کوئی بھی صوبائی حکومت اختیارات عوام کو منتقل کرنے کیلیے تیار نہیں سپریم کورٹ
میئر کیلیے10ہزارافراد کےحلقے کےمنتخب نمائندے اور50 ہزار کے نمائندے کاووٹ برابر ہوگا تو یہ جمہوریت کی روح کے مطابق نہیں
بتایا جائے کہ ترمیم کا مقصد کیا تھا؟،چیف جسٹس،عدالت نے بلدیاتی الیکشن کرانے کہا توحلقہ بندیاں یادآگئیں، جسٹس شیخ عظمت، ریمارکس۔ فوٹو: فائل
سپریم کورٹ نے ملک میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کاایک بارپھرنوٹس لیاہے اور آبزرویشن دی ہے کہ بلدیاتی ادارے2010میں ختم ہوچکے ہیں لیکن کسی صوبائی حکومت نے بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کا آئینی تقاضہ پورا کرنے کی زحمت نہیں کی۔
سندھ لوکل باڈیز الیکشن آرڈننس میں ترمیم کوکالعدم کرنے کے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سندھ حکومت کی اپیل کی سماعت کے دوران جسٹس شیخ عظمت سعیدنے ریمارکس دیے کہ بلدیاتی الیکشن میں تاخیرکوعدالت کے کھاتے میں نہ ڈالے کوئی بھی صوبائی حکومت اختیارات عوام کومنتقل کرنے کیلیے تیارنہیں،بلا تفریق تمام صوبائی حکومتوں کی کوشش ہے کہ وہ اختیاراپنے پاس رکھے اورکسی کواس میں شامل نہ کرے۔ فاضل جج نے کہاکہ4سال صوبائی حکومتیں سوتی رہیں اورجب عدالت نے بلدیاتی الیکشن کرانے کاکہاتو انھیں حلقہ بندیاں یادآگئیں۔عدالت نے کراچی میں یونیں وارڈکیلیے نئے حلقہ بندیوں کے بارے بھی متعدد سوالات اٹھائے اورسندھ حکومت کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ2001 اور 2013کے حلقہ بندیوں کے تقابلی جائزے کاچارٹ پیش کریں، عدالت نے آبزرویشن دی کہ میئرکے الیکشن کیلیے10ہزار افراد کے حلقے کے منتخب نمائندے اور50 ہزار کے نمائندے کاووٹ ایک برابرہوگاتویہ جمہوریت کی روح کے مطابق نہیں۔
جسٹس خلجی عارف حسین نے کہاکہ جس جلد بازی میں ترمیم کی گئی ہے اس نے ترمیم کے پیچھے مقاصد کو مشکوک بنا دیاہے،چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہاکہ عدالت کوکھل کر بتایاجائے کہ ترمیم کا مقصد کیاتھا؟۔ عدالت کے استفسارپرالیکشن کمیشن نے3 رکنی بینچ کو بتایاکہ حلقہ بندیوں کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کافیصلہ چیلنج کیاجائے گاایک2 روز میں اپیل دائرکردی جائے گی،جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ زیرغور مقدمہ بھی لاہورہائیکورٹ کے فیصلے سے متاثرہو گااس لیے اگر الیکشن کمیشن فیصلے کو چیلنج کرنا چاہتاہے تو اس میں جلدی کریں۔سندھ لوکل باڈیزالیکشن آرڈننس میں ترامیم کوکالعدم کرنے کے فیصلے کیخلاف سندھ حکومت کے وکیل فاروق نائیک نے اپنے دلائل جاری رکھے اورمؤقف اختیار کیاکہ ہائی کورٹ نے ترامیم کی کچھ شقوں کوکالعدم کیا اور باقی کو رہنے دیا،صرف کراچی کی حدتک فیصلہ دیا حالانکہ حلقہ بندیوں کیلیے جومعیارمقررکیاگیاہے اس کا اطلاق ڈسٹرکٹ کونسلوں پر بھی ہوتا ہے۔
