تاجروں کے قتل میں ملوث پولیس افسر سمیت 5 اہلکاروں کو 4 بار سزائے موت

پولیس نے خالد بن ولید روڈ پرمقابلہ ظاہر کیا اورفائرنگ کرکے کوئٹہ کے تاجروں کو قتل کردیا تھا

پولیس نے خالد بن ولید روڈ پرمقابلہ ظاہر کیا اورفائرنگ کرکے کوئٹہ کے تاجروں کو قتل کردیا تھا،مجرموں کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم۔ فوٹو: فائل

عدالت نے کوئٹہ کے تاجروں کو جعلی مقابلے میں قتل کرنے پر پولیس افسر سمیت 5 پولیس اہلکاروں کو4 بار پھانسی کی سزا سنادی۔


تفصیلات کے مطابق بدھ کو جیل حکام نے قتل اور دہشت گردی کے الزام میں گرفتار پولیس انسپکٹر ایس ایچ او ملک ارشاد حسین ،اہلکارظہور خان ، ظہیر مرزا اور نور محمد شاہ کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج بشیر احمد کھوسو کے روبرو پیش کیا تھا، سپاہی ظفر علی ضمانت پر تھا، جو وکیل کے ہمراہ عدالت میں موجود تھا،عدالت نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پانچوں ملزمان نے اجتماعی طور پر اور پکے ارادے کے ساتھ مقتولین زین الدین، محمد طاہر ،عبید اﷲ اور ابراہیم کو فائرنگ کرکے قتل کیا اور استغاثہ نے تمام شواہد عدالت میں پیش کیے،شواہد کی روشنی میں عدالت نے ملزمان کوجرم ثابت ہونے پر4 بار پھانسی دینے کا حکم دیا،مجرموں کی منقولہ وغیر منقولہ جائیداد سرکاری طور پر ضبط کرنے کا حکم دیا ، اس موقع پر اہلکار ظفر علی جو کہ ضمانت پر تھا اس کی ضمانت منسوخ اورگرفتار کرکے دیگر مجرموں کے ہمراہ جیل بھیج دیا ، استغاثہ کے مطابق 27 دسمبر2009 کو مقتولین جو کہ کوئٹہ کے معروف تاجر تھے وہ کراچی خریداری کیلیے آئے تھے۔

فیروز آباد کی خالد بن ولید روڈ پر مذکورہ مجرموں نے جعلی مقابلہ ظاہر کرکے اندھا دھند فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا، بعدازاں چاروں مقتولین کے خلاف پولیس مقابلہ، اقدام قتل اور اسلحہ ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرلیے تھے،تاجروں کے بہیمانہ قتل کے خلاف کوئٹہ میں احتجاج کیا گیا جس پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا اوراعلیٰ حکام کو فوری طلب کیا پولیس نے فوری طور پر پولیس اہلکاروں کے خلاف پہلے قتل خطا کا مقدمہ درج کیا سپریم کورٹ نے اعلیٰ افسر نیاز کھوسو کو مکمل تحقیقات کرنے اور فوری طور پر رپورٹ طلب کی تھی ،افسر نے اپنی رپورٹ میں پولیس مقابلے کو جعلی قرار دیا اور بتایا کہ مقتولین نہتے تھے پولیس نے جان بوجھ کر فائرنگ کی تھی ،سپریم کورٹ نے دہشت گردی کے تحت مقدمہ درج کرنے اور انکی گرفتاری کا حکم دیا تھا،تھانہ فیروز آباد نے عدالت عظمیٰ کے حکم پر جنوری 2010مدعی حاجی لال خان کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا تھا،دوران سماعت گواہوں کے بیانات اور میڈیکل رپورٹ، استغاثہ اورتفتیشی رپورٹ نے جرم ثابت کرنے میں مدد کی تھی۔
Load Next Story