہیں۔فوٹو:این این آئی
سندھ اسمبلی میں منگل کوارکان نے سندھ میں تعلیم کے تیزی سے گرتے ہوئے معیارپر تشویش کا اظہار کیا اورحکومت سے مطالبہ کیاکہ وہ صورتحال کوسدھارنے کیلیے ایجوکیشن ایمرجنسی نافذ کرے اورجنگی بنیادوں پربہتری کے لیے اقدامات کرے ،تعلیم کے شعبے میں سیاسی مداخلت ختم کی جائے،اساتذہ کی بھرتیوں میں میرٹ اورشفافیت کانظام اختیارکیاجائے،کرپشن کا خاتمہ کیاجائے ۔
ارکان سندھ اسمبلی ایک تحریک التواپر تقاریر کر رہے تھے جوایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈرسردار احمد اورمسلم لیگ (فنکشنل) کی خاتون رکن مہتاب اکبرراشدی نے مشترکہ طور پر پیش کی تھی ۔سیدسردار احمد نے کہا کہ ہماری ترقی کاانحصار تعلیم پرہے، اس حوالے سے سندھ کی حالت بدترہے،2007-08میں تعلیم کے شعبے میں صرف5ارب روپے خرچ ہوئے اور-13 2012میں91 ارب روپے خرچ ہوئے لیکن تعلیم کی حالت بہتر نہیں ہوسکی۔مہتاب اکبرراشدی نے کہا کہ یہ ہماری بے حسی ہے کہ ہم تعلیم کے گرتے ہوئے معیار کے سنگین مسئلے پر توجہ نہیں دے رہے۔مسلم لیگ (فنکشنل) کے پارلیمانی لیڈر امتیازشیخ نے کہاکہ سندھ میں تعلیم کے گرتے ہوئے معیارسے متعلق اعدادو شمار ہماری آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں۔پیپلز پارٹی کی خاتون رکن خیرالنسامغل نے کہا کہ تعلیم کے شعبے کی بہتری کے لیے سندھ حکومت نے کچھ اقدامات کیے ہیں، بیوروکریسی کام نہیں کرتی۔
تحریک انصاف کے رکن خرم شیر زمان نے کہا کہ میراحلقہ کراچی کاپوش علاقہ ہے لیکن وہاں سرکاری اسکولزمیں کوئی سہولت نہیں ہے،چھٹیوں کاکلچرختم کیا جائے، دنیا میں کہیں بھی اپنے ہیروزکوخراج عقیدت پیش کرنے کے لیے چھٹیاں نہیں کی جاتیں۔ایم کیو ایم کی خاتون رکن ہیراسماعیل سوہو نے کہا کہ گھوسٹ اسکولز کی تعدادمیں اضافہ ہو رہاہے،غیر حاضر اساتذہ اپنی 50 فیصد تنخواہیں افسروں کوبطوررشوت دیتے ہیں اورگھربیٹھے50 فیصد تنخواہیں حاصل کرتے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر اور سابق وزیر تعلیم عرفان اللہ مروت نے کہاکہ تعلیم کی تباہی کا بنیادی سبب سیاسی مداخلت ہے،وزیر تعلیم کا زیادہ وقت تبادلوں اور تقرریوں سے متعلق سفارشوں سے نمٹنے میں گزرتاہے ۔ پیپلزپارٹی کے سید مرادعلی شاہ نے کہا کہ اساتذہ کی بھرتیوں میں کسی کی سیاسی مداخلت نہ ہو،میرٹ کے بغیر کسی کو نوکری نہیں ملنی چاہیے۔
واک آؤٹ سے پہلے ایم کیوایم کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈرخواجہ اظہار الحسن نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے محمد عادل کی تشددسے ہلاکت پرسخت احتجاج کیا اور کہا کہ بے گناہ نوجوانوں کی لاشیں ملنے کی وجہ سے لوگوں میں پیداہونے والا احساس محرومی اگراحساس بے گانگی میں تبدیل ہوگیا تو اس کے نتائج خطرناک ہوں گے،ہمارے 10سے زائد ساتھی ماورائے عدالت قتل ہوچکے ہیں ،یہ تمام بے گناہ لوگ تھے ،45 سے زائد کارکن لاپتہ ہیں جنھیں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں گرفتار کیا گیا ۔پی آئی بی کالونی سے لاپتہ ہونے والے ایک کارکن کی والدہ کا صدمے سے انتقال ہوگیاہے،ٹارگٹڈ آپریشن لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے لیکن یہ نامعلوم قانون نافذ کرنے والے کون ہیں؟جو قانون کی دھجیاں اڑارہے ہیں ،کون ہے ، جو اس آپریشن کے خلاف سازشیں کررہا ہے ۔
ایم کیو ایم کے ارکان کے واک آؤٹ کے بعدوزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن نے کہا کہ محمد عادل کی ہلاکت کے معاملے پر3اعلیٰ افسران پر مشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے ۔اس کمیٹی میں عبدالخالق شیخ ، عامر فاروقی اور ظفر بخاری شامل ہیں ،اگر کسی پولیس اہلکار کا جرم ثابت ہواہے تواس سے مجرم کی طرح سلوک کیا جائے گا،وزیراعلیٰ سندھ نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیاہے،کوئی شخص ایم کیو ایم کا کارکن بعدمیں ہے ،پہلے وہ انسان ہے،کسی کے ساتھ غیر انسانی سلوک نہیں ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ زیادتی کا ازالہ ہوگا ،ہمیں دوستوں کی شکایات کا احساس ہے،حکومت کی نیت صاف ہے،ہم کراچی میں امن قائم کرناچاہتے ہیں لیکن کسی کے ساتھ زیادتی بھی نہیں ہونے دیںگے۔
