احتساب نہ ہونا بڑی ناکامی

ہم حکومت اورحزب اختلاف میں بھی ایسا کوئی اتحادنہیں دیکھتے جوواقعی احتساب کے نظام کومضبوط بنانے کاخواہش مند نظرآتا ہو

ہم حکومت اورحزب اختلاف میں بھی ایسا کوئی اتحادنہیں دیکھتے جوواقعی احتساب کے نظام کومضبوط بنانے کاخواہش مند نظرآتا ہو۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
وزیر اعظم عمران خان نے اپنی حکومت کے لیے آیندہ تین ماہ کو اہم قرار دیا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ حکومت اتحادیوں کے ساتھ مل کر پانچ سال پورے کرے گی۔ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد لانا چاہتی ہے تو ضرور لے آئے۔

جمعرات کو اپنے ایک انٹرویو میں انھوں نے احتساب نہ ہونے کو اپنی حکومت کی بڑی ناکامی قرار دیا اور کہا کہ شہباز شریف کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں لیکن تمام تر شواہد کے باوجود یہ لوگ بچ کر نکل رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی حکومت کے فوجی قیادت کے ساتھ مثالی تعلقات ہیں البتہ آرمی چیف کو مزید توسیع دینے سے متعلق ابھی نہیں سوچا کیونکہ نیا سال ابھی شروع ہوا ہے، نومبر ابھی کافی دور ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں مہنگائی کوکنٹرول کرنا ہوگا۔

ملکی سیاسی صورتحال میں ڈرامائی موڑ آنے پر سیاسی مبصرین میں سیاسی حالات کے مستقبل کے حوالہ سے قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کی تحقیقات اپنے کلائمکس تک گزشتہ روز پہنچی اور اس کی رپورٹ نے منظر عام پر آتے ہی سیاسی بھونچال پیدا کردیا۔ قانونی ماہرین کو اندازہ تھا کہ فارن فنڈنگ کیس کسی نہ کسی روز منطقی نتیجہ تک ضرور پہنچے گا۔

اب اس حوالے سے کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی کہ مستقبل میں کیا ہو گا البتہ اپوزیشن لیڈروں نے وزیراعظم پر تنقید کے نشتر چلائے ہیں اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن اور دیگر پارٹیوں کی فنڈنگ پر بھی تحقیقات کی جانی چاہئیں۔

حکومتی وزراء فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے کہہ رہے ہیں کہ اس معاملے میں تحریک انصاف سرخرو ہوئی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو اس حوالے سے دونوں طرف سے بیان بازی ہو رہی ہے۔ لیکن اصل مسئلہ تب ہی حل ہو گا جب فارن فنڈنگ کیس کا حتمی فیصلہ سامنے آ جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان کا یہ کہنا کہ تین ماہ اہم ہیں خاصا معنی خیز ہے۔

انھوں نے تین ماہ اہم ہونے کی بات کس تناظر میں کہی ہے' اس کے حوالے سے پوری طرح وضاحت تو وہ خود ہی کر سکتے ہیں تاہم سیاسی مبصرین اپنی اپنی من مرضی کی تعبیر و تشریح کر رہے ہیں۔ جہاں تک تین ماہ اہم ہونے کی بات ہے تو اس حوالے سے وزیراعظم کے انٹرویو میں کی گئی تمام باتوں کو مدنظر رکھ کر دیکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ ملک میں اندرونی محاذ پر جو قانونی اور سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں ان کے نتائج بھی خاصے اہم ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم کا یہ کہنا کہ حکومت کی سب سے بڑی ناکامی احتساب کا نہ ہونا ہے۔

اس اعتبار سے درست ہے کہ ان کے دور حکومت میں اپوزیشن کے رہنماؤں پر کرپشن کے مقدمات تاحال کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن رہنما حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ احتساب کی آڑ میں انھیں یک طرفہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے،اگر انھوں نے کوئی کرپشن کی ہوتی تو گزشتہ تین سال سے ان کے خلاف جو احتساب کیا جا رہا ہے اس کا کوئی نہ کوئی تو نتیجہ برآمد ہو چکا ہوتا۔یہی وہ نقطہ ہے جو حکومت کے خلاف جا رہا ہے اور اپوزیشن کو صفائی کا بھرپور موقع ملا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے بطور اپوزیشن رہنما عوام کو بڑے تواتر سے یہ یقین دلایا تھا کہ وہ برسراقتدار آ کر کرپٹ عناصر سے لوٹی ہوئی دولت واپس لیں گے اور انھیں سزا بھی دلوائیں گے۔ ان کی حکومت نے اپنے طور پر تو خاصی کوشش بھی کی ہے لیکن قوانین کے گورکھ دھندوں کی وجہ سے مقدمات طوالت کا شکار ہوگئے ہیں اور ملزمان پر جرم ثابت کرنا بھی قانونی اعتبار سے خاصا مشکل ہو رہا ہے۔

شاید وزیراعظم کا اشارہ ان مشکلات کی جانب ہے۔ اگر قانونی طور پر کوئی مشکلات ہیں تو اسے دور کرنا بھی حکومت کا کام ہے تاکہ احتساب کا عمل طوالت پکڑنے کے بجائے جلد از جلد اپنے انجام کو پہنچے اور جن لوگوں نے کرپشن کی ہے انھیں قانون کی گرفت میں لایا جائے۔مقدمات میں بے جا طوالت کا فائدہ ہمیشہ مدعا علیہ کو پہنچتا ہے۔

