محکمہ خوراک کا خراب گندم کی 3 لاکھ بوریوں کی نیلامی کا فیصلہ
5 برسوں سے گوداموں میں گندم پڑی ہے،غیر ذمے دار ملازمین کیخلاف کارروائی کیلیے کمیٹی قائم
5 برسوں سے گوداموں میں گندم پڑی ہے،غیر ذمے دار ملازمین کیخلاف کارروائی کیلیے کمیٹی قائم۔ فوٹو: فائل
محکمہ خوراک سندھ نے صوبے کے مختلف اضلاع میں موجود خراب گندم کی 3 لاکھ بوریوں کو نیلام کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر برائے خوراک جام مہتاب حسین ڈھر نے گزشتہ 5 برسوں سے محکمہ خوراک کے مختلف گوداموں میں موجود 3 لاکھ گندم کی خراب بوریوں کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی نیلامی کے لیے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو سمری ارسال کی، وزیر اعلیٰ نے مذکورہ سمری منظور کرتے ہوئے خراب گندم کی نیلامی کے احکامات صادر کیے ہیں، یہ خراب گندم انسانی استعمال کے لیے نہیں ہے بلکہ اس سے پرندوں اور جانوروں کی خوراک تیار کی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ5 سالوں میں صوبے بھر کے گندم کے مراکز پر3 لاکھ گندم کی خراب بوریاں موجود ہیں جو وقت کے ساتھ مزید خراب ہو گئی ہیں، محکمہ خوراک کے ملوث ملازمین کے خلاف ایڈیشنل سیکریٹری فوڈ کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے، اس کمیٹی میں ڈائریکٹر فوڈ، محکمہ خزانہ کا نمائندہ اور متعلقہ ریجن کے ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ شامل ہیں، جام مہتاب نے کہا کہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر برائے خوراک جام مہتاب حسین ڈھر نے گزشتہ 5 برسوں سے محکمہ خوراک کے مختلف گوداموں میں موجود 3 لاکھ گندم کی خراب بوریوں کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی نیلامی کے لیے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو سمری ارسال کی، وزیر اعلیٰ نے مذکورہ سمری منظور کرتے ہوئے خراب گندم کی نیلامی کے احکامات صادر کیے ہیں، یہ خراب گندم انسانی استعمال کے لیے نہیں ہے بلکہ اس سے پرندوں اور جانوروں کی خوراک تیار کی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ5 سالوں میں صوبے بھر کے گندم کے مراکز پر3 لاکھ گندم کی خراب بوریاں موجود ہیں جو وقت کے ساتھ مزید خراب ہو گئی ہیں، محکمہ خوراک کے ملوث ملازمین کے خلاف ایڈیشنل سیکریٹری فوڈ کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے، اس کمیٹی میں ڈائریکٹر فوڈ، محکمہ خزانہ کا نمائندہ اور متعلقہ ریجن کے ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ شامل ہیں، جام مہتاب نے کہا کہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