سینیٹ نجکاری کیخلاف اپوزیشن کا واکٹ آؤٹ گرفتاریوں پر متحدہ کا احتجاج
طالبان ہی طالبان سے مذاکرات کررہے ہیں: اعتزاز، طالبان آئین اور پاکستان کو مانتے ہیں: مشاہداللہ
مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو متبادل آپشن ہیں: بلیغ الرحمن، حیدری کی بائیکاٹ کی دھمکی، 7 بلوں پر کمیٹی کی رپورٹس پیش، اجلاس آج پھر ہوگا۔ فوٹو: فائل
سینیٹ میں بحث کے دوران اراکین نے طالبان اورحکومت مذاکرات کووقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہاکہ آپریشن مسئلے کاحل نہیں، ملک حالت جنگ میں ہے اورمسائل کے حل کے لیے سیاسی عزم کامظاہرہ کرنا ہوگا، جبکہ کراچی میں ایم کیوایم کے کارکنوں کی گرفتاریوں، ہلاکتوں اور اداروں کی نجکاری کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے واک آئوٹ کیا۔
منگل کوچیئرمین سیدنیئرحسین بخاری کی زیرصدارت اجلاس میں وقفہ سوالات معطل کرکے ملک کی سیاسی صورتحال اورامن وامان پربحث کادوبارہ آغازکیاگیا۔ پیپلزپارٹی کے کاظم خان نے کہاکہ مذاکرات یقیناً ہونے چاہئیں لیکن قوم کوبتایاجائے بات ہوکس سے رہی ہے۔ محسن لغاری نے کہاکہ الزامات عائدکرنے کی بجائے معاملات کوآگے بڑھنے دیا جاناچاہیے۔ ایم کیوایم کی نسرین جلیل نے کہاکہ کراچی میں سیاسی کارکنوں کونشانہ بنایا جارہا ہے۔ عدالتی کمیشن سے زیادتیوں کی تحقیقات کرائی جائیں۔ اے این پی کے عبدالنبی بنگش نے کہا کہ حکومتی ارکان پارلیمنٹ کوشامل کیا جاتا تو اچھا ہوتا۔ الیاس احمد بلورنے کہاہے کہ حکومت اورطالبان کے درمیان مذاکرات کاعمل اب ٹیلی ویژن کے ٹاک شوزتک پہنچ گیا ہے۔
ن لیگ کے مشاہداللہ خان نے کہاہے کہ طالبان سے مذاکرات پراعتراضات کیے جارہے ہیں۔ کیاپچھلے دورمیں سوات میں مذاکرات نہیں کیے گئے۔ بلوچستان کے معصوم لوگوں پرکس نے ٹینک لے کرچڑھائی کی۔ طالبان پاکستان اورآئین پاکستان کومانتے ہیں۔علاوہ ازیں ایوان بالاکے اجلاس کے دوران قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف اور پارلیمانی امورکے چیئرمین سینیٹرمحمدکاظم خان نے بے گناہی کے دعوئوں کے جائزے کابل 2012 دستور (ترمیمی) بل 2011(چوتھے جدول میںترمیم)، لیگل پریکٹشنرزاینڈ بارکونسلز(ترمیمی) بل2011 سپریم کورٹ آف پاکستان (کیوریٹو جورسڈکشن) بل2012 تعزیرات پاکستان (ترمیمی) بل2011 دستور (ترمیمی) بل2013 (آرٹیکل 140 الف میں ترمیم) اور دستور(ترمیمی) بل 2013 (آرٹیکل63میںترمیم) پرقائمہ کمیٹی کی رپورٹس ایوان میں پیش کی ۔بعدازاں چیئرمین نے اجلاس کل(بدھ) ساڑھے 10 بجے تک کے لیے ملتوی کردیا۔
منگل کوچیئرمین سیدنیئرحسین بخاری کی زیرصدارت اجلاس میں وقفہ سوالات معطل کرکے ملک کی سیاسی صورتحال اورامن وامان پربحث کادوبارہ آغازکیاگیا۔ پیپلزپارٹی کے کاظم خان نے کہاکہ مذاکرات یقیناً ہونے چاہئیں لیکن قوم کوبتایاجائے بات ہوکس سے رہی ہے۔ محسن لغاری نے کہاکہ الزامات عائدکرنے کی بجائے معاملات کوآگے بڑھنے دیا جاناچاہیے۔ ایم کیوایم کی نسرین جلیل نے کہاکہ کراچی میں سیاسی کارکنوں کونشانہ بنایا جارہا ہے۔ عدالتی کمیشن سے زیادتیوں کی تحقیقات کرائی جائیں۔ اے این پی کے عبدالنبی بنگش نے کہا کہ حکومتی ارکان پارلیمنٹ کوشامل کیا جاتا تو اچھا ہوتا۔ الیاس احمد بلورنے کہاہے کہ حکومت اورطالبان کے درمیان مذاکرات کاعمل اب ٹیلی ویژن کے ٹاک شوزتک پہنچ گیا ہے۔
ن لیگ کے مشاہداللہ خان نے کہاہے کہ طالبان سے مذاکرات پراعتراضات کیے جارہے ہیں۔ کیاپچھلے دورمیں سوات میں مذاکرات نہیں کیے گئے۔ بلوچستان کے معصوم لوگوں پرکس نے ٹینک لے کرچڑھائی کی۔ طالبان پاکستان اورآئین پاکستان کومانتے ہیں۔علاوہ ازیں ایوان بالاکے اجلاس کے دوران قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف اور پارلیمانی امورکے چیئرمین سینیٹرمحمدکاظم خان نے بے گناہی کے دعوئوں کے جائزے کابل 2012 دستور (ترمیمی) بل 2011(چوتھے جدول میںترمیم)، لیگل پریکٹشنرزاینڈ بارکونسلز(ترمیمی) بل2011 سپریم کورٹ آف پاکستان (کیوریٹو جورسڈکشن) بل2012 تعزیرات پاکستان (ترمیمی) بل2011 دستور (ترمیمی) بل2013 (آرٹیکل 140 الف میں ترمیم) اور دستور(ترمیمی) بل 2013 (آرٹیکل63میںترمیم) پرقائمہ کمیٹی کی رپورٹس ایوان میں پیش کی ۔بعدازاں چیئرمین نے اجلاس کل(بدھ) ساڑھے 10 بجے تک کے لیے ملتوی کردیا۔