معین نے ٹیم کی خامیاں دور کرنے پر نگاہیں مرکوز کرلیں
کھلاڑیوں کا مورال بلند اور مستقبل میں بہترین کارکردگی کی توقع ہے، ہیڈ کوچ
سب سے کمزور شعبے فیلڈنگ کو بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کروں گا، شعیب محمد۔ فوٹو: فائل
پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ معین خان نے قومی ٹیم کی خامیاں دور کرنے پر نگاہیں مرکوز کرلیں، ان کے مطابق کھلاڑیوں کا مورال بلند اور مستقبل میں بہترین کارکردگی کی توقع ہے۔
کراچی میں میڈیا سے بات چیت میں انھوں نے کہا کہ ٹیم کی فائٹنگ اسپرٹ میں اضافہ ہوا ہے، اس سے آئندہ کے مقابلوں میں بہتر نتائج حاصل ہونگے، سابق کپتان نے کہا کہ اس وقت ایشیا کپ اور ورلڈٹی ٹوئنٹی ہماری اولین ترجیح ہیں، ان ایونٹس میں بہترین نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے، جن شعبوں میں کمزوریاں ہیں انھیں دورکرنے کی کوشش کرینگے، گذشتہ برس دورئہ زمبابوے میں قومی ٹیم کے منیجر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے معین خان نے کہا کہ پی سی بی کی جانب سے تفویض کی جانیوالی اس ذمہ داری کو قومی فریضہ سمجھ کر انجام دینے کی کوشش کرونگا،امید ہے کہ پاکستانی ٹیم قوم کی توقعات کو پورا کریگی، دوسری جانب فیلڈنگ کوچ شعیب محمد نے کہا کہ ٹیم کا سب سے کمزور شعبہ فیلڈنگ ہے جسے بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کرونگا، انھوں نے کہا کہ پلیئرز کو پیار سے سمجھا کر فیلڈنگ بہتر کرنے کا شوق لایا جا سکتا ہے،ایشیا کپ کیلیے وقت کم ہے ، مختصر مدت میں بہتر نتائج کی کوشش کرینگے،انھوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو بیٹنگ کے شعبے میں بھی معاونت کروں گا۔
کراچی میں میڈیا سے بات چیت میں انھوں نے کہا کہ ٹیم کی فائٹنگ اسپرٹ میں اضافہ ہوا ہے، اس سے آئندہ کے مقابلوں میں بہتر نتائج حاصل ہونگے، سابق کپتان نے کہا کہ اس وقت ایشیا کپ اور ورلڈٹی ٹوئنٹی ہماری اولین ترجیح ہیں، ان ایونٹس میں بہترین نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے، جن شعبوں میں کمزوریاں ہیں انھیں دورکرنے کی کوشش کرینگے، گذشتہ برس دورئہ زمبابوے میں قومی ٹیم کے منیجر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے معین خان نے کہا کہ پی سی بی کی جانب سے تفویض کی جانیوالی اس ذمہ داری کو قومی فریضہ سمجھ کر انجام دینے کی کوشش کرونگا،امید ہے کہ پاکستانی ٹیم قوم کی توقعات کو پورا کریگی، دوسری جانب فیلڈنگ کوچ شعیب محمد نے کہا کہ ٹیم کا سب سے کمزور شعبہ فیلڈنگ ہے جسے بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کرونگا، انھوں نے کہا کہ پلیئرز کو پیار سے سمجھا کر فیلڈنگ بہتر کرنے کا شوق لایا جا سکتا ہے،ایشیا کپ کیلیے وقت کم ہے ، مختصر مدت میں بہتر نتائج کی کوشش کرینگے،انھوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو بیٹنگ کے شعبے میں بھی معاونت کروں گا۔