بورڈ کی نرالی منطق چیف کوچ 2 ماہ بولنگ کوچ دو سال خدمات نبھائیں گے

وقار نے سابق وکٹ کیپر کو صرف 2 ٹورز کیلیے ذمہ داریاں دینے کو ناانصافی قرار دیدیا

وقار نے سابق وکٹ کیپر کو صرف 2 ٹورز کیلیے ذمہ داریاں دینے کو ناانصافی قرار دیدیا۔ فوٹو: فائل

KARACHI:
پاکستان کرکٹ بورڈ کی مینجمنٹ کمیٹی نے نرالی منطق کے تحت ہیڈ کوچ معین خان کا تقرر تو صرف 2ماہ کیلیے کیا جبکہ بولنگ کوچ محمد اکرم کو 2 سال کا کنٹریکٹ دیدیا،انوکھے فیصلے نے وقار یونس کو بھی حیران کردیا ہے، انہوں نے سابق وکٹ کیپرکو صرف 2 ٹورز کیلیے ذمہ داریاں دینے کو ناانصافی قرار دیدیا۔


تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ کی تاریخ انوکھے فیصلوں سے بھری پڑی ہے،حال ہی میں تشکیل پانے والی مینجمنٹ کمیٹی نے ایک بڑا فیصلہ بھی عبوری کردیا، ہیڈ کوچ معین خان کا تقرر صرف 2ماہ کیلیے کیا گیا ہے، سابق کپتان کو ایشیا کپ اور ورلڈ ٹوئنٹی20 کے دوران ٹیم سے بہترین نتائج حاصل کرنے کا چیلنج دیا گیا، 2ایونٹس میں کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا، دوسری طرف سابق چیئرمین ذکا اشرف کی طرف سے بولنگ کوچ محمد اکرم کو 2 سال کا کنٹریکٹ دیے جانے کی اطلاعات تھیں، مینجمنٹ کمیٹی نے کئی تقرریاں کالعدم قرار دیں لیکن سابق پیسرکی ''خدمات'' کو ٹیم کیلیے اہم سمجھتے ہوئے اس فیصلے کو برقرار رکھا۔

اس نرالی منطق نے وقار یونس کو بھی حیران کردیا،سابق کپتان نے معین خان کو صرف 2 ٹورز کیلیے ذمہ داریاں دینے کو ناانصافی قرار دیدیا۔ انھوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتاکہ سابق وکٹ کیپر کو بھی مختصر مدت کیلیے کوچ بنائے جانے کا فیصلہ پسند آیا ہوگا،کارکردگی میں استحکام لانے کیلیے تھوڑا وقت درکار ہوتا ہے۔وقار یونس نے کوچنگ کیلیے منتخب نہ ہونے کے باوجود معین کی تقرری کو خوش دلی سے قبول کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ چند برس پاکستان کرکٹ کیلیے اچھے نہیں رہے،اب بھی ہم مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں،ان حالات میں کسی بھی معاملے پر گلے شکوے کرنے کی بجائے نئے کوچ کی مکمل سپورٹ کرتے ہوئے مل جل کر پاکستان کرکٹ کی بہتری کیلیے کام کرنا چاہیے۔ پی سی بی میں اکھاڑ پچھاڑ پر انھوں نے کہاکہ ایسے معاملات سے کھیل کو بڑا نقصان پہنچتا ہے، مسائل جتنی جلدی حل ہوجائیں اچھا ہوگا۔
Load Next Story