جسٹس شیخ عظمت سعیدنے کہاکہ ایک وارڈ کیلیے ووٹرز کی تعداد10 ہزارسے بڑھا کر50 ہزارکرد ی گئی ہے ،نئی حلقہ بندیاں بھی1998کے مردم شماری کے تحت ہوئیں ،تازہ مردم شماری کے بغیرحلقہ بندیوں کی ضرورت کیسے محسوس ہوئی اس بارے میں ٹھوس مواد ریکارڈپرموجود نہیں۔فاروق نائیک نے کہاکہ1998کے مردم شماری کے بعدجو حلقہ بندیا ں ہوئیں اس میں بھی بہت زیادہ فرق موجودتھی کوئی حلقہ7 ہزار ووٹوں پرمبنی تھا تو کوئی 62ہزار پرلیکن پھر بھی جب نئی حلقہ بندیوں کی ضرورت محسوس ہوئی ہوگی توکابینہ کے کسی اجلاس میں اس پر بحث بھی ہوئی ہوگی اس میٹنگ کے منٹس بطورثبوت پیش کیے جاسکتے تھے۔جسٹس خلجی عارف حسین نے کہاکہ دیکھنا یہ ہوگاکہ نئے حلقہ بندیوں سے کراچی شہرکے میئرکاانتخاب متاثر ہوتا ہے یانہیں۔چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹرجنرل انتخابات شیرافگن کو روسٹر پر بلایا اوران سے استفسارکیاکہ لاہورہائیکورٹ کے فیصلے کے بارے میں کمیشن کاکیاموقف ہے؟ اس پر انھوں نے کہاکہ فیصلہ چیلنج کیا جائے گا،گزشتہ روز ہی فیصلے کی مصدقہ نقل حاصل کی گئی ہے۔
چیف جسٹس نے کہاکہ پھر جلدی کیاجائے کیونکہ دونوں صوبوں کاایشو ایک ہے اور زیر غورکیس اس فیصلے سے متاثرہورہاہے۔ایم کیو ایک کے وکیل فروغ نسیم نے کہاکہ لاہور ہائی کورٹ نے ایک آدمی ایک ووٹ کے اصولوں کے تحت فیصلہ کیاہے اور یہ ایک شاندار فیصلہ ہے۔فاروق نائیک نے کہا سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ انتخابی نتائج پراثر انداز ہونے کیلیے حلقہ بندیوں میں ردوبدل کیاگیاہے اس پر جسٹس شیخ عظمت سعیدنے کہاکہ اس ایشو کو سمجھنے کیلیے ہمیں ناردرن آئرلینڈکی مثال کودیکھنا ہوگاجہاں پروٹسٹنٹ کو جتوانے کیلیے کیتھو لک کے ووٹروں کو پھیلادیا جا تا تھا،کراچی کو بھی اس تناظر میں دیکھیں گے۔فاروق نائیک کاکہنا تھا آئین جمہوریت کی بات کرتاہے اور جمہوری عمل اس سے متاثر نہیں ہو تااس پرجسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا اگرکراچی شہرکیلیے میئرکا انتخاب براہ راست ہے توپھرجمہوری عمل متاثر نہیں ہو تا لیکن اگرمیئرکا انتخاب الیکٹورل کالج کے ذریعے ہوتاہے تو پھرجمہوری عمل متاثر ہوتا ہے کیونکہ10 ہزار اور50 ہزار کا نمائندہ ایک ووٹ استعمال کرے گااس سے عدم توازن پیدا ہوتاہے جوجمہوریت کی روح کے مطابق نہیں۔
فاروق نائیک نے کہامیئرکا انتخاب متاثرنہیں ہو تا،اس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا پھر تو جھگڑا ہی ختم ہوگیا،چیف جسٹس نے کہا جھگڑا ضرور ہے لیکن براہ راست اورکھل کر اس پر بات کر نے سے گریزکیا جارہا ہے،جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہاکہ انگلینڈ اور آسٹریلیا میں حلقہ بندیاں آزادکمیشن کرتا ہے لیکن یہاں جس سیاسی جماعت کی حکومت تھی اس نے اپنی مرضی کے مطابق حلقہ بندیاں کیں۔ جسٹس شیخ نے کہاکہ تاخیر کو عدالت کے کھاتے میں نہ ڈالے4 سال سے کسی صوبائی حکومت نے یہ آئینی تقاضا پورا نہیں کیا،کوئی حکومت اختیارات کی تقسیم کے لیے تیار ہی نہیں۔سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمدخان نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ حلقہ بندیوں کا جائزہ لینے کیلیے ہر صوبے میں ایک پائلٹ پروجیکٹ شروع کیاگیاتھا ،سندھ میں تجرباتی طور پر ملیرضلع کا جائزہ لیا گیا اور حلقہ بندیاں تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ ہوا۔
