کراچی سے چوری شدہ گاڑیوں کا ڈیرہ بگٹی میں کرایے پر چلنے کا انکشاف
کراچی سے چھینی یا چوری کی گئیں گاڑیاں ماہانہ سوا سے پونے دو لاکھ روپے کرایے پر دی جاتی ہیں، اے وی سی ایل سی
لگثری گاڑیاں بلوچستان کی بااثر شخصیات کے بھی زیر استعمال ہیں، ایس ایس پی (فائل فوٹو)
کراچی:
شہر قائد کے مختلف علاقوں سے چھینی یا چوری کی گئی کروڑوں روپے مالیت کی لگژری گاڑیاں بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں سوا لاکھ سے پونے دو لاکھ روپے ماہانہ کرایے پر دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل کے ایس ایس پی بشیر بروہی نے آئی جی سندھ کو بھیجے جانے والے خط میں انکشاف کیا کہ شارع نور جہاں پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے دہشت گرد منظور عرف بافو، شوکت عرف برکت نے دورانِ تفتیش گاڑیوں کو بلوچستان لے جاکر فروخت کرنے کا انکشاف کیا۔ ملزم منظور اس سے قبل 35 مقدمات میں گرفتار ہوچکا ہے۔
پولیس افسر کے مطابق ملزمان نے دورانِ تفتیش انکشاف کیا کہ وہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ شہر سے لگژری گاڑیاں چھین کر بلوچستان کے علاقے سوئی ڈیرہ بگٹی لے جا کر سجاول نامی شخص سمیت مختلف خریداروں کو فروخت کر دیتے تھے جس کے بعد ان گاڑیوں کے انجن، پلیٹ نمبر اور رنگ تبدیل کر کے جعلی کاغذات بنائے جاتے اور پھر انہیں کمپنیوں کو کرایے پر دیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: گھروں کے سامنے کھڑی گاڑیاں چوری ہونے کے واقعات بڑھ گئے
ایس ایس پی کے مطابق تفتیش میں ملزم نے بتایا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران چھینی گئی گاڑیاں ڈیرہ بگٹی میں قائم دو کمپنیز کو 1 لاکھ 25 ہزار سے 1 لاکھ 75 ہزار روپے تک ماہانہ کرایے پر دی گئیں۔ ان کمپنیز کے مرکزی دفاتر اسلام آباد میں ہیں۔
ایس ایس پی نے بتایا کہ ان گاڑیوں کا ریکارڈ حاصل کرکے مذکورہ کمپنیز کو بھی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ خط میں آئی جی سندھ سے درخواست کی گئی ہے کہ متعلقہ حکام کی مدد سے مذکورہ کمپنیز سے 2017 سے 8 اکتوبر 2021 تک تمام گاڑیوں کا ریکارڈ طلب کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی سے لگژری گاڑیاں چوری کرکے بلوچستان لے جانے والا گرفتار
پولیس ذرائع کا کہنا ہے اس حوالے سے متعلقہ حکام کو بذریعہ خط آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی سے چھینی یا چوری کی گئیں نئی اور لگژری گاڑیوں کی بلوچستان ڈیرہ بگٹی میں مخصوص خریداروں کے علاوہ بااثر افراد کے بھی ملوث ہونے کے کچھ شواہد ملے جبکہ یہ بات بھی سامنے آئی کہ ان گاڑیوں کو سوا لاکھ سے پونے دو لاکھ روپے کرایے پر دیا جاتا ہے۔
شہر قائد کے مختلف علاقوں سے چھینی یا چوری کی گئی کروڑوں روپے مالیت کی لگژری گاڑیاں بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں سوا لاکھ سے پونے دو لاکھ روپے ماہانہ کرایے پر دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل کے ایس ایس پی بشیر بروہی نے آئی جی سندھ کو بھیجے جانے والے خط میں انکشاف کیا کہ شارع نور جہاں پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے دہشت گرد منظور عرف بافو، شوکت عرف برکت نے دورانِ تفتیش گاڑیوں کو بلوچستان لے جاکر فروخت کرنے کا انکشاف کیا۔ ملزم منظور اس سے قبل 35 مقدمات میں گرفتار ہوچکا ہے۔
پولیس افسر کے مطابق ملزمان نے دورانِ تفتیش انکشاف کیا کہ وہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ شہر سے لگژری گاڑیاں چھین کر بلوچستان کے علاقے سوئی ڈیرہ بگٹی لے جا کر سجاول نامی شخص سمیت مختلف خریداروں کو فروخت کر دیتے تھے جس کے بعد ان گاڑیوں کے انجن، پلیٹ نمبر اور رنگ تبدیل کر کے جعلی کاغذات بنائے جاتے اور پھر انہیں کمپنیوں کو کرایے پر دیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: گھروں کے سامنے کھڑی گاڑیاں چوری ہونے کے واقعات بڑھ گئے
ایس ایس پی کے مطابق تفتیش میں ملزم نے بتایا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران چھینی گئی گاڑیاں ڈیرہ بگٹی میں قائم دو کمپنیز کو 1 لاکھ 25 ہزار سے 1 لاکھ 75 ہزار روپے تک ماہانہ کرایے پر دی گئیں۔ ان کمپنیز کے مرکزی دفاتر اسلام آباد میں ہیں۔
ایس ایس پی نے بتایا کہ ان گاڑیوں کا ریکارڈ حاصل کرکے مذکورہ کمپنیز کو بھی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ خط میں آئی جی سندھ سے درخواست کی گئی ہے کہ متعلقہ حکام کی مدد سے مذکورہ کمپنیز سے 2017 سے 8 اکتوبر 2021 تک تمام گاڑیوں کا ریکارڈ طلب کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی سے لگژری گاڑیاں چوری کرکے بلوچستان لے جانے والا گرفتار
پولیس ذرائع کا کہنا ہے اس حوالے سے متعلقہ حکام کو بذریعہ خط آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی سے چھینی یا چوری کی گئیں نئی اور لگژری گاڑیوں کی بلوچستان ڈیرہ بگٹی میں مخصوص خریداروں کے علاوہ بااثر افراد کے بھی ملوث ہونے کے کچھ شواہد ملے جبکہ یہ بات بھی سامنے آئی کہ ان گاڑیوں کو سوا لاکھ سے پونے دو لاکھ روپے کرایے پر دیا جاتا ہے۔