فارن ایکسچینج کمپنیاں وبینک فارن کرنسی کی خریدو فروخت پرعائد صوبائی ٹیکس سے مستثنیٰ
فارن ایکسچینج کمپنیوں پر کرنسی کے کاروبار سے حاصل ہونیوالی آمدنی پر پہلے ہی 35 فیصد انکم ٹیکس عائد ہے.
فارن ایکسچینج کمپنیوں پر کرنسی کے کاروبار سے حاصل ہونیوالی آمدنی پر پہلے ہی 35 فیصد انکم ٹیکس عائد ہے. فوٹو : فائل
مشترکہ مفادات کونسل نے صوبوں کی طرف سے فارن ایکسچینج کمپنیوں اور بینکوں پر غیر ملکی کرنسی کی خریدو فروخت سے حاصل ہونیوالی آمدنی پر عائد کردہ سیلز ٹیکس سے چھوٹ دینے کی منظوری دیدی ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی اور سندھ ریونیو بورڈکی طرف سے ایکسچینج کمپنیوں کی طرف سے فراہم کی جانیے والی سروسز پر سولہ فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا ہے اور اس کیلیے واضح کیا تھا کہ فارن ایکسچینج کمپنیوں اور بینکوں کی طرف سے ڈالر سمیت دیگر غیر ملکی کرنسی کی خریدو فروخت میں پایا جانیوالا فرق ویٹ موڈ میں آتا ہے اور ویٹ کے اصول کے مطابق اس پر بھی ٹیکس عائد ہوتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ فارن ایکسچینج کمپنیوں پر سروسز کی فراہمی پر صوبوں کی طرف سے سیلز ٹیکس عائد ہونے کے باعث غیر ملکی کرنسی کیلیے مقرر کردہ 25 پیسے سپریڈ برقرار رکھنا مشکل ہوگیا تھا ۔
کیونکہ فارن ایکسچینج کمپنیوں پر کرنسی کے کاروبار سے حاصل ہونیوالی آمدنی پر پہلے ہی 35 فیصد انکم ٹیکس عائد ہے اور اس پر صوبوں کی طرف سے سیلز ٹیکس عائد کر دینے سے نہ صرف کرنسی کی خریدو فروخت میں فرق 25 پیسے تک محدود رکھنا مُشکل ہوگیا تھا بلکہ اس سے ڈالر کی قیمت کو نیچے لانے اور قانونی طریقے سے زرمبادلہ کی ترسیل بھی متاثر ہورہی تھی جس پر ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن نے اسٹیٹ بینک سے رجوع کیا تھاجس نے وزیراعظم کی زیر صدارت ہونیوالے سی سی آئی کے اجلاس میں مسئلہ پیش کیا گیاجس کے جائزے کے بعد ای سی سی نے اسے سیلز ٹیکس سے مُستثنٰی قرار دینے کی منظوری دی ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی اور سندھ ریونیو بورڈکی طرف سے ایکسچینج کمپنیوں کی طرف سے فراہم کی جانیے والی سروسز پر سولہ فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا ہے اور اس کیلیے واضح کیا تھا کہ فارن ایکسچینج کمپنیوں اور بینکوں کی طرف سے ڈالر سمیت دیگر غیر ملکی کرنسی کی خریدو فروخت میں پایا جانیوالا فرق ویٹ موڈ میں آتا ہے اور ویٹ کے اصول کے مطابق اس پر بھی ٹیکس عائد ہوتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ فارن ایکسچینج کمپنیوں پر سروسز کی فراہمی پر صوبوں کی طرف سے سیلز ٹیکس عائد ہونے کے باعث غیر ملکی کرنسی کیلیے مقرر کردہ 25 پیسے سپریڈ برقرار رکھنا مشکل ہوگیا تھا ۔
کیونکہ فارن ایکسچینج کمپنیوں پر کرنسی کے کاروبار سے حاصل ہونیوالی آمدنی پر پہلے ہی 35 فیصد انکم ٹیکس عائد ہے اور اس پر صوبوں کی طرف سے سیلز ٹیکس عائد کر دینے سے نہ صرف کرنسی کی خریدو فروخت میں فرق 25 پیسے تک محدود رکھنا مُشکل ہوگیا تھا بلکہ اس سے ڈالر کی قیمت کو نیچے لانے اور قانونی طریقے سے زرمبادلہ کی ترسیل بھی متاثر ہورہی تھی جس پر ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن نے اسٹیٹ بینک سے رجوع کیا تھاجس نے وزیراعظم کی زیر صدارت ہونیوالے سی سی آئی کے اجلاس میں مسئلہ پیش کیا گیاجس کے جائزے کے بعد ای سی سی نے اسے سیلز ٹیکس سے مُستثنٰی قرار دینے کی منظوری دی ہے۔