طالبان کا نام لیتے ہوئے پولیس افسران کی ٹانگیں کانپتی ہیں قائد ایم کیوایم الطاف حسین
پولیس بس پر حملے کے واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، قائد ایم کیوایم الطاف حسین. فوٹو: فائل
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کا کہنا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے آغاز سے ہی دہشت گردی اور ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے جب کہ طالبان کا نام لیتے ہوئے پولیس افسران کی ٹانگیں کانپتی ہیں۔
الطاف حسین کی زیر صدارت رابطہ کمیٹی لندن اور پاکستان کے ارکان کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں متفقہ طور پرکراچی میں پولیس اہلکاروں کی بس پر حملے کی شدید مذمت کی گئی اس موقع پر الطاف حسین کا کہنا تھا کہ طالبان نے پولیس قافلے پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی اگر ادارے شہریوں کو تحفظ نہ دیں سکیں تو کس سے فریاد کی جائے، وقت آگیا ہے کہ حکومت شہریوں کے تحفظ کے لئے ٹھوس فیصلے کرے جبکہ طالبان کا نام لیتے ہوئے پولیس افسران کی ٹانگیں کانپتی ہیں۔
ایم کیو ایم کے قائد نے کہا کہ جس دن سے طالبان سے مذاکرات کاآغاز ہوا ہے اس دن سے بم دھماکوں اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سمیت بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے اور کراچی میں پولیس کی بس پر دہشت گردی کاواقعہ بھی پاکستان میں جاری دہشت گردی کے بڑے واقعات میں سے ایک ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔
الطاف حسین نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مسلح افواج ، سیکیورٹی فورسز، قانون نفاذ کرنے والے ادارے اور عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گرد ملک و قوم کے کھلے دشمن ہیں۔ انہوں نے صدرمملکت ممنون حسین ، وزیراعظم نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان سے مطالبہ کیا کہ رزاق آباد بم دھماکے میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف سخت اقدامات عمل میں لائے جائیں، عوام کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنایاجائے اور بم دھماکوں کی مذموم کارروائیوں میں ملوث سفا ک دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