ارکان سندھ اسمبلی ایک تحریک التواپر تقاریر کر رہے تھے جوایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈرسردار احمد اورمسلم لیگ (فنکشنل) کی خاتون رکن مہتاب اکبرراشدی نے مشترکہ طور پر پیش کی تھی ۔سیدسردار احمد نے کہا کہ ہماری ترقی کاانحصار تعلیم پرہے، اس حوالے سے سندھ کی حالت بدترہے،2007-08میں تعلیم کے شعبے میں صرف5ارب روپے خرچ ہوئے اور-13 2012میں91 ارب روپے خرچ ہوئے لیکن تعلیم کی حالت بہتر نہیں ہوسکی۔مہتاب اکبرراشدی نے کہا کہ یہ ہماری بے حسی ہے کہ ہم تعلیم کے گرتے ہوئے معیار کے سنگین مسئلے پر توجہ نہیں دے رہے۔مسلم لیگ (فنکشنل) کے پارلیمانی لیڈر امتیازشیخ نے کہاکہ سندھ میں تعلیم کے گرتے ہوئے معیارسے متعلق اعدادو شمار ہماری آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں۔پیپلز پارٹی کی خاتون رکن خیرالنسامغل نے کہا کہ تعلیم کے شعبے کی بہتری کے لیے سندھ حکومت نے کچھ اقدامات کیے ہیں، بیوروکریسی کام نہیں کرتی۔
تحریک انصاف کے رکن خرم شیر زمان نے کہا کہ میراحلقہ کراچی کاپوش علاقہ ہے لیکن وہاں سرکاری اسکولزمیں کوئی سہولت نہیں ہے،چھٹیوں کاکلچرختم کیا جائے، دنیا میں کہیں بھی اپنے ہیروزکوخراج عقیدت پیش کرنے کے لیے چھٹیاں نہیں کی جاتیں۔ایم کیو ایم کی خاتون رکن ہیراسماعیل سوہو نے کہا کہ گھوسٹ اسکولز کی تعدادمیں اضافہ ہو رہاہے،غیر حاضر اساتذہ اپنی 50 فیصد تنخواہیں افسروں کوبطوررشوت دیتے ہیں اورگھربیٹھے50 فیصد تنخواہیں حاصل کرتے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر اور سابق وزیر تعلیم عرفان اللہ مروت نے کہاکہ تعلیم کی تباہی کا بنیادی سبب سیاسی مداخلت ہے،وزیر تعلیم کا زیادہ وقت تبادلوں اور تقرریوں سے متعلق سفارشوں سے نمٹنے میں گزرتاہے ۔ پیپلزپارٹی کے سید مرادعلی شاہ نے کہا کہ اساتذہ کی بھرتیوں میں کسی کی سیاسی مداخلت نہ ہو،میرٹ کے بغیر کسی کو نوکری نہیں ملنی چاہیے۔
واک آؤٹ سے پہلے ایم کیوایم کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈرخواجہ اظہار الحسن نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے محمد عادل کی تشددسے ہلاکت پرسخت احتجاج کیا اور کہا کہ بے گناہ نوجوانوں کی لاشیں ملنے کی وجہ سے لوگوں میں پیداہونے والا احساس محرومی اگراحساس بے گانگی میں تبدیل ہوگیا تو اس کے نتائج خطرناک ہوں گے،ہمارے 10سے زائد ساتھی ماورائے عدالت قتل ہوچکے ہیں ،یہ تمام بے گناہ لوگ تھے ،45 سے زائد کارکن لاپتہ ہیں جنھیں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں گرفتار کیا گیا ۔پی آئی بی کالونی سے لاپتہ ہونے والے ایک کارکن کی والدہ کا صدمے سے انتقال ہوگیاہے،ٹارگٹڈ آپریشن لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے لیکن یہ نامعلوم قانون نافذ کرنے والے کون ہیں؟جو قانون کی دھجیاں اڑارہے ہیں ،کون ہے ، جو اس آپریشن کے خلاف سازشیں کررہا ہے ۔
ایم کیو ایم کے ارکان کے واک آؤٹ کے بعدوزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن نے کہا کہ محمد عادل کی ہلاکت کے معاملے پر3اعلیٰ افسران پر مشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے ۔اس کمیٹی میں عبدالخالق شیخ ، عامر فاروقی اور ظفر بخاری شامل ہیں ،اگر کسی پولیس اہلکار کا جرم ثابت ہواہے تواس سے مجرم کی طرح سلوک کیا جائے گا،وزیراعلیٰ سندھ نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیاہے،کوئی شخص ایم کیو ایم کا کارکن بعدمیں ہے ،پہلے وہ انسان ہے،کسی کے ساتھ غیر انسانی سلوک نہیں ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ زیادتی کا ازالہ ہوگا ،ہمیں دوستوں کی شکایات کا احساس ہے،حکومت کی نیت صاف ہے،ہم کراچی میں امن قائم کرناچاہتے ہیں لیکن کسی کے ساتھ زیادتی بھی نہیں ہونے دیںگے۔