پاکستان میں سرکاری خزانے کو اعلیٰ سطح پر ذاتی اثاثے بنانے میں استعمال کرنے کا کلچر خاصا پرانا ہے۔ اعلیٰ سطح پر کرپشن کا آغاز قیام پاکستان کے بعد زمینوں کی الاٹمنٹ کے نام پر ہوا۔ سرکاری زمینوں کو حکمران اشرافیہ نے بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے قریبی عزیزوں' دوستوں اور اپنے وفادار کارندوں میں تقسیم کیا جب کہ متروکہ املاک کی الاٹمنٹ میں گھپلوں کے لیے ایسے قوانین بنائے جن کے ذریعے اعلیٰ افسران اور حکمرانوں کو کلی اختیارات دیے گئے۔


سرکاری زمینوں اور متروکہ املاک کی الاٹمنٹوں کے حوالے سے یہ سلسلہ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔ اسی طرح سرکاری بینکوں سے چند طاقتور گھرانوں نے قرضے کے نام پر کروڑوں اور پھر اربوں روپے حاصل کیے۔ ان خاندانوں کا تعلق چونکہ حکمران اشرافیہ کے ساتھ تھا اور اب بھی ہے' انھی تعلقات، عزیز داریوں' دوستیوں اور مفادات کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے اربوں روپے کے یہ قرضے ری شیڈول ہوتے رہے' یا رائٹ آف یعنی معاف کر دیے گئے ۔ جن گھرانوں نے قرضے واپس بھی کیے تو ان پر عائد مارک اپ وغیرہ یا تو انتہائی کم کرایا گیا یا مارک اپ معاف کرا کر اصل رقم واپس کر دی گئی۔

اس وائٹ کالر کرپشن نے پاکستان میں امراء کی ایسی کلاس کو پروان چڑھایا جس کی عمارت ان کی محنت کے بجائے سرکار کی مراعات اور نوازشات کی وجہ سے قائم ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی حکمران اشرافیہ اپنے غلط کاموں کو بھی جائز اور درست سمجھتی ہے۔ اسی لیے پاکستان میں احتساب کا صرف نام لیا جاتا ہے لیکن احتساب کے قانونی عمل کو غیر مبہم اور براہ راست بنانے کا کام کسی نے نہیں کیا۔

وزیراعظم عمران خان کا یہ کہنا بجا ہے کہ ان کی حکومت کی بڑی ناکامی احتساب کا نہ ہونا ہے لیکن انھیں ان وجوہات کو دور کرنے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے احتساب نہیں ہو سکا۔ جب تک حکمران اشرافیہ اور نوکر شاہی کے صوابدیدی اور استحقاقی اختیارات ختم نہیں کیے جاتے کرپشن اور سرکاری خزانے کا غلط استعمال روکا نہیں جا سکتا۔ عوام کے منتخب نمایندے جب اپنی تنخواہیں' مراعات اور استحقاق کے لیے واویلا کریں گے تو وہ نوکر شاہی کو مراعات اور استحقاق سے کیسے روک سکتے ہیں۔

ہمارے ہاں یورپ کی ترقی کی مثال دی جاتی ہے یا چین کی ترقی کی مثال دی جاتی ہے اور پھر انتہائی پشیمانی اور ندامت کے انداز میں کہہ دیا جاتا ہے کہ کاش ہم بھی اسی طرح ترقی کرتے لیکن حکمران اشرافیہ نے اپنا احتساب خود نہیں کیا۔ برطانیہ کا وزیراعظم کسی کو سرکاری جائیداد الاٹ کر سکتا ہے اور نہ ہی کوئی ترقیاتی منصوبہ اپنے کسی دوست کو دے سکتا ہے جب کہ پاکستان میں صدر' وزیراعظم' گورنر حضرات' چیئرمین سینیٹ' قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اسپیکرز کے اپنے اپنے استحقاق مراعات اور اختیارات ہیں۔

اسی طرح اداروں کے سربراہان اور بیورو کریسی کی اپنی مراعات، تنخواہیں اور استحقاق ہے۔ اگر کسی کا کوئی استحقاق' مراعات یا وظیفہ نہیں ہے تو وہ اس ملک کے ٹیکس پیئرز ہیں۔ ٹیکس پیئرز کا کام صرف ہر قسم کا سرکاری ٹیکس ادا کرنا ہے' انھیں اپنے اس ٹیکس کے پیسوں کے استعمال کے بارے میں سوال کرنے کا حق بھی نہیں ہے۔

بدقسمتی سے ہم حکومت اور حزب اختلاف میں بھی ایسا کوئی اتحاد نہیں دیکھتے جو واقعی احتساب کے نظام کو مضبوط بنانے کا خواہش مند نظر آتا ہو۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمیں نہ تو موثر پالیسی یا قانون سازی دیکھنے کو ملتی ہے نہ اس میں جو بھی سیاسی، انتظامی اور قانونی رکاوٹیں ہیں اس کا خاتمہ نظر آتا ہے۔

جب تک ہم اداروں کو سیاسی، انتظامی اور قانونی طور پر خود مختار نہیں بناتے تو شفاف احتساب کیسے ممکن ہوگا یہ ہماری سیاست، پارلیمنٹ اور نام نہاد جمہوری نظام کی ناکامی ہے کہ ہم احتساب کا موثر نظام قائم نہیں کرسکے یا یہ ہماری ترجیحات میں کسی بھی طور پر بالادست نہیں۔

شاعر مشرق اقبال نے کہا

نگاہ عیب گیری سے جو دیکھا اہل عالم کو
کوئی کافر، کوئی فاسق،کوئی زندیق اکبر تھا

مگر جب ہوگیا دل احتساب نفس پر مائل
ہوا ثابت کہ ہر فرزند آدم مجھ سے بہتر تھا
Load Next Story