سندھ لوکل باڈیز الیکشن آرڈننس میں ترمیم کوکالعدم کرنے کے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سندھ حکومت کی اپیل کی سماعت کے دوران جسٹس شیخ عظمت سعیدنے ریمارکس دیے کہ بلدیاتی الیکشن میں تاخیرکوعدالت کے کھاتے میں نہ ڈالے کوئی بھی صوبائی حکومت اختیارات عوام کومنتقل کرنے کیلیے تیارنہیں،بلا تفریق تمام صوبائی حکومتوں کی کوشش ہے کہ وہ اختیاراپنے پاس رکھے اورکسی کواس میں شامل نہ کرے۔ فاضل جج نے کہاکہ4سال صوبائی حکومتیں سوتی رہیں اورجب عدالت نے بلدیاتی الیکشن کرانے کاکہاتو انھیں حلقہ بندیاں یادآگئیں۔عدالت نے کراچی میں یونیں وارڈکیلیے نئے حلقہ بندیوں کے بارے بھی متعدد سوالات اٹھائے اورسندھ حکومت کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ2001 اور 2013کے حلقہ بندیوں کے تقابلی جائزے کاچارٹ پیش کریں، عدالت نے آبزرویشن دی کہ میئرکے الیکشن کیلیے10ہزار افراد کے حلقے کے منتخب نمائندے اور50 ہزار کے نمائندے کاووٹ ایک برابرہوگاتویہ جمہوریت کی روح کے مطابق نہیں۔
جسٹس خلجی عارف حسین نے کہاکہ جس جلد بازی میں ترمیم کی گئی ہے اس نے ترمیم کے پیچھے مقاصد کو مشکوک بنا دیاہے،چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہاکہ عدالت کوکھل کر بتایاجائے کہ ترمیم کا مقصد کیاتھا؟۔ عدالت کے استفسارپرالیکشن کمیشن نے3 رکنی بینچ کو بتایاکہ حلقہ بندیوں کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کافیصلہ چیلنج کیاجائے گاایک2 روز میں اپیل دائرکردی جائے گی،جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ زیرغور مقدمہ بھی لاہورہائیکورٹ کے فیصلے سے متاثرہو گااس لیے اگر الیکشن کمیشن فیصلے کو چیلنج کرنا چاہتاہے تو اس میں جلدی کریں۔سندھ لوکل باڈیزالیکشن آرڈننس میں ترامیم کوکالعدم کرنے کے فیصلے کیخلاف سندھ حکومت کے وکیل فاروق نائیک نے اپنے دلائل جاری رکھے اورمؤقف اختیار کیاکہ ہائی کورٹ نے ترامیم کی کچھ شقوں کوکالعدم کیا اور باقی کو رہنے دیا،صرف کراچی کی حدتک فیصلہ دیا حالانکہ حلقہ بندیوں کیلیے جومعیارمقررکیاگیاہے اس کا اطلاق ڈسٹرکٹ کونسلوں پر بھی ہوتا ہے۔
جسٹس شیخ عظمت سعیدنے کہاکہ ایک وارڈ کیلیے ووٹرز کی تعداد10 ہزارسے بڑھا کر50 ہزارکرد ی گئی ہے ،نئی حلقہ بندیاں بھی1998کے مردم شماری کے تحت ہوئیں ،تازہ مردم شماری کے بغیرحلقہ بندیوں کی ضرورت کیسے محسوس ہوئی اس بارے میں ٹھوس مواد ریکارڈپرموجود نہیں۔فاروق نائیک نے کہاکہ1998کے مردم شماری کے بعدجو حلقہ بندیا ں ہوئیں اس میں بھی بہت زیادہ فرق موجودتھی کوئی حلقہ7 ہزار ووٹوں پرمبنی تھا تو کوئی 62ہزار پرلیکن پھر بھی جب نئی حلقہ بندیوں کی ضرورت محسوس ہوئی ہوگی توکابینہ کے کسی اجلاس میں اس پر بحث بھی ہوئی ہوگی اس میٹنگ کے منٹس بطورثبوت پیش کیے جاسکتے تھے۔جسٹس خلجی عارف حسین نے کہاکہ دیکھنا یہ ہوگاکہ نئے حلقہ بندیوں سے کراچی شہرکے میئرکاانتخاب متاثر ہوتا ہے یانہیں۔چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹرجنرل انتخابات شیرافگن کو روسٹر پر بلایا اوران سے استفسارکیاکہ لاہورہائیکورٹ کے فیصلے کے بارے میں کمیشن کاکیاموقف ہے؟ اس پر انھوں نے کہاکہ فیصلہ چیلنج کیا جائے گا،گزشتہ روز ہی فیصلے کی مصدقہ نقل حاصل کی گئی ہے۔
چیف جسٹس نے کہاکہ پھر جلدی کیاجائے کیونکہ دونوں صوبوں کاایشو ایک ہے اور زیر غورکیس اس فیصلے سے متاثرہورہاہے۔ایم کیو ایک کے وکیل فروغ نسیم نے کہاکہ لاہور ہائی کورٹ نے ایک آدمی ایک ووٹ کے اصولوں کے تحت فیصلہ کیاہے اور یہ ایک شاندار فیصلہ ہے۔فاروق نائیک نے کہا سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ انتخابی نتائج پراثر انداز ہونے کیلیے حلقہ بندیوں میں ردوبدل کیاگیاہے اس پر جسٹس شیخ عظمت سعیدنے کہاکہ اس ایشو کو سمجھنے کیلیے ہمیں ناردرن آئرلینڈکی مثال کودیکھنا ہوگاجہاں پروٹسٹنٹ کو جتوانے کیلیے کیتھو لک کے ووٹروں کو پھیلادیا جا تا تھا،کراچی کو بھی اس تناظر میں دیکھیں گے۔فاروق نائیک کاکہنا تھا آئین جمہوریت کی بات کرتاہے اور جمہوری عمل اس سے متاثر نہیں ہو تااس پرجسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا اگرکراچی شہرکیلیے میئرکا انتخاب براہ راست ہے توپھرجمہوری عمل متاثر نہیں ہو تا لیکن اگرمیئرکا انتخاب الیکٹورل کالج کے ذریعے ہوتاہے تو پھرجمہوری عمل متاثر ہوتا ہے کیونکہ10 ہزار اور50 ہزار کا نمائندہ ایک ووٹ استعمال کرے گااس سے عدم توازن پیدا ہوتاہے جوجمہوریت کی روح کے مطابق نہیں۔
فاروق نائیک نے کہامیئرکا انتخاب متاثرنہیں ہو تا،اس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا پھر تو جھگڑا ہی ختم ہوگیا،چیف جسٹس نے کہا جھگڑا ضرور ہے لیکن براہ راست اورکھل کر اس پر بات کر نے سے گریزکیا جارہا ہے،جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہاکہ انگلینڈ اور آسٹریلیا میں حلقہ بندیاں آزادکمیشن کرتا ہے لیکن یہاں جس سیاسی جماعت کی حکومت تھی اس نے اپنی مرضی کے مطابق حلقہ بندیاں کیں۔ جسٹس شیخ نے کہاکہ تاخیر کو عدالت کے کھاتے میں نہ ڈالے4 سال سے کسی صوبائی حکومت نے یہ آئینی تقاضا پورا نہیں کیا،کوئی حکومت اختیارات کی تقسیم کے لیے تیار ہی نہیں۔سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمدخان نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ حلقہ بندیوں کا جائزہ لینے کیلیے ہر صوبے میں ایک پائلٹ پروجیکٹ شروع کیاگیاتھا ،سندھ میں تجرباتی طور پر ملیرضلع کا جائزہ لیا گیا اور حلقہ بندیاں تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ ہوا۔