پاکستان آزمودہ ہتھیاروں سے ایشیا فتح کرنے کا خواہاں
سلیکشن کمیٹی آج چیف کوچ کیساتھ سر جوڑ کر بیٹھے گی،بنگلہ دیش میں ون ڈے ایونٹ کیلیےاسکواڈ میں کسی بڑی تبدیلی کاکم امکان
ورلڈ ٹوئنٹی20 کی ٹیم کو بھی حتمی شکل دے دی جائے گی، عمر اکمل کو دہری ذمہ داریوں سے آزاد کرنے کے لیے اسپیشلسٹ وکٹ کیپرکی شمولیت متوقع۔ فوٹو: محمود قریشی/فائل
پاکستان آزمودہ ہتھیاروں سے ایشیا فتح کرنے کا خواہاں ہے، رواں ماہ بنگلہ دیش میں شیڈول ون ڈے ایونٹ کیلیے اسکواڈ میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان نظر نہیں آرہا، سلیکشن کمیٹی جمعرات کو چیف کوچ معین خان کیساتھ اسلام آباد میں سر جوڑ کر بیٹھے گی، اس موقع پر ورلڈ ٹوئنٹی20 کی ٹیم کو بھی حتمی شکل دیدی جائیگی۔
عمر اکمل کو دہری ذمہ داریوں کے بوجھ سے آزاد کرنے کیلیے اسپیشلسٹ وکٹ کیپرکی شمولیت کا امکان روشن ہے، کوچ کے منظورنظر سرفراز احمدکو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ابتدائی فہرستیں تیار کرتے ہوئے دونوں کپتانوں سے مشاورت بھی کی جائیگی۔ تفصیلات کے مطابق سابق کپتان عامر سہیل کا فروری سے اپریل تک بنگلہ دیش میں شیڈول ایشیا کپ اور ورلڈ ٹوئنٹی20 کی ٹیموں کے انتخاب کا خواب پورا نہیں ہو سکا،انھیں چیف سلیکٹر کا عہدہ سنبھالنے کے صرف 2 دن بعد ہی گھر کی راہ لینا پڑگئی، اب یہ ذمہ داری اظہر خان کی زیرسربراہی سلیکشن کمیٹی کے کندھوں پر آ گئی ہے،2 سلیکٹرز اسلام آباد اور راولپنڈی میں جاری قومی ٹوئنٹی20ایونٹ کا حصہ بننے والے تمام کھلاڑیوں کی کارکردگی کا پہلے ہی کئی روز سے باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں، ون ڈے ٹیم کے کپتان مصباح الحق اور ٹوئنٹی20 ٹیم کے قائد محمد حفیظ بھی جڑواں شہروں میں موجودہیں۔
نئے ہیڈ کوچ معین خان قائم مقام چیف سلیکٹر اظہر خان کی زیرسربراہی اجلاس میں شرکت کیلیے کراچی سے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں،اہم ایونٹس کیلیے تجربات سے گریز کرتے ہوئے آزمودہ پلیئرز پر انحصار کا فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے، پلیئرز کی فارم اور فٹنس پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے کپتانوں اور کوچ کی مشاورت کے بعد فہرست حتمی منظوری کیلیے چیئرمین پی سی بی کو بھجوائی جائیگی،ٹیموں کا اعلان جمعرات شام یا جمعے کو کیے جانے کا امکان ہے۔ یاد رہے کہ ایشیا25 فروری سے بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکا میں کھیلا جائیگا۔ 8 مارچ تک جاری رہنے ایونٹ میں دفاعی چیمپئن پاکستان سمیت میزبان بنگلہ دیش، بھارت، سری لنکا اور افغانستان کی ٹیمیں ایکشن میں نظر آئینگی، افغانستان بھی پہلی بار ایونٹ میں قسمت آزمائی کریگا۔ پاکستان اور روایتی حریف بھارت کی ٹیمیں 2 مارچ کو آمنے سامنے ہوں گی۔ واضح رہے کہ گرین شرٹس ایونٹ کے دفاعی چیمپئن ہیں تاہم بنگلہ دیش کی خراب سیاسی صورتحال کی وجہ سے ایشیا کپ اور ورلڈ ٹوئنٹی 20 میں شرکت مشکوک ہو گئی تھی،اب حکومتی کلیئرنس کے بعد خدشات دور ہو چکے ہیں۔
ورلڈ 20ٹوئنٹی 16مارچ سے 6 اپریل تک بنگلہ دیش میں ہی ہوگا۔ 3 شہروں ڈھاکا، چٹاگانگ اور سلہٹ میں شیڈول ایونٹ میں مجموعی طور پر 16 ٹیمیں شریک ہونگی۔ قانون کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ایونٹس میں ٹیموں کے نام آئی سی سی کو ایک ماہ قبل بجھوانا ضروری ہوتا ہے جسکے بعد پاکستانی اسکواڈ کے اعلان کی آخری تاریخ 15 فروری ہے۔ ذرائع کے مطابق عمر اکمل کو دہری ذمہ داریوں کے بوجھ سے آزاد کرنے کیلیے ٹیم میں اسپیشلسٹ وکٹ کیپر کی شمولیت کا امکان روشن ہے، اس ضمن میں سرفراز احمد فیورٹ امیدوار نظر آتے ہیں، کوچ معین خان بھی ان کے بڑے سپورٹر ہیں۔ سلیکشن کے اس حوالے سے عبوری چیف سلیکٹر اظہر خان نے کہاکہ سلیکشن کمیٹی کا ابتدائی اجلاس جمعرات کو ہوگا، وہاں دونوں کپتان پہلے ہی موجود ہیں جبکہ ہیڈ کوچ معین خان بھی پہنچ رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کے انتخاب کے حوالے سے ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہے تاہم جو بھی فیصلے ہوئے وہ سب کی مشاورت اور ملکی مفاد میں ہونگے۔
عمر اکمل کو دہری ذمہ داریوں کے بوجھ سے آزاد کرنے کیلیے اسپیشلسٹ وکٹ کیپرکی شمولیت کا امکان روشن ہے، کوچ کے منظورنظر سرفراز احمدکو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ابتدائی فہرستیں تیار کرتے ہوئے دونوں کپتانوں سے مشاورت بھی کی جائیگی۔ تفصیلات کے مطابق سابق کپتان عامر سہیل کا فروری سے اپریل تک بنگلہ دیش میں شیڈول ایشیا کپ اور ورلڈ ٹوئنٹی20 کی ٹیموں کے انتخاب کا خواب پورا نہیں ہو سکا،انھیں چیف سلیکٹر کا عہدہ سنبھالنے کے صرف 2 دن بعد ہی گھر کی راہ لینا پڑگئی، اب یہ ذمہ داری اظہر خان کی زیرسربراہی سلیکشن کمیٹی کے کندھوں پر آ گئی ہے،2 سلیکٹرز اسلام آباد اور راولپنڈی میں جاری قومی ٹوئنٹی20ایونٹ کا حصہ بننے والے تمام کھلاڑیوں کی کارکردگی کا پہلے ہی کئی روز سے باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں، ون ڈے ٹیم کے کپتان مصباح الحق اور ٹوئنٹی20 ٹیم کے قائد محمد حفیظ بھی جڑواں شہروں میں موجودہیں۔
نئے ہیڈ کوچ معین خان قائم مقام چیف سلیکٹر اظہر خان کی زیرسربراہی اجلاس میں شرکت کیلیے کراچی سے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں،اہم ایونٹس کیلیے تجربات سے گریز کرتے ہوئے آزمودہ پلیئرز پر انحصار کا فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے، پلیئرز کی فارم اور فٹنس پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے کپتانوں اور کوچ کی مشاورت کے بعد فہرست حتمی منظوری کیلیے چیئرمین پی سی بی کو بھجوائی جائیگی،ٹیموں کا اعلان جمعرات شام یا جمعے کو کیے جانے کا امکان ہے۔ یاد رہے کہ ایشیا25 فروری سے بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکا میں کھیلا جائیگا۔ 8 مارچ تک جاری رہنے ایونٹ میں دفاعی چیمپئن پاکستان سمیت میزبان بنگلہ دیش، بھارت، سری لنکا اور افغانستان کی ٹیمیں ایکشن میں نظر آئینگی، افغانستان بھی پہلی بار ایونٹ میں قسمت آزمائی کریگا۔ پاکستان اور روایتی حریف بھارت کی ٹیمیں 2 مارچ کو آمنے سامنے ہوں گی۔ واضح رہے کہ گرین شرٹس ایونٹ کے دفاعی چیمپئن ہیں تاہم بنگلہ دیش کی خراب سیاسی صورتحال کی وجہ سے ایشیا کپ اور ورلڈ ٹوئنٹی 20 میں شرکت مشکوک ہو گئی تھی،اب حکومتی کلیئرنس کے بعد خدشات دور ہو چکے ہیں۔
ورلڈ 20ٹوئنٹی 16مارچ سے 6 اپریل تک بنگلہ دیش میں ہی ہوگا۔ 3 شہروں ڈھاکا، چٹاگانگ اور سلہٹ میں شیڈول ایونٹ میں مجموعی طور پر 16 ٹیمیں شریک ہونگی۔ قانون کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ایونٹس میں ٹیموں کے نام آئی سی سی کو ایک ماہ قبل بجھوانا ضروری ہوتا ہے جسکے بعد پاکستانی اسکواڈ کے اعلان کی آخری تاریخ 15 فروری ہے۔ ذرائع کے مطابق عمر اکمل کو دہری ذمہ داریوں کے بوجھ سے آزاد کرنے کیلیے ٹیم میں اسپیشلسٹ وکٹ کیپر کی شمولیت کا امکان روشن ہے، اس ضمن میں سرفراز احمد فیورٹ امیدوار نظر آتے ہیں، کوچ معین خان بھی ان کے بڑے سپورٹر ہیں۔ سلیکشن کے اس حوالے سے عبوری چیف سلیکٹر اظہر خان نے کہاکہ سلیکشن کمیٹی کا ابتدائی اجلاس جمعرات کو ہوگا، وہاں دونوں کپتان پہلے ہی موجود ہیں جبکہ ہیڈ کوچ معین خان بھی پہنچ رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کے انتخاب کے حوالے سے ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہے تاہم جو بھی فیصلے ہوئے وہ سب کی مشاورت اور ملکی مفاد میں ہونگے